کوۂ نور ہیرا تاریخ کے آئینے میں

ٹاورآف لندن برطانیہ کے ایک ہزار آٹھ سو عجائب گھروں (میوزیمز) میں سے ایک منفرد عجائب گھر ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں شاہی خاندان کے نوادرات اور جواہرات محفوظ ہیں۔ سنٹرل لندن میں ٹاور برج کے ساتھ اس عجائب گھر کی عمارت میں ملکہ برطانیہ کے قیمتی تاج اور زیوارات کے علاوہ کوہ نور بھی موجود ہے۔ 105.6قیراط کے اس ہیرے کی ملکیت کے دعویدار پاکستان، بھارت، افغانستان اور ایران ہیں۔ دنیا کے سب سے مشہور تراشے ہوئے اس ہیرے کے بارے میں برطانیہ کے شاہی خاندان کا خیال ہے کہ یہ منفرد اور بے حد قیمتی ہیرا مردوں کے لئے بدشگونی کی علامت ہے۔ اسی لئے اس ہیرے کو صرف ملکہ برطانیہ کے تاج کی زینت بنایا جاتا ہے۔ کوہ نور سلطان علاؤ الدین خلجی سے ملکہ ایلزبتھ تک کیسے پہنچایہ ایک لمبی داستان ہے اور دنیا کے 4مذکورہ بالا ملک اس کی ملکیت کا دعویٰ کیوں کرتے ہیں یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ ہیرا زمین کی سطح کے نیچے 90سے 125میل کی گہرائی میں اس جگہ پایا جاتا ہے جہاں کاربن کا ذخیرہ بہت زیادہ درجہ حرارت اور دباؤ کی وجہ سے کوئلے سے ہیرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اسی لئے آتش فشانی مقامات پر ہیرے کی کانوں کی موجودگی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ا س وقت دنیا میں سب سے زیادہ ہیرے کی کانیں روس میں پائی جاتی ہیں جہاں سے دنیا کے 30.5فیصد ہیرے حاصل کئے جاتے ہیں جس کے بعد بوٹسوانہ میں 21.2فیصد ہیروں کی کانیں موجود ہیں۔ ان دو ملکوں کے بعد کینیڈا، انگولا اور ساؤتھ افریقہ کا نمبر آتا ہے جہاں سے بالترتیب 17.2فیصد، 11.3فیصد اور 10.2فیصد ہیرے حاصل کئے جاتے ہیں۔ ہیرے کی نایابی ہی اسے قیمتی بناتی ہے۔ حالانکہ دنیا میں ہیرے سے بھی زیادہ چمکدار اور رنگدار پتھر پائے جاتے ہیں لیکن ہیرا سب سے سخت اور مضبوط ترین پتھر شمار ہوتا ہے جو مختلف صنعتی اوزاروں میں کرسٹل، شیشے، جواہرات اور دیگر اشیاء کو کاٹنے اور تراشنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

عام طور پر ہیرا نمک کی ایک ڈلی کی طرح ہوتا ہے جس کو مختلف زاویوں سے تراش کر چمکدار اور خوشنما بنایا جاتا ہے۔ ویسے تو ہیرے کئی رنگوں میں ہوتے ہیں لیکن ان کے قیمتی ہونے کا انحصار ان کی ماہیت اور خالص ہونے پر ہے۔کہتے ہیں کہ ہیرے کی پہچان جوہری کو ہوتی ہے۔ ویسے تو اصل ہیرے کی جانچ پڑتال کے لئے کئی طرح کے سادہ طریقے استعمال ہوتے ہیں جن میں واٹر ٹیسٹ، ہیٹ اینڈ فوگ ٹیسٹ کے علاوہ لائٹ ٹیسٹ شامل ہیں لیکن اب ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے ایسی جدید مشینیں اور آلات بھی دستیاب ہیں جو ہیرے کے خالص ہونے کی پڑتال کر کے اسے ایک خاص نمبر اور سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں جیسا کہ جی آئی اے سرٹیفائیڈ ڈائمنڈ کو ہیروں کی تجارت میں ایک معتبر سند سمجھا جاتا ہے۔ بیلجیئم کا شہر اینٹورپ ہیروں کی تجارت کے سلسلہ میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ شہر ہیروں کی تراش خراش اور ان کو پالش کرنے کے کاروبار میں اول نمبر پر ہے۔ اس چھوٹے سے شہر میں 80فیصد سے زیادہ بغیر تراشے ہوئے ہیروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے جن کی مالیت کا تخمینہ 54بلین ڈالرز لگایا جاتا ہے۔ یہاں ہیروں کی 380سے زیادہ ورکشاپس ہیں جہاں 30ہزار کے قریب لوگ اس کاروبار سے وابستہ ہیں جن میں سے اکثریت یہودیوں کی ہے۔ یہ شہر پندرھویں صدی سے ہیروں کی تجارت کے سلسلہ میں اپنی ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اسی لئے اینٹورپ کو ڈائمنڈ کیپیٹل آف ورلڈ کہا جاتا ہے جس کے بعد ساؤتھ افریقہ کا شہر کیمبرلی ہیروں کی کانوں اور ہیروں کی تجارت کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم بھی ہیروں کے کاروبار کے لئے یورپ میں بہت شہرت کا حامل ہے۔ اسی لئے سٹی آف ڈائمنڈ بھی کہلاتا ہے۔ یہاں ہیروں کی نمائش کا ایک شاندار میوزیم بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔ کئی برس پہلے مجھے بھی اس سٹی آف ڈائمنڈ کی ایک ورکشاپ اور میوزیم کی سیاحت کا موقع میسر آیا جہاں میں نے غیر تراشیدہ اور تراشے ہوئے طرح طرح کے ہیرے دیکھے تو مجھے خیال آیا کہ ہیرے ہوں یا انسان وہ تراشے جانے کے بعد ہی جاذب نظر اور قیمتی بنتے ہیں۔ ایمسٹر ڈیم کا میوزیم آف ڈائمنڈ واقعی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

یہاں نمائش کے لئے رکھے جانے والے تراشے ہوئے ہیروں کی چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے اور دیکھنے والے کو یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ سو بار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا۔ بات کوہ نور یعنی نور کا پہاڑ سے چلی تھی تو اس ہیرے سے بہت سے افسانے وابستہ ہیں اس بارے میں انیتا آنند اور ولیم ڈیلر میل کی کتاب ”کوہ نور۔ دی ہسٹری آف دی ورلڈ موسٹ ان فیمس ڈائمنڈ“ یعنی دنیا کے بدنام ترین ہیرے کی تاریخی کہانی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔یہ ہیرا کب اور کس طرح ہندوستان پہنچا اور کیا یہ واقعی دنیا کا سب سے بڑا ہیرا ہے اس بارے میں اب تک کی تاریخ میں کوئی مستند حوالہ موجود نہیں ہے۔خیال یہ ہے کہ کوہ نور افغانستان سے پہلے ہندوستان اور پھر ایران پہنچا اور ایران سے واپس سلاطین دہلی کی دسترس میں آیا جس کے بعد یہ ہیرا مہاراجہ رنجیت سنگھ جو کہ پنجاب کے فرمانروا تھے کے ہاتھ لگا۔ 1839ء میں مہاراجہ کی وفات کے بعد کوہ نور برٹش ایمپائر کی ملکیت میں آ گیا اور پھر 1849ء میں گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی کے ذریعے یہ مشہور ملکہ وکٹوریہ تک پہنچا اور شاہی جواہرات کا حصہ بن گیا۔ 1851ء میں اسے نئی تراش خراش کے ساتھ لندن میں ہیروں کی ایک بہت بڑی نمائش کی زینت بنایا گیا اور اب یہ کوہ نور ملکہ برطانیہ کے شاہی تاج میں سجا ہوا ہے۔ میں نے جب اس ہیرے کو ٹاور آف لندن کی نمائش گاہ میں دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔یہ انتہائی شاندار اور جاذب نظر ہے۔ یہ ایک ہیرا نہیں بلکہ ایک ایسی داستان ہے جو اپنے اندر کئی تاریخی حقائق کی تلخیوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ کئی بادشاہوں کے عروج و زوال کی کہانیوں کا گواہ ہے۔ اس ہیرے نے کئی ہیرے جیسی ہستیوں کو پیوند خاک ہوتے دیکھا۔یہ کس قدر تلخ اور اٹل حقیقت ہے کہ ہیرے جواہرات کے حصول کی تگ و دو میں لگے رہنے والے بالآخر اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور کوہ نور جیسے نوادرات اپنی ملکیت کے نئے دعویداروں کی کشمکش کا تماشا دیکھنے کے لئے اس دنیا کے عجائب گھر وں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ ہیرا گرد میں دب کر بھی ہیرا ہی رہتا ہے اور خاک آسمان کی بلندی پر بھی پہنچ جائے تو خاک ہی رہتی ہے۔
٭٭٭٭