اسلاموفوبیا

عہد حاضر میں پوری دنیا کے تقریباً 8بلین افراد 4ہزار سے زیادہ مذاہب، عقائد اور مسالک کے پیروکار ہیں۔ سب سے بڑا مذہب عیسائیت ہے یعنی 2.4بلین لوگ عیسائی ہیں جبکہ تعداد کے اعتبار سے مسلمان دوسرے نمبر پر ہیں۔ یعنی دنیا بھر میں 1.9بلین لوگ اسلام کے علمبردار ہیں۔ تیسرا نمبر ان لوگوں کا ہے جو کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتے۔ ایسے لوگوں کی تعداد 1.2بلین ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ عیسائی بالترتیب امریکہ، برازیل اور روس میں آباد ہیں جبکہ مسلمانوں کی آبادی کے اعتبار سے انڈونیشیا پہلے نمبر پر ہے۔ اس دنیا میں مذاہب کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ اس روئے زمین پر بنی نوع انسان کی موجودگی۔ انسان روز اول سے ہی اپنے خدا اور خالق کی تلاش کی ضرورت محسوس کرتا رہا ہے۔ وہ اپنی روح کے چراغوں کو روشن کرنے کے لئے کسی نہ کسی مذہب کی چنگاری کا مرہون منت رہا ہے یعنی

اس اعتبار سے بے انتہا ضروری ہے

پکارنے کے لئے اک خدا ضروری ہے

ایک زمانہ تھا کہ برطانیہ اور بیشتر مغربی ملکوں میں مذہب کو سیاست سمیت ہر معاملے پر بالادستی حاصل تھی لیکن پھر معاشرتی ترقی کے لئے مذہب اور سیاست کے درمیان فصیل حائل کر دی گئی کیونکہ سیاستدان اور حکمران مذہب کو اپنے لئے آخری مفید ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے تھے اور مغربی دانشوروں کا خیال تھا کہ مذہب اس صبر کا نام ہے جو غریبوں کو مراعات یافتہ امیروں کے قتل سے روکتا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت اور خاص طور پر پاکستانی مسلمانوں کا خیال ہے کہ اہل مغرب یعنی کافر لوگ بہت زیادہ روحانی اضطراب کا شکار ہیں اور اسلام سے خوفزد ہ ہیں۔ برطانیہ کی حد تک یہ بات کسی بھی طرح درست نہیں۔ انگریز لوگ اگر اسلام سے خوفزہ یا اسلاموفوبیا کا شکار ہوتے تو اپنے ملک میں کبھی دو ہزار سے زیادہ مساجد کی تعمیر کی اجازت نہ دیتے اور 2.8ملین سے زیادہ مسلمانوں کو برطانوی شہریت کا حق تفویض نہ کرتے۔ اس کے مقابلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ کے کئی دیگر خوشحال ملکوں میں کسی اور مسلمان ملک کے باشندے کو شہریت، مستقل رہائش اور خود مختاری کے ساتھ کاروبار کا حق نہیں دیا جاتا۔برطانیہ میں تقریباً 5ہزار انگریزہر سال اسلام قبول کرکے مسلمان بن جاتے ہیں اور ان میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو کسی عالم دین یا مولوی کی تقریر سن کر نہیں بلکہ قرآن پاک کو اپنی یعنی انگریزی زبان میں پڑھنے اور سمجھنے کے بعد مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں جس کے بعد وہ بہت صاف ستھری اور پاکیزہ زندگی گزارتے ہیں جبکہ ایسے غیر مسلم جو کسی مولوی یا مبلغ کے پیروکار بن کر مسلمان ہوتے ہیں وہ انہیں کسی نہ کسی مسلک اور انتہا پسندی کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ برطانیہ کے لئے ایسے انتہاپسند ہی خطرے اور تشویش کا باعث ہیں۔ وگرنہ برطانیہ میں ہر مذہب اور عقائد کے لوگوں کو مکمل آزادی میسر ہے۔ برطانوی دارالحکومت لندن تو ایک ایسا ملٹی کلچرل یعنی کثیر الثقافتی شہر ہے کہ جو کوئی بھی اس شہر کی سیروسیاحت کو آتا ہے وہ اس کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ لندن کی رونق اور امن و امان کو قائم رکھنے کے لئے حکومت کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتی۔ 7جولائی 2005ء کو جب لندن انتہاپسندوں کے حملوں کی زد میں آیا تھا تو اس کے بعد لندن شہر اور اس کے مکینوں کے تحفظ کے لئے ایسا مربوط سیکورٹی سسٹم تشکیل دیا گیا کہ اب لندن میں رہنے والوں یا آنے جانے والوں کی نقل و حرکت لمحہ بہ لمحہ سی سی ٹی وی اور خفیہ کیمروں میں محفوظ ہونے لگی ہے۔ لندن محض ایک سیاحتی مقام ہی نہیں بلکہ دنیاکا ایک اہم تجارتی مرکز بھی ہے۔ لندن شہر کا امن و امان، رونقیں، گہما گہمی، تجارتی اور سیاحتی سرگرمیاں یونائیٹڈ کنگڈم کے لئے بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ لندن سمیت برطانیہ بھر میں لوگوں کی اکثریت ایک دوسرے کے مذہب اور ثقافتی اقدار کا احترام کرتی ہے اور اس ملک میں پروان چڑھنے والے بچوں کو سکول میں ہی اس احترام اور انٹرفیتھ کی تعلیم اور تربیت بھی دی جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص یا گروہ اپنے کسی نفسیاتی طرز عمل کی وجہ سے اسلام سے خوفزدہ یا اسلاموفوبیا کا شکار ہو جائے تو برطانوی قانون اسے ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنے اس تعصب کا پرچار کرے یا اس کی وجہ سے کسی کو اپنی نفرت کا نشانہ بنائے۔

متعصب لوگ ہر مذہب اور زندگی کے ہر شعبے میں پائے جاتے ہیں اور یہی تعصب انہیں انتہاپسندی کی طرف لے جاتا ہے۔ ایسے انتہا پسند ہر معاشرے میں آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں۔ جب پاکستان میں انتہا پسند، مساجد، امام بارگاہوں، سکولوں یا گرجا گھروں میں خودکش حملے کرواکے اس کی ذمہ داری بڑے فخر سے قبول کرتے ہیں تو ایسے سانحات کی خبریں پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ کا حصہ بنتی ہیں اور اس سے عام لوگوں کے ذہن میں اسلام کے بارے میں طرح طرح کے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ جس مذہب کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ امن اور سلامتی کا پیامبر ہے تو اس کے پیروکار اتنے متشدد اور انتہا پسند کیوں ہیں۔ لندن میں 7جولائی 2005ء کے خودکش حملوں یا برطانیہ کے مختلف شہروں میں بم دھماکوں یاوین اور ٹرک کے ذریعے راہگیروں کو کچلنے کے واقعات میں جو مسلمان ملوث تھے ان کی برین واشنگ بھی مختلف انتہاپسند مبلغین نے کی تھی جن کی وجہ سے واقعی بہت سے غیر مسلم اسلاموفوبیا کا شکار ہوئے لیکن اس کے باوجود برطانیہ میں اسلاموفوبیا کے خلاف موثر اقدامات اٹھائے جاتے ہیں اور مانچسٹر سے برطانوی پارلیمنٹ کے مسلمان رکن افضل خان اس بارے میں ایوان کے اندر کئی بار انتہائی موثر طریقے سے اظہار خیال کر چکے ہیں اور پارلیمنٹ کو اسلاموفوبیا کے بارے میں مسلمان کمیونٹی کے تحفظات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ افضل خان برطانیہ سے یورپی پارلیمنٹ کے رکن اور مانچسٹر سٹی کونسل کے لارڈ میئر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ برطانوی پارلیمنٹ میں برٹش مسلم کمیونٹی کی ایک موثر آواز سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیدائشی مسلمانوں کے مقابلے میں جو انگریز یا گورے لوگ قرآن پاک کا مطالعہ کرنے اور سمجھنے کے بعد اسلام قبول کرتے ہیں وہ زیادہ راسخ العقیدہ اور صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کے پیروکار ثابت ہوتے ہیں۔ وہ کسی عالم دین یا مسلک کی پیروی نہیں کرتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور یورپ میں اسلام کے بارے میں جاننے اور معلومات کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ دنیا کے وہ کروڑوں لوگ جو لادین ہیں وہ بھی رفتہ رفتہ اسلام کی طرف متوجہ ہونے لگے ہیں۔ اسی لئے پیش گوئی کی جاتی ہے کہ 2060ء تک دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی اسلام کی پیروکار ہو گی کیونکہ عالمی سطح پر صرف اسلام اور عیسائیت ہی دو ایسے مذاہب ہیں جن کے ماننے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ پیدائشی مسلمان جو لندن میں رہتے ہوں یا کسی اور غیر مسلم معاشرے میں آباد ہوں انہیں چاہئے کہ وہ ایسا طرز زندگی اختیار کریں اور عملی طور پر ایسے شاندار انسان بن کر دکھائیں کہ غیر مسلم ہمارا کردار دیکھ کر ہمارے مذہب کی طرف راغب ہوں۔ اللہ کے رسولؐ نے بھی اپنے کردار کے ذریعے سے ہی غیر مسلموں کو اسلام کی طرف متوجہ کیا تھا۔ ہمیں بھی آپؐ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرنی چاہئے۔ اللہ رب العزت ہم سب مسلمان تارکین وطن کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

٭٭٭٭٭٭