پاکستان اور برطانیہ کی جیلوں میں فرق

یہ پہلا موقع تھا کہ میں برطانیہ کی کسی جیل مین جا رہا تھا۔ یہ ساؤتھ ایسٹ لندن کی بہت ہائی سکیورٹی جیل ہے جہاں خطرناک مجرموں کو قید کیا جاتا ہے۔ مجھے ایک ایسے ایشیائی قیدی کے ترجمان یعنی انٹرپریٹر (Interpreter) کے طور پر بلایا گیا تھا جسے انگریزی بولنے میں دشواری پیش آتی تھی۔ جب میں اپنی گاڑی پارک کر کے جیل کے استقبالیہ دفتر میں پہنچا تو وہاں دو انگریز سالیسٹر پہلے سے میرا انتظار کر رہے تھے۔ کوائف کے اندراج کے بعد میری تصویر بنا کر وزیٹر کارڈ پر لگا دی گئی اور میرے فنگر پرنٹس لے کر مجھے جیل کے اندورنی حصے میں جانے کی اجازت دے دی گئی۔ میں دنوں سالیسٹرز کے ہمراہ جب قیدیوں کی بیرکس والی عمارت میں پہنچا تو ہم سب کی مشینوں کے ذریعے اس طرح سکیننگ کی گئی جس طرح ہوائی اڈے یعنی ایئر پورٹ پر جہاز میں سوار ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔ اس مرحلے سے گزارنے کے بعد ہمیں ایک چھوٹے سے کمرے میں بٹھا دیا گیا جسے چند کرسیاں اور ایک میز لگا کر دفتر کی شکل دی گئی تھی۔ اس کمرے کے دوسری طرف وہ حصہ تھا جہاں قیدیوں سے ملاقات کے لئے آنے والے عزیزوں کی پڑتال کی جا رہی تھی اور منشیات کی بو سونگھنے والے کتے ہر ملاقاتی کو چاروں طرف سے سونگھنے میں مصروف تھے۔

بیرکس کے درمیان مسلح گارڈز گشت کر رہے تھے اور ہر طرف ایک پراسرار سی خاموشی طاری تھی۔ جیل انتہائی صاف ستھری اور ہر طرح کی جدید سہولتوں سے آراستہ تھی۔ یونائیٹڈ کنگڈم میں کل 135جیلیں ہیں جن میں سے 20جیلوں کا انتظام پرائیویٹ فرمز کے پاس ہے جبکہ 115جیلوں کا کنٹرول حکومت کے اختیار میں ہے۔ ان تمام قید خانوں میں تقریباً 90ہزار افراد مختلف طرح کے جرائم کی سزا بھگت رہے ہیں جن کی دیکھ بھال اور جیلوں کے انتظامات پر حکومت کو سالانہ 4بلین پونڈ کے لگ بھگ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ برطانیہ میں پولیس، عدالتوں اور جیلوں کا ایک ایسا مربوط نظام قائم ہے جہاں کسی بھی مرحلے پر انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔ پولیس نہ تو کسی پر ناجائز مقدمہ بنا سکتی ہے اور نہ ہی عدالت ٹھوس شواہد اور ثبوت کے بغیر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔ اس ملک میں نہ تو کوئی جھوٹی گواہی دیتا ہے اور نہ ہی یہاں کسی گواہ یا جج کو خریدا جا سکتا ہے۔ اسی لئے یہاں کی عدالتیں سو فیصد فیصلے میرٹ پر کرتی ہیں۔اگر برطانیہ میں پولیس جھوٹے مقدمات درج کرنا شروع کر دے اور عدالتوں میں جعلی گواہ اور نقلی دستاویزات پیش کی جانے لگیں تو پھر اس ملک میں بھی ججوں اور منصفوں کے لئے انصاف کے تقاضوں کی تکمیل ناممکن ہو جائے گی۔یونائیٹڈ کنگڈم میں مجسٹریٹس کورٹس اور کراؤن کورٹس سے کاؤنٹی کورٹس اور ہائی کورٹ تک ہر مرحلے پر انصاف کرتے وقت کبھی اس بات کی تخصیص نہیں کی جاتی کہ ملزم کون ہے۔ اس ملک میں رنگ و نسل، عہدے اور منصب یا مالی حیثیت کو خاطر میں لائے بغیر ہر ایک کوسستا اور فوری انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ جو لوگ جرم ثابت ہونے پر جیلوں میں بھیجے جاتے ہیں ان کی اصلاح کی کوشش کے ساتھ ساتھ ان کے انسانی حقوق کا ہر ممکن خیال بھی رکھا جاتا ہے۔ کیا جیل میں قیدیوں کی اصلاح ممکن ہے؟

اس بارے میں بہت سے ماہرین نفسیات کی رائے ہے کہ جیل مجرم کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے کیونکہ قید خانے میں ہر مجرم کو اپنے بارے میں سوچنے کا بہت سا وقت میسر آتا ہے۔ جب وہ دنیاوی معاملات سے کٹ جاتا ہے تو اسے اپنے اندر جھانکنے کا بھی موقع ملتا ہے لیکن اس کا انحصار قیدخانے یا جیل کے ماحول اور قیدی کی اپنی نفسیات پر ہوتا ہے۔ کسی بے گناہ کو نقصان پہنچانے یا جذبات میں آ کر کسی معصوم کی جان لینے والے مجرم جیل میں جا کر ندامت اور پچھتاوے کی آگ میں جھلستے رہتے ہیں۔ برطانیہ کی جیلوں میں قیدیوں کا ایک دوسرے پر حملہ کرنے یا نقصان پہنچانے اور خودکشی کرنے کا تناسب بہت کم ہے کیونکہ یہاں کی جیلوں میں قیدیوں کی سیفٹی اور سکیورٹی کے انتظامات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے اور نفسیاتی مسائل سے دوچار مجرموں کے لئے ماہرین نفسیات کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔برطانیہ میں کسی کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر یا کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر جیلوں میں نہیں بھیجا جاتا اس لئے یہاں کی جیلوں میں کوئی دانشور یا سیاستدان قید ہو کر نہیں آتا۔ برطانوی جیلوں میں صرف مجرم سزا پاتے ہیں اس لئے ان میں معاشرے یا ملک کے خلاف کسی قسم کی بغاوت یا انتقام کا جذبہ کم ہی جنم لیتا ہے۔ پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں چونکہ ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، سیاستدانوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور صحافیوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس لئے جیل سے رہا ہونے والے ہیرو بن جاتے ہیں۔ تیسری دنیا کے بہت سے ممالک کے بے گناہ دانشور قیدیوں نے جیلوں میں رہ کر بہت عمدہ کتابیں لکھیں اور قید و بند کی صعوبتوں کے بارے میں اپنے تجربات اور مشاہدات کو شاندار طریقے سے قلم بند کیا۔ برطانیہ میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ پولیس اسٹیشنز ہیں جہاں تقریباً 2لاکھ پولیس افسر اور دیگر عملہ جرائم کی روک تھام کے لئے دن رات سرگرم عمل رہتا ہے۔ اسی طرح مختلف نوعیت کی کم و بیش دو سو عدالتیں اور تین ہزار سے زیادہ جج فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو پوری طرح نبھاتے ہیں۔ اسی لئے یوکے میں انصاف اور قانون کی بالادستی قائم ہے۔اسی طرح برطانوی جیلوں میں قیدیوں اور مجرموں کو جس طرح کی سہولتیں میسر ہیں ایسی سہولیات تو پاکستان اور دیگر کئی پسماندہ ممالک میں جیلوں سے باہر رہنے والے لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگوں کو بھی حاصل نہیں ہیں۔ اسلامی جمہوری پاکستان میں کل 99جیلیں ہیں جہاں تقریباً ساڑھے 56ہزار قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے لیکن ان قید خانوں میں 80ہزار سے زیادہ ملزمان اور مجرموں کو پابند سلاسل رکھا جاتا ہے۔ پاکستانی تھانوں کے اندر موجود حوالات اور ٹارچر سیل ان کے علاوہ ہیں جبکہ ملک بھر میں بڑے بڑے وڈیروں اور جاگیرداروں اور جرائم پیشہ سیاستدانوں نے جو ذاتی عقوبت خانے، بے گار کیمپ اور جیلیں بنا رکھی ہیں ان کی اصل تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا لیکن ان کی موجودگی سے انکار ممکن نہیں۔ ویسے تو ہم مسلمان اہل مغرب کو کافر اور سازشی ہونے کا طعنہ دیتے نہیں تھکتے اور ساتھ ساتھ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے ہر اچھی بات مسلمانوں سے سیکھی ہے لیکن یہ کس قدر دلچسپ حقیقت ہے کہ جن خطوں اور ملکوں کی حکمرانی قدرت نے غیر مسلموں کو سونپی ہے انہوں نے اپنی ان ریاستوں کو جنت نظیر بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور جن ممالک کا انتظام اور حکمرانی مسلمانوں کے پاس ہے انہوں نے ان علاقوں کو جہنم بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ عدل اور انصاف کی بالادستی مسلمان ریاستوں کی میراث تھی جن سے آج کے مسلمان ملک محروم ہوتے جا رہے ہیں جبکہ غیر مسلم معاشروں نے عدل اور انصاف کو اپنے لئے پہلی ترجیح بنا رکھا ہے۔ اسی لئے کافروں کی جیلیں اور قید خانے بھی مسلمان ملکوں کے عام لوگوں کی رہائش گاہوں سے ہزاروں گنا بہتر ہیں۔ پاکستان کی مختلف جیلوں میں سینکڑوں ایسے مجبور لوگ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں جن کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا اور وہ اپنی ضمانت کرانے تک کے وسائل سے محروم ہیں۔

جیلوں میں ان قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ایسے بے گناہ قیدیوں کے بارے میں بھی گاہے بہ گاہے خبریں آتی رہتی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کی کئی دہائیاں صرف اس لئے جیل میں گزار دیں کہ ان کے پاس انصاف کے حصول اور وکیل کرنے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ جن ملکوں اور معاشروں میں بے کس و مجبور اور بے آسرا لوگ، تھانوں، عدالتوں اور جیلوں تک انصاف سے محروم رہیں اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ عدل کے انتظار میں ذلیل و خوار ہوتے ہوئے گزار دیں وہاں اللہ کی برکتوں اور رحمتوں کی بجائے خالق کائنات کا قہر نازل ہونے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ عادل ہے اور وہ اپنے بندوں کے ساتھ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ہمیں ایک لمحے کے لئے اپنے گریبانوں میں ضرور جھانک کر دیکھنا چاہئے کہ ہم اپنی سماجی اور ذاتی زندگی میں کس حد تک عدل اور انصاف سے کام لیتے ہیں اور عملی طور پر ہمارے معاشرے میں عدل و انصاف کو کتنی بالادستی حاصل ہے۔یہ اٹل حقیقت ہے کہ جس دن ہمارے ملک کے تھانے، کچہری، عدالتوں اور جیلوں میں عام لوگوں کو انصاف میسر آنا شروع ہو گا اور ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عدل و انصاف کو اپنی پہلی ترجیح بنا لیں گے اللہ رب العزت کی رحمتوں اور برکتوں کی بارش ہم پر برسنا شروع ہو جائے گی اور ہم مصیبتوں، مشکلوں اور مسائل سے نجات پانے لگیں گے اوربدحالی سے خوشحالی کی طرف ہمارے سفر کا آغاز ہو جائے گا۔

٭٭٭٭٭٭