جادونگری

کئی بار ایسے معلوم ہوتا ہے یہ ملک ایک جادو نگری ہے جہاں سوچ اور تصور سے بالاتر کام آنکھ جھپکتے ہی ہو جاتے ہیں ایسی ایسی انہونیاں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے پرانی بات ہے میں ایک قومی اخبار کا ایڈیٹر تھا اپنے آفس میں بیٹھا اس روز کی اہم خبروں کا جائزہ لے رہا تھا میرا نیوز ایڈیٹر اور چیف رپورٹر بھی ساتھ بیٹھے تھے ہم خبروں کا لے آوٹ فائنل کر چکے تھے مجھے اچانک ایک “سورس” کا فون آتاہے ایک بڑی خبر ہے میں نے کہا بتائیں اس نے کہا انتظار کریں میں تھوڑی دیر بعد فون کرتا ہوں میں نے اپنے نیوز ایڈیٹر سے کہا کہ فرنٹ پیج پر جگہ رکھ لیجیے گا ہو سکتا ہے ہمیں لیڈ یا سپر لیڈ تبدیل کرنی پڑے اب میں خبر کے انتظار میں تھا میرا تجسس بڑھتا جا رہا تھا لیکن سورس کا فون نہیں آ رہا تھا تنگ آکر میں نے دو بار خود فون کیا وہ بھی اٹینڈ نہ ہوا پھر تھوڑی دیر بعد اس کا فون آیا کہ کل پنچھی اڑ جائے گا اور فون بند ہو گیا میں نے اپنی عقل کے گھوڑے دوڑائے لیکن میں خبر تک نہ پہنچ پایا میں نے فون کیا کہ ایک دو ہنٹس اور دیں مجھے سمجھ نہیں آئی پھر انھوں نے بتایا کہ کوٹ لکھپت جیل میں بند غیر ملکی پنچھی کل اڑ جائے گا اب میں خبر تک تو پہنچ چکا تھا کہ کوٹ لکھپت میں بند امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کی بات ہو رہی ہے میں نے خبر ڈویلپ کرنے کے لیے حکومتی حلقوں اور جیل حکام کو بھی فون کیے لیکن کہیں سے بھی کنفرمیشن نہیں ہو رہی تھی دوسری جانب میرا سورس بڑا پکا تھا مجھے یقین تھا کہ وہ میرے ساتھ غلط بیانی نہیں کر سکتا میں نے اپنے کئی دوست وکلاء سے بھی مشورہ کیا کہ جس بندے کے خلاف کیس زیر سماعت ہو اس کو رہا کیا جاسکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن ہی نہیں عدالتی کارروائی کے بغیر اسے رہا کیا جائے اب میری بے چینی اور بڑھ چکی تھی میں خبر کے پٹ جانے کا رسک بھی نہیں لے سکتا تھا اور خبر کو اگنور بھی نہیں کر سکتا تھا اپنی ساکھ کا بھی خیال تھا میں نے ایک محفوظ سی خبر بنائی کہ کوٹ لکھپت جیل میں بند اہم شخصیت کی رہائی کا امکان اور اسے سنگل کالم لگوا دیا ساتھ ہی میں نے اپنے رپورٹر کی ڈیوٹی لگائی کہ کل جیل میں ہونے والی سرگرمیوں کا خصوصی خیال رکھنا اگلے دن ہونے والی انہونی کے تانے بانے سامنے آئے تو سب سمجھ میں آ گیا کہ جادو چل چکا ہے مقدمہ کے تمام گواہان مقتولین کے تمام ورثا جیل پہنچ چکے تھے عدالت جیل کے اندر لگ چکی تھی راستہ یہ نکالا گیا کہ ورثا نے جیل میں دیت کی بھاری رقم وصول کی وہیں موجود عدالت کو اشٹام پیپر لکھ کر دیے بیانات قلمبند کروائے اور ریمنڈ ڈیوس جیل کے اندر سے ہی ایک کالی گاڑی میں بیٹھ کر ائیر پورٹ کی طرف روانہ ہوا جہاں ایک خصوصی جہاز اس کے انتظار میں کھڑا تھا وہ بغیر پاسپورٹ کے اور امیگریشن کے جہاز میں سوار ہوا پاکستانیوں کو اس وقت علم ہوا جب وہ امریکہ پہنچ چکا تھا اسی طرح میں نے جنرل پرویز مشرف کے وردی اتارنے کے فیصلے بارے انفارمیشن دی تو میرے چیف ایڈیٹر نے مجھے کہا کہ تم اخبار بند کرواؤ گے میں نے بتایا کہ جادو چل چکا ہے یہ خبر شائع کرنے کے لیے نہیں آپ کی اطلاع کے لیے ہے پھر میں نے جنرل پرویز مشرف کے بطور صدر مستعفی ہونے کی خبر دی جو میرے اخبار میں لیڈ سٹوری شائع ہوئی کہ ڈیل فائنل محفوظ راستہ چار دن بعد جنرل مشرف کو پروٹوکول کے ساتھ گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا گیا پھر ہم نے دیکھا کہ میاں نواز شریف جنھیں عدالت کی طرف سے سزا دی گئی تھی وہ جیل میں بند تھے کہ اچانک جادو نے کام دکھانا شروع کر دیا ان کے پلیٹ لیٹس اوپر نیچے ہوئے اور انھیں بیرون ملک روانہ کر دیا گیا جب وہ جہاز کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے اور جہاز کے اندر ہشاش بشاش بیٹھے تصویریں بنوا رہے تھے وہ تصویریں وائرل بھی ہوئیں تو ہم نے کہا تھا کہ یہ تصویریں کسی کو پیغام تھا کہ یہ دیکھو میں تمھارے سسٹم کو بالاطاق رکھ کر جا رہا ہوں۔

یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمی سے ہٹانا اور کچھ عرصہ قبل انھیں اکثریت نہ ہونے کے باوجود سینٹر منتخب کروانا جبکہ اکثریت ششدر تھی کہ یہ کیا ہو گیایہ سب جادوگری تھی اسی طرح صادق سنجرانی کو اقلیتی ووٹوں سے چیرمین سینٹ منتخب کروانا ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانا یہ سب عقل سے بالاتر معاملات ہیں یہی جادوگری ہے ابھی حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ میاں نواز شریف، مریم نواز، خواجہ آصف، میاں جاوید لطیف، سردار ایاز صادق، منظور پشتین جس طرح اداروں کے خلاف خیالات کا اظہار کیا کرتے تھے اور ان کے خلاف درجنوں مقدمات تھے خاص کر ان اینکر صاحبان جن پر پابندیاں لگی ہوئی تھیں کس جادوگری کے نتیجے میں آج وہ بھاشن دیتے نظر آتے ہیں دھرنے دلوانا دھرنے ناکام بنوانا رائی کو پہاڑ بنانا اور پہاڑ کو رائی بنانا یہ سب گورکھ دھندا ہے اتحادیوں کو دوسری راہ دکھانا، اکثریت کو اقلیت میں بدلنا اور اقلیت کو اکثریت میں بدلنا عام روٹین نہیں یہ جادوگری سے ہی ممکن ہے جو نکے کے ابا کی مثالیں دیا کرتے تھے آج نکے کے ابا کے ہاتھوں کا کھلونا ہیں یہ روٹین میٹر نہیں ہے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی وطن واپسی کا جادو بھی چل چکا ہے اور میاں نواز شریف بھی جادو گروں کے رابطے میں ہیں لیکن بھائی جان جادو کے راستے کی رکاوٹ ہیں وہ کہتے ہیں ابھی وقت نہیں کراچی کی ایک تنظیم کے سابق سربراہ بھی جادو کروانے کے چکروں میں ہیں پنجاب میں 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں ہوا کے برعکس کامیابی کے حصول کے لیے بھی جادو کروایا جا رہا ہے اللہ خیر کرے اللہ اس ملک سے جادو کے اثرات ختم کرے۔