حکومت کی تبدیلی کے ثمرات

پنجابی کی ایک مثال ہے مج ویچ کے گھوڑی لیئی دودھ پینو گیا لد سٹنی پیی (یعنی بھینس فروخت کر کے گھوڑی خرید لی پہلے دودھ پیتے تھے اس سے بھی گئے بلکہ اب گھوڑی کے ناز نخرے بھی اٹھانے پڑ رہے ہیں ) اچھا بھلا سسٹم چل رہا تھا اور منطقی انجام کے قریب تر تھا کہ نجانے کس سیانے نے اتحادی سیاسی جماعتوں کے اکابرین کو مت دی کہ اپنا ہاتھ بیلنے میں دے دو اب مرتے کیا نہ کرتے والی پوزیشن ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ ریاست سمیت ادارے اور اتحادی حکومت بہت بری طرح پھنس چکے ہیں اچھے بھلے سمجھدار قسم کے کاریگر لوگ سٹیرنگ پر بیٹھے تھے لیکن بیٹھتے ہی گاڑی موڑ کاٹتےگہری کھائی میں گراچکے ہیں جہاں سے نکلنا بہت مشکل کام ہے آئی ایم ایف اس صورتحال کا خوب فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کی باتیں ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے تمام اتحادی سیاسی جماعتوں کی حکومت یہ بیانیہ گھڑنے کی کوشش میں ہے کہ یہ جو مسائل ہیں اس کہ ذمہ دار تحریک انصاف کی حکومت ہے جس نے آئی ایم ایف سے غلط معاہدے کیے لیکن عوام یہ ماننے کو تیار نہیں وہ کہتے ہیں کہ عمران جیسے بھی تھا معاملات چلا رہا تھا تم سے کیوں نہیں چل رہے ہمیشہ لوگ حکومت کے خاتمہ پر جشن مناتے ہیں عمران خان کی پہلی حکومت تھی جس کے بعد لوگ اس کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے اور وہ پہلے سے زیادہ پاپولر ہو گیا اچھا بھلا کاروبار مملکت چل رہا تھا ایسی بریک لگی کہ معاملات سب کے ہاتھوں سے نکل گئے اب تمام تر کوششوں کے باوجود افراتفری ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ڈالر کی قیمتیں کسی حد تک کنٹرول میں تھیں ملک سیاسی طور پر مستحکم تھا بجلی کی لوڈشیڈنگ کبھی کبھار ہوتی تھی زرمبادلہ کے ذخائر بھی مناسب تعداد میں موجود تھے ایکسپورٹ بڑھ رہی تھیں لیکن جب سے سیاسی افراتفری نے سر اٹھایا جب سے تحریک عدم اعتماد کا ڈھول ڈالا گیا اراکین اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوا اس وقت سے ریورس گیئر لگ گیا اور اب ریورس گیئر ایسا پھنسا ہے کہ نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہا اب جو مرضی کہیں لیکن یہ تبدیلی پاکستان کو بہت مہنگی پڑی ہے اس نے پاکستان کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں سیاسی استحکام دور دور تک نظر نہیں آرہا اور جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا معاشی استحکام کا سوچا بھی نہیں جا سکتا ہم اپنی بقا کے لیے آئی ایم ایف کے نخرے بھی اٹھا رہے ہیں اور اس کی ہر جائز ناجائز بات بھی مان رہے ہیں اور اس کے مطالبات پورے کرتے کرتے عوام کا کچومر نکال بیٹھے ہیں اور وہ مغرور حسینہ کی طرح ماننے کا نام ہی نہیں لے رہی بجٹ سے پہلے اور بجٹ میں ہم نے آئی ایم ایف کی وہ والی شرائط بھی مان لی ہیں جو ہماری اوقات سے بھی باہر تھیں اب کہا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف سے نیا پروگرام لے کر قرض کی قسط ادا کر کے الیکشن میں جایا جائے گا اور عمران خان بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ حکومت ڈیڑھ ماہ تک ختم ہو جائے گی لیکن میرا خیال ہے کہ اتنی جلدی الیکشن ہوتے نظر نہیں آ رہے یہ حکومت جس دلدل میں پھنس چکی ہے اس کی پوری کوشش ہے کہ وقت پورا کیا جائے اب اصل مسئلہ وقت پورا کروانے والوں پر ہے کہ وہ کتنی دیر برداشت کرتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ اس حکومت کے ٹائم فریم میں بہت بڑا ہاتھ پنجاب میں ہونے والے 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات کا بھی ہے اگر تو مسلم لیگ ن زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کر گئی تو یہ سیٹ اپ چلتا رہے گا لیکن اگر تحریک انصاف پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو پھر پنجاب میں تحریک انصاف ایسی رکاوٹیں کھڑی کرے گی کہ مرکز میں اتحادی حکومت کا چلنا مشکل ہو جائے گا اور تحریک انصاف فنی لحاظ سے حکومت کو بے بس کر کے نئے الیکشن میں جانے پر مجبور کر سکے گی تحریک انصاف کو بھی یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ احتجاج کے ساتھ وہ اس حکومت کو گھر نہیں بھیج سکتے ملک چلانے کے لیے بھی بعض مجبوریاں ہیں البتہ ٹیکنکل طریقے سے ناک آوٹ کیا جا سکتا ہے اگر ضمنی الیکشن کے نتیجے میں پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بن جاتی ہے تو پھر مرکز کے خلاف ایسا احتجاج مینج ہو گا جسے قابو کرنا کسی کے بس میں نہیں ہو گا لہذا اصل معرکہ ضمنی الیکشن ہیں یہ ٹرینڈ سیٹر ہوں گے کہ لوگ اگلے الیکشن میں کیا چاہتے ہیں لوگ لوٹوں کو قبول کرتے ہیں یا نہیں ہم نے حکومت کی تبدیلی سے بہت نقصان کیے ہیں اوورسیز پاکستانیز کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اب معلوم ہو رہا ہے کہ اوورسیز پاکستانیز جو ریمنٹس ہر ماہ پاکستان بجھواتے تھے ان میں ایک چوتھائی کمی آچکی ہے ایکسپورٹ کم ہو رہی ہے لیکن ایک بات ہم پوری دنیا پر واضح کر چکے ہیں کہ ہم میں یہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے کہ ہم جب چاہیں تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس میں ہم نے کبھی نفع نقصان نہیں سوچا اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔