کیا انتخابی میدان سج گیا ہے؟

معاشرے کی طرح صحافت اور نہ جانے کیا کچھ تقسیم ہو گیا ہے باقی تقسیم کا بھی نقصان ہو گا لیکن صحافت کی تقسیم کا ایک نقصان یہ ہوا ہے کہ عام قاری سے حقائق دور ہو گئے ہیں کنفیوژن اتنا پھیل گیا ہے کہ اصل اور نقل میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے لوگ حقائق جاننے کی بجائے چسکے لینے شروع ہو گئے ہیں ہر کوئی اپنی پسند کی بات سننے کے لیے اپنا پسندیدہ چینل اور صحافی ڈھونڈتا ہے اب صحافت میں خبروں کا غلبہ نہیں چسکے دار تجزیے تبصرے اور تحریریں رہ گئی ہیں رپورٹرز بھی کھوج لگانے کی بجائے کسی کو خوش کرنے کے لیے یا تو مخبریاں کر رہے ہیں یا کسی کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں یا کسی کے مخالف کی کلاس لے کر کسی کو خوش کر رہے ہوتے ہیں تحقیق کی جستجو ناپید ہو گئی ہے سیاسی جماعتیں اپنے مفاد کے لیے اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے سب کچھ کر گزرنے سے بھی دریغ نہیں کرتیں حقیقی صورتحال یہ ہے کہ معاشرہ اکھڑ چکا ہے دشمن اپنی سازش میں کامیاب ہو چکا ہے کہ پاکستان میں عدم استحکام عروج پکڑ چکا انتشار کی جڑیں مضبوط ہو چکیں عدم برداشت تو پہلے بھی نہیں تھی اب تو بات مرو اور مار دو کی طرف جا رہی ہے ہر کام میں انتہا پسندی عیاں ہے حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ بے نقاب ہے کیا ہو رہا ہے کیا ہونے جا رہا ہے کیونکر ہو رہا ہے کون کیا کر رہا ہے کس کے تار کہاں سے ہل رہے ہیں کون کس کے لیے کیا کر رہا ہے سب کچھ عیاں ہے لیکن ابھی ایک بھرم باقی ہے کہ ابھی دبے لفظوں میں بات کی جاتی ہے لیکن اگر یکطرفہ ٹریک چلایا گیا تو بھرم ختم ہو جائے گا سمجھنے والوں کے لیے اشارہ ہی کافی ہے دباو والے بھی دباو میں ہیں ہونے کو تو بہت کچھ ہو سکتا ہے اگر ذوالفقار علی بھٹو کو مشورہ پر پھانسی دی جا سکتی ہے تو کیا نہیں ہو سکتا لیکن کہتے ہیں کہ اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے اب کسی نہ کسی کو اپنی خواہشات کی قربانی دینا ہو گی یہ باریکی والے کام ہیں اب آتے ہیں سیاسی معاملات کی طرف حقائق یہ ہیں کہ موجودہ حکومت جب اپوزیشن تھی تو انھوں نے واضح طور پر پاکستان کے عوام کو بتایا تھا کہ وہ حکومت کو گھر بھیج کر فوری الیکشن کروائیں گے یہاں تک کہ جب پنجاب میں تبدیلی کے لیے جوڑ توڑ ہو رہا تھا اس وقت چوہدریوں کے ساتھ اختلاف ہی یہ تھا کہ میاں نواز شریف چوہدریوں کو دو ماہ کے لیے وزارت اعلی دینا چاہتے تھے اور کہا جا رہا تھا کہ ہم نے فوری الیکشن کروانے ہیں بڑی مشکل سے پہلے چار ماہ اور پھر چھ ماہ پر میاں صاحب راضی ہوئےتھے اب صورتحال یہ ہے کہ اقتدار ہاتھ میں آنے کے بعد نیت بدل گئی اور اب وقت پورا کرنے پر زور دیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ساری دنیا جانتی ہے یہ حکومت کیسے قائم ہوئی اور کس طرح کھڑی ہے ضرورتیں کیسے پوری کی جاتی ہیں اس کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ ق مرکز میں اپنے دو بندے دے کر حکومت بنواتی ہے اور پنجاب میں سسٹم کو فارغ کرنے کے لیے ہمہ تن گوش ہے مجھے نہیں پتہ کہ رانا ثناء اللہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے کس طرح نمٹتے ہیں اور عمران خان کے جلسوں اور لانگ مارچ کی کال کا کیا اثر پڑتا ہے لیکن یہ خبر ہے کہ پنجاب حکومت رواں ماہ ہی ختم ہو جائے گی اگر صدر مملکت نے گورنر پنجاب کی تبدیلی کو ایک ماہ تک لٹکائے رکھا تو عمر سرفراز چیمہ یا چوہدری پرویز الہی کے ہاتھوں پنجاب اسمبلی ٹوٹ جائے گی کیونکہ اگر پنجاب کے 26 منحرف اراکین کا الیکشن کمیشن نے فیصلہ نہ بھی کیا جن کا ریفرنس سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی الیکشن کمیشن کو بجھوا چکے ہیں تو ایک ماہ کی مدت کے بعد اس کا فیصلہ گورنر خود ہی کر دیں گے۔

منحرف اراکین کے ڈس کوالیفکش کے بعد گورنر پنجاب وزیر اعلی کو اعتماد کے ووٹ کا کہیں گے اگر وہ اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب نہ ہو سکے تو گورنر پنجاب اسمبلی توڑ دیں گے اس وقت پھر حالات ایسے ہوں گے جب تحریک انصاف اپنی خیبر پختون خواہ کی اسمبلی توڑ کر اور عوامی دباو کے نتیجے میں نئے الیکشن پر مجبور کر دے گی یہ حالات کا ایک پہلو ہے لیکن اگر بزور طاقت پنجاب کی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے منحرف اراکین کا فیصلہ نہ ہونے دیا گیا اور مرکزی حکومت کو بھی ہر صورت برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی تو پھر معاملات مارشل لاء کی طرف جا سکتے ہیں تیسرا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اگر واقع ہی ہم نے کسی مجبوری کے تحت عمران خان کی حکومت ختم کی ہے اور وسیع تر قومی مفاد میں ایسا کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا تو یقینی طور پر ان کا مقصد چند ماہ کے لیے عمران خان کو فارغ کرنا مقصود نہیں تھا وہ آئیندہ اقتدار کے لیے بھی عمران کا راستہ بند کرنا چاہتے ہیں لیکن زمینی حقائق تو یہ بتا رہے ہیں کہ عمران خان کو زیادہ عرصہ تک نہیں روکا جا سکتا جب بھی الیکشن ہوئے عمران خان پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر آ جائے گا اس لیے اگر عمران خان کا راستہ روکنا ضروری ہے تو پھر جمہوری عمل کو بریک دینا ہو گی سیاست اور اقتدار کا کھیل بڑے خوفناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے سیاستدانوں کے پاس دو راستے ہیں ایک فوری الیکشن اور دوسرا بیگانے پتروں کو موقع دینا زمینی سیاسی حقائق کچھ اور بھی بتا رہے ہیں تحریک انصاف نے عوام میں جا کر جلسوں سے لوگوں کو متحرک کر دیا ہے بظاہر یہ جلسے تحریک انصاف کے احتجاج کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو موبلائز کر کے اسلام آباد لانا ہے تاکہ حکومت اور اداروں کو فوری الیکشن کروائے پر مجبور کیا جاسکے لیکن یہ ایک طرح کی انتخابی مہم بھی ہے اور مقابلے کی سیاسی جماعتیں یہ میدان خالی نہیں چھوڑ سکتیں تحریک انصاف مسلم لیگ ن کو کھینچ کر انتخابی عمل میں لے آئی ہے مسلم لیگ ن نے بھی جلسوں کا شیڈول دے دیا ہے پہلا جلسہ بھی کر لیا ہے اسی طرح پیپلزپارٹی نے بھی سندھ میں جلسہ کیا ہے لیکن اب جبکہ دو بڑی جماعتیں عوام کے پاس جا چکیں تو پیپلزپارٹی پیچھے نہیں رہے گی اسے اگر زندہ رہنا ہے تو انھیں سندھ کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں بھی جلسے کرنا ہوں گے جب یہ جماعتیں جلسے کریں گی تو جے یو آئی مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی کیسے خاموش رہ سکتی ہیں لہذا میرے خیال سے تو ملک میں انتخابی میدان سج چکا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ انتخابی مہم کب تک چلتی ہے کیونکہ عمران خان الیکشن تک اسے برقرار رکھیں گے جواب میں حکومتی سیاسی جماعتوں کو بھی عوام میں رہنا پڑے گا