کہنے اور کرنے کی باتیں

وفاق اور پنجاب میں باپ بیٹے کی حکمرانی قائم ہو چکی ہے شریف خاندان پاکستان میں سب سے زیادہ حکمرانی کا تجربہ رکھنے والا خاندان ہے ہر شعبہ میں ان کے گہرے روٹس ہیں بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی لابی ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ کہتے تھے کہ انھیں اقتدار سے علیحدہ کرنا اتنا آسان کام نہیں 2018 کے انتخابات میں انھیں فطری پراسس کے ذریعے بڑی مشکل سے کئی جتن کر کے اقتدار سے تھوڑا سا دور کیا گیا دنیا جانتی ہے کہ اس دوران انھوں نے کیا کچھ نہیں کیا آخر کار وہ پونے چار سال بعد دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اس بار سیاست کے تمام منجھے ہوئے کھلاڑی ان کے ساتھ تھے سوال یہ اٹھتا ہے کہ پہلے انھیں اقتدار سے علیحدہ کرنے کے لیے اتنے جتن کیے گئے اب انھیں اقتدار میں لانے کے لیے بھی اس سے بڑھ کر جدوجہد کی گئی لوگ اس حقیقت کو بڑی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ کس طرح پاکستان کی تمام سیاسی قوتوں کو اکھٹا کیا گیا اور کہاں کہاں سے بازو مروڑے گئے اور آخر کار کس حد تک جانا پڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا انھیں اقتدار سے نکالنے کے اہداف پورے ہوگئے ہیں اور اب واپس لانے کے کیا مقاصد ہیں درمیان میں عمران خان کا پیچ لگانے کی کیا ضرورت تھی اب جبکہ مرکز اور پنجاب میں حکومتیں تبدیل ہو چکی ہیں تو بہت سارے مزید سوالات جنم لے رہے ہیں کہ جب سوا سال باقی رہ گیا ہے تو اچانک کونسے ایسے حالات پیدا ہو گئے جن کی وجہ سے تبدیلی ناگزیر ہو گئی تھی کیا ملک آئے روز ایسی تبدیلیوں کی وجہ سے عدم استحکام کا شکار رہے گا۔

اب نئی پیدا شدہ صورتحال میں بہت سارے بحران جنم لے چکے ہیں جن میں آئینی، اخلاقی، سیاسی، انتظامی اور معاشی بحران شامل ہیں ایسے میں حکومت سنبھالنے والوں کی بھی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں کہ ان بحرانوں سے کیسے نمٹا جائے حکومت میں شامل لوگوں کی اپنی خواہشات ہیں ہر کسی کی خواہش کو پورا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے خدشہ یہ ہے کہ اس کھینچا تانی میں کہیں ملک کا کوئی ناقابل تلافی نقصان نہ ہو جائے ایسے حالات میں ملک دشمن قوتیں بھی دھاک لگائے بیٹھی ہیں جو افراتفری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہے تبدیلی کے ایک اور پہلو کا جائزہ لیا جائے تواپوزیشن جو کہ اب حکومت بن چکی ہے ان کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ فوری نئے الیکشن کروائے جائیں کبھی وہ عوامی احتجاج کے ذریعے حکومت پر دباو بڑھانے کی کوشش کرتے تو کبھی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی دھمکی دیتے لیکن مستعفی ہونے کا حوصلہ کسی میں نہ تھا اب جبکہ حکومت ان کے ہاتھ میں ہے تو اب وہ نئے انتخابات کے مطالبہ کو بھول کر سوا سال اقتدار انجوائے کرنا چاہتے ہیں جبکہ جن سے مطالبہ کیا جاتا تھا وہ استعفے دے کر عوام میں جا چکے ہیں اور فوری الیکشن کرواکر عوام کی عدالت سے فیصلہ لینا چاہتے ہیں دراصل اقتدار چیز ہی ایسی ہے آخری لمحے تک کوئی چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتا اور جن کے ہتھے اب اقتدار لگ گیا ہے وہ ویسے بھی بڑے کاریگر لوگ ہیں اب جن چھپا ڈل چکا ہے وہ اقتدار کے ایک ایک لمحہ کو ضائع کیے بغیر مستقبل کے اقتدار کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے وہ حکومت میں شامل تمام اراکین پارلیمنٹ کو آنے والے بجٹ میں دل کھول کر ترقیاتی بجٹ دیں گے ان کو حلقوں میں مضبوط کرنے کے لیے ان کی پسند کے پولیس افسر اور انتظامی و ریونیو اہلکار تعینات کیے جائیں گے سب سے پہلے عمران خان کے بیانیہ کے اثر کو زائل کرنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے یا اسد۔مجید کو مینج کر کے یہ ثابت کیا جائے گا کہ عمران خان کا بیانیہ فرضی ہے دوسری جانب عمران خان کی بڑھتی ہوئی عوامی شہرت کے راستے میں بند باندھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے جوں جوں عمران خان کی عوامی پذیرائی میں اضافہ ہو گا توں توں اس کے لیے مسائل بڑھتے جائیں گے پاکستان کی سیاست اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے جو چند دنوں میں عوامی بیداری نظر آ رہی ہے اس نے کئی لوگوں کی نیندیں اڑا دی ہیں اب روائیتی سیاست بمقابلہ عوامی بیداری کا میچ ہے جس کے لیے عمران خان کو صرف عوامی بیداری پر ہی تکیہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ ناراض ایلیمنٹ کو بھی راضی کرنا چاہیے پاکستانی سیاست میں کامیابی کے لیے روائیتی تقاضے پورے کرنا بہت ضروری ہے