عمران کے ساتھ ہاتھ ہو گیا یا حکومت کے ساتھ ہاتھ ہونے والا ہے

عمران خان نے پورے ملک میں بڑے بڑے جلسوں سے اپنے ورکرز کو متحرک کرنے کے بعد اسلام آباد لانگ مارچ کی کال دی تھی تجزیہ کاروں سیاسی پنڈتوں کا خیال تھا کہ جس تعداد میں اور جس جوش وجذبہ کے ساتھ لوگ عمران خان کے جلسوں میں شرکت کرتے رہے ہیں اس لحاظ سے لوگ اسلام آباد آئیں گے جلسوں میں عمران خان کو فری ہینڈ تھا نہ حکومت نے شرکاء کو روکنے کی کوشش کی ماسوائے لاہور کے جلسہ میں انتظامیہ نے فنی حربہ استعمال کرتے ہوئے راستے بند کر کے لوگوں کو میلوں پیدل چلنے پر مجبور کر دیا انتظامیہ کا خیال تھا کہ لوگ اتنا پیدل چلنے کی وجہ سے ارادہ بدل لیں گے اور جلسے میں کم لوگ شریک ہوں گے لیکن لوگوں نےپیدل چل کر بھی مینار پاکستان بھر دیا تھا جلسے پر امن رہے کہیں ایک گملا بھی نہ ٹوٹا عمران خان سمیت لوگوں کو توقع تھی کہ اسلام آباد جانے کے لیے ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی لیکن پتہ اس وقت چلا جب حکومت نے پر مارنے کی گنجائش بھی نہ رہنے دی خاص کر پنجاب میں تو بالکل باندھ کر رکھ دیا ایسے معلوم ہو رہا تھا جیسے پنجاب میں کرفیو لگا ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اقدامات کیے گئے تھے موٹر وے، جی ٹی روڈ بند ٹرانسپورٹ بند سکول کالج تعلیمی ادارے بند بچوں کے امتحانات منسوخ کر دیے گئے پٹرول پمپ بند کر دیے گئے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند کرکے کہا گیا اب جا کر دیکھاو اس کے ساتھ ساتھ ایک دو روز قبل ہی گرفتاریاں شروع کر دی گئیں پنجاب کی لیڈر شپ کو نہ جانے اوپر سے حکم تھا یا انھوں نے اپنے طور پر فیصلہ کیا کہ انھوں نے اپنے آپ کو گرفتاریوں سے بچانا ہے لہذا وہ ورکرز کو باہر نکالنے کی بجائے اپنے آپ کو بچاتے رہے روپوشی کی حالت میں ان کے موبائل بھی بند ہو گئے ان کا ورکرز کے ساتھ رابطہ کٹ گیا پنجاب سے ورکرز کے نہ نکلنے بارے تحریک انصاف میں جائزہ لیا جا رہا ہے تمام امور پر رپورٹیں تیار ہو رہی ہیں لیکن اس ساری صورتحال میں پنجاب سے دو ہیرو ابھر کر سامنے آئے ہیں جس طرح لاہور سے میاں حماد اظہر اور ڈاکٹر یاسمین راشد پولیس کا حصار توڑ کر جی ٹی روڈ پر پہنچے یقینی طور پر یہ ایک جنگ فتح کرنے کے مترادف تھی ڈاکٹر یاسمین راشد بیماری اور بڑھاپے کے باوجود میدان عمل کی کھلاڑی ثابت ہوئیں خیر انھیں ان سارے معاملات سے نمٹنے کا وسیع تجربہ ہے زمانہ طالبعلمی سے لے کر آج تک ان کی جدوجہد کا زمانہ ہے لیکن حماد اظہر نے تو کبھی ایسا ماحول نہیں دیکھا تھا لیکن وہ بڑے بڑوں کو مات دے گئے انھوں نے ثابت کیا کہ وہ ہر قسم کی ذمہ داریاں نبھانے کے اہل ہیں ان کا ایکٹ عمران خان کے دل میں گھر کر چکا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ انھیں اہم ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں۔

لاہور سے رانا جاوید عمر، رشید بھٹی، زبیر نیازی اور تحریک انصاف کے وکلاء نے بھی بڑی ہمت دکھائی اور وہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود لاہور سےنکلنے میں کامیاب ہوئےعمران خان کو پنجاب اور اسلام آباد میں داخل نہ ہونے کے لیے تاریخ کے سب سے زیادہ فول پروف انتظامات کیے گئے تھے اس کے باوجود عمران خان جیسے تیسے بھی اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہوگئے یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ایک روز میں کراچی سے لے کر اٹک تک خاص کر اسلام آباد میں اتنی آنسو گیس پھینکی گئی کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی آنسو گیس ویسے بھی انسانی صحت کے لیے مضر ہے لیکن ایکسپائری آنسو گیس اور زیادہ خطرناک اور مضر ہوتی ہے ایکسپائری آنسو گیس کا استعمال عالمی قوانین کے مطابق جرم ہے لیکن پاکستان میں سب چلتا ہے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی مصیبتوں کو جھیل کر جب آپ اسلام آباد پہنچ گئے تھے تو وہاں بیٹھنے میں کیا حرج تھا اگر عمران خان وہاں بیٹھ جاتے تو لوگ پورے پاکستان سے جیسے تیسے بھی پہنچتے وہاں پہنچنا شروع ہو جاتے کیا عمران خان ٹریپ ہوئے ہیں ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے یا انھوں نے کسی حکمت کے تحت ایسا کیا یقینی طور لوگ عمران خان سے لانگ مارچ ختم کرنے کے فیصلہ کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے ان کے اس غیر متوقع فیصلہ نے بہت سارے سوال چھوڑے ہیں لیکن ہماری اطلاعات یہ ہیں انھیں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ آپ لانگ مارچ ختم کر دیں چند دنوں میں الیکشن کا اعلان کروا دیا جائے گا دوسری جانب حکومتی اتحاد کو باور کرایا گیا کہ عمران خان کا لانگ مارچ کا دباؤ آپ نے برداشت کر لیا ہے اب جلدی کسی بڑی موومنٹ کا امکان نہیں لہذا اکڑ جاو حکومت کے اتحادیوں نے سر جوڑے اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ اگر فوری طور پر الیکشن کروائے گئے تو ہمارے کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا اس لیے فوری سخت فیصلے کر کے میدان میں خم ٹھوک دیا جائے اگر موقع مل گیا تو ہم عمران خان کا ڈنگ نکالنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے اور بجٹ میں اپنے اراکین اسمبلی کو بھاری ترقیاتی بجٹ دے کر چار پانچ ماہ میں ان سے خرچ کروا کر الیکشن میں جائیں گے تو لوگوں کو دیکھانے کے لیے کچھ تو ہمارے پاس ہو گا اور اگر اس دوران کسی بھی طریقے سے ہماری حکومت ختم کر دی جاتی ہے تو ہم یہ بیانیہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ ہمیں نکال دیا گیا یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت الیکشن کروانے پر رضامندی ظاہر کر چکی تھی عمران خان کے لانگ مارچ کا زور ٹوٹنے پر انھوں نے یو ٹرن لے لیا ہے اب معاملہ یقین دہانی کروانے والوں کے ہاتھ میں ہے وہ کس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اگر الیکشن میں جانا مقصود ہوا تو جلد میاں شہباز شریف کو اعتماد کے ووٹ کے لیے کہا جائے گا یا کوئی اور راستہ نکالا جائے گا دوسری جانب پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری نئی گیم پلان کے چکروں میں ہیں انھوں نے حکومت کو باور کرایا ہے کہ اگر حکومت کرنی ہے تو پنجاب کا معاملہ حل کرنا پڑے گا ہمیں کمپرومائز کرنا پڑے گا اور اس سلسلہ میں انھوں نے چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات بھی کی ہے عمران خان کے لیے چھ دنوں کے بعد فوری اسلام آباد آنا ممکن نہیں رہے گا وہ چھ دنوں کے بعد دوبارہ کوئی تاریخ دیں گے وہ احتجاج کا طریقہ کار بھی بدل سکتے ہیں۔