اپنا اپنا حساب

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق پاکستان کے حالات بھی سدھرنے کی بجائے ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ الجھتے جا رہے ہیں استحکام دور دور تک نظر نہیں آرہا دو باتیں واضح ہیں موجودہ حکومت رہے، نگران حکومت بن جائے عمران خان کی حکومت آجائے جلد یا بدیر الیکشن ہوں ہمیں شدید ترین مہنگائی کا سامنا کرنا ہی پڑے گا دوسرا جو کچھ ہم کر بیٹھے ہیں کم از کم ایک سال تک ہمیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ایک سال تک بڑی مشکل سے استحکام آئے گا وہ بھی اس صورت میں کہ ہم اپنی اناوں کو دفن کر کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے تعاون کریں ورنہ سیاستدانوں نے جو سیاسی دشمنیاں پیدا کر لی ہیں اور اپنی ضدوں سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں یہ سیاسی کشیدگی خطرناک صورتحال سے دو چار کر سکتی ہے بنیادی طور پر ہمارے سیاستدانوں کو ریفری کے بغیر کھیلنا نہیں آتا عدالتیں اس میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں لیکن عدالتیں قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن یہ لوگ قانون سے ہانکے جانے کے عادی نہیں یہ ڈنڈے کے یار ہیں یہ ایک بار پھر ثابت کر رہے ہیں کہ ہم اس قابل نہیں ہیں یہ آپس میں لڑ لڑ کر مر جائیں گے لہذا پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچنے سے پہلے ہی کسی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سیاسی آئینی بحران اس قدر شدید ہو چکا ہے کہ کوئی بھی حکومت پر فارم کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے فوری طور ایسی راہ نکالی جائے کہ معاملات نگران حکومت کے حوالے کر کے انھیں ریسکیو کرنے کے اختیارات دیے جائیں حالات یہ ہیں کہ پنجاب کے 25 ارکان ڈی سیٹ ہونے کے بعد پنجاب میں کسی جماعت یا اتحاد کے حکومت کرنے کی مطلوبہ تعداد موجود نہیں اصولی طور پر پنجاب میں کوئی بھی حکومت کرنے کے قابل نہیں اب اگر کسی کا اقتدار قائم رکھا جاتا ہے یا کسی اور کو اقتدار دیا جاتا ہے تو وہ چل نہیں پائے گا 16 اپریل کے بعد آج تک پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو سکا حمزہ شہباز کے وزیر اعلی بننے کے باوجود ابھی تک ان کی حکومت نہیں بن سکی کئی روز سے پنجاب کا کوئی آئینی سربراہ نہیں 25 ارکان کے ڈی سیٹ ہونے پر صورتحال اور پچیدہ ہو گئی ہے تحریک انصاف کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جن انتخابات کے نتیجے میں حمزہ شہباز وزیر اعلی منتخب تصور کیے جا رہے ہیں ایک تو وہ زبردستی کے انتخاب تھے دوسرا عدالت اور الیکشن کمشن کے فیصلے کے بعد ان کی کوئی حیثیت نہیں اب از سر نو الیکشن ہوں گے اگر ازسر نو الیکشن ہوتے ہیں تو وزیر اعلی بننے کے لیے امیدوار کو 186 ارکان کی حمایت درکار ہو گی جو کہ کوئی بھی امیدوار حاصل نہیں کر سکے گا تو الیکشن کا دوسرا راونڈ ہو گا دوسرے راونڈ میں بھی دلچسپ صورتحال ہے دونوں دھڑے اپنے اپنے حساب لگا کر اپنی اکثریت واضح کر رہے ہیں لیکن اصل صورتحال یہ ہے کہ اپریل میں جو پوزیشن مسلم لیگ ن اور ان کے اتحادیوں کو حاصل تھی وہی اب تحریک انصاف اور ق لیگ کو حاصل ہو چکی تھی اس وقت مسلم لیگ ن کا ٹکٹ فروخت ہو رہا تھا اب تحریک انصاف کا ٹکٹ بک رہا ہے اس وقت ارکان اسمبلی کو لگ رہا تھا کہ ن لیگ کے ٹکٹ پر وہ باآسانی جیت جائیں گے یہ پوزیشن اب تحریک انصاف کے ہاتھ لگ گئی ہے اب ن لیگ کے اراکین کہتے ہیں ہمیں ٹکٹ کی یقین دہانی کروائیں اور ہم سے جو مرضی کروا لیں اب کوئی دوسری جماعت کا ووٹ تو نہیں لے سکتا لیکن ایک راستہ کھلا ہے کہ اگر کچھ ارکان اپنا ووٹ استعمال نہ کریں تو وہ قانونی طور پر بھی محفوظ رہ سکتے ہیں اور ووٹ کا حق استعمال نہ کر کے امیدوار کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اس وقت پنجاب اسمبلی کا ایوان 371 سے کم ہو کر 346 کا رہ گیا ہے اس میں مسلم لیگ ن کے 165 پیپلزپارٹی کے 7 راہ حق کے 1،اور 4آزاد ممبران ہیں یہ ٹوٹل 177 بنتے ہیں ان میں سے اگر 4لوگ جنھوں نے پہلے بھی حمزہ شہباز کو ووٹ نہیں دیا انھیں نکال دیا جائے تو 173 باقی بچتے ہیں دوسری طرف تحریک انصاف کے 25 ارکان کم ہو کر اب 158 باقی رہ گئے ہیں 10 ق لیگ کے ہیں 5ارکان جو مخصوص نشستوں والے ڈی سیٹ ہونے ہیں ان کی جگہ پر اگر نئے لوگ آجاتے ہیں تو چوہدری پرویز الہی کے پاس بھی 173 ارکان ہو جاتے ہیں ایسے میں فیصلہ کن ووٹ چوہدری نثار کا ہو گا چوہدری نثار جسے چاہیں وزیر اعلی بنوا سکتے ہیں لیکن اس کا فیصلہ بھی الیکشن کمیشن یا عدالت کرے گی کہ 20 ارکان کے ضمنی الیکشن ہونے کے بعد مخصوص نشستوں کو تعین کیا جائے گا یا پہلے سے موجود پارٹی پوزیشن پر فیصلہ کر دیا جائے گا یہ اتنا گھمبیر معاملہ ہے کہ اس صورتحال میں فوری طور پر کوئی بھی حکومت قائم نہیں ہو سکتی اس کے علاوہ حمزہ شہباز کے الیکشن کو جو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اس پر عدالت نے معاونت طلب کر لی ہے اس کی سماعت 25 مئی کو ہے جبکہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن فائل کی ہوئی ہے جس کی سماعت بھی 25 مئی کو ہو گی اس پر لارجر بنچ بن چکا ہے کسی بھی وقت کوئی فیصلہ آسکتا ہے عمران خان نے بھی 25 سے 29 مئی کے دوران اسلام آباد مارچ کی کال کا اعلان کر دیا ہے ایسے لگتا ہے کہ ان کو کہیں سے آس ہے کہ 25 مئی سے قبل الیکشن کا فیصلہ ہو جائے گا انھیں یہ یقین ہو چلا ہے کہ کہیں الیکشن کروانے کا فیصلہ ہو چکا ہے

حکومت جو کہ انتہائی کمزور وکٹ پر کھڑی ہے صرف یہ چاہتی ہے کہ اسے تھوڑا سا موقع دیا جائے کہ وہ آئیندہ الیکشن کے لیے آلائنمنٹ کر لےوہ یہ بھی تاثر دے رہے ہیں کہ انھیں فوری الیکشن پر مجبور کیا جا رہا ہے لیکن حکومت خود بھی تذبذب کا شکار ہے مسلم لیگ ن کے اندر سے میاں نواز شریف، مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی فوری طور پر الیکشن کے حق میں ہیں میاں شہباز شریف کے ہاتھ پاؤں باندھ کر بھوکے شیروں کے سامنے پھینک دیا گیا ہے انھیں توقع نہ تھی کہ حالات اتنی جلدی پلٹا کھا جائیں گے وہ اس لیے بڑے فیصلے نہیں کر پا رہے کہ انھیں خود یقین نہیں کہ ان کی حکومت کتنے دن چلے گی ایک ووٹ پر قائم حکومت میں شامل ق لیگ جب چاہے اپنے دو ارکان کو واپس بلا لے اور حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے کسی بھی کیس میں میاں شہباز شریف کو سزا ہو جائے اور ان کی حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے قاسم سوری کی نظرثانی کی اپیل پر فیصلہ کی صورت میں عمران خان کی حکومت بحال ہو جائے کوئی اتحادی کسی بھی وقت حکومت سے ناراض ہو کر اسے چھوڑ سکتا ہے ایسے میں صدر مملکت کسی بھی وقت میاں شہباز شریف کو اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتے ہیں ہونے کو بہت کچھ ہو سکتا ہے اور کچھ بھی نہیں ہو سکتا یہ بھی واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے صدارتی ریفرنس کی تشریح کے فیصلہ جس میں منحرف اراکین کے ووٹ کو شامل نہ کرنے کے فیصلہ، ہائی پروفائل کیسوں کے تفتیشی افسروں پراسیکویشن اور اہم انتظامی افسروں کی تبدیلی کو روکنے ای سی ایل بارے وضاحت نے اور پنجاب کے 25 ارکان اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے نے حکومتی اتحادیوں کو بہت ڈمیج کیا ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر عدالت نے منحرف اراکین کے ووٹ کا فیصلہ عدم اعتماد کی تحریک سے پہلے کیا ہوتا تو آج یہ بحران پیدا نہ ہوتے اور نہ ہی حکومتیں تبدیل ہوتیں بہر حال ان فیصلوں نے تحریک انصاف کی موومنٹ کو ایک نئی جلا بخشی ہے کہا جا رہا ہے کہ اگلا ہفتہ بڑا اہم ہے اگلے ہفتے ہی فیصلہ ہو جائے گا کہ الیکشن کب ہونے ہیں