حکومت نے مہنگائی کا طوق گلے میں ڈال لیا

حکومت نے پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 60 روپے کا اضافہ کر دیا ہےجبکہ بجلی کی قیمت 8 روپے فی یونٹ بڑھائی جارہی ہے اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے لیے بھی پر تولے جا رہے ہیں، گھی اور کوکنگ آئل میں ایک ہی جھٹکے میں 150روپے فی کلو اضافہ کر دیا گیا ہے چاول 50 روپے کلو بڑھ گئے ہیں دالوں کی قیمت میں 20روپے سے لے کر 60 روپے کلو تک اضافہ ہو گیا ہے ڈالر ہر آنے والے دن روپے کی بے قدری میں اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے. توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث پیداواری اخراجات میں اضافہ ہو گیا جس کی وجہ سے ہر شےکی قیمت میں از خود اضافہ ہوتا جارہا ہے اوپر سے حکومتی رٹ نہ ہونےکی وجہ سے انتظامیہ کا قیمتوں پر کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہے ہر کوئی اپنی پراڈکٹ کی قیمت از خود طے کرتا ہے ٹرانسپورٹروں نے اپنے طور پر20 فی صد کرایہ بڑھا لیا ہے، تنور والوں نے روٹی اور نان کی قیمت میں اپنے طور پر اضافہ کر دیا ہے دوکانداروں نے اپنے منافع از خود بڑھا لیا ہے مہنگائی کا اتنا بڑا طوفان پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔

چاروں طرف سے اچانک مہنگائی بموں سے شیلنگ کی جارہی ہے جس سے ہر سو تباہی پھیلتی چلی جا رہی ہے عوام کے آمدنی کے وسائل مہنگائی کے باعث مزید کم ہو گئے ہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ وہ کس کی ماں کو ماسی کہیں ابھی تو مہنگی توانائی کا اثر انڈسٹری پر پڑے گا جس کی وجہ سے بہت ساری انڈسٹری بند ہونے کا خدشہ ہے لوگوں میں بے روز بڑھے گی غرضیکہ ہر آنے والے دن میں افراتفری بڑھے گی،موجودہ حکمرانوں نے اقتدار کے شوق میں مہنگائی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا ہے جس کی قیمت انھیں ادا کرنا پڑے گی وہ جتنا مرضی بیانیہ بنانےکی کوشش کریں کہ پچھلی حکومت کے آئی ایم ایف سے معاہدوں کی وجہ سے مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ لیکن عوام اس بیانیے کو ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ یہ بیانیہ حکومت کو مزید پھنسا دے گا لوگوں کا کہنا ہے کہ پچھلی حکومت آئی ایم ایف کے دباو کے باوجود نہ تو پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی تھی اور نہ ہی بجلی کی قیمتیں بڑھا رہی تھی انہیں اس سے بھی کوئی سروکار نہیں کہ حکومت سبسڈی کو کیسے برداشت کر رہی تھی ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر پچھلی حکومت مینج کر رہی تھی تو یہ کیوں مینج نہیں کر پا رہے کیا یہ مہنگائی بم چلانے کی یقین دہانی پر اقتدار میں لائے گئے تھے ، اتحادی جماعتوں پر مشتمل حکومت کی عوام میں کتنی شہرت ہے یہ سب کو علم ہے عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمہ کے لیے جو بیانیہ عوام کے سامنے پیش کیا اس سے عوام میں اس کی ہمدردیاں مزید بڑھ گئی ہیں اس وقت حکومت سے علحیدہ ہونے کے باوجود عمران خان اپنی شہرت کی بلندیوں پر ہیں اوپر سے حکمرانوں نے جس قسم کی مہنگائی کے ذریعے تباہی پھیلا دی ہے الیکشن بے شک آج ہو جائیں چار ماہ بعد ہوں یا وقت مقررہ پر اگلے سال ہوں۔ ہرآنے والا دن حکومت کے لیے مشکلات کا باعث بنے گا تو اتحادی حکومت کا جو ڈھول میاں شہباز شریف نے خوشی خوشی اپنے گلے میں ڈال لیا ہے۔ وہ انھیں بجانا پڑے گا یہ حکومت اس قابل نہیں کہ ترقیاتی کاموں کے ذریعے سے ووٹروں کو متاثر کر سکے کیونکہ بحران اتنے سنگین ترہو چکے ہیں کہ ان سے نبرد آزما ہونا اتنا آسان کام نہیں یہ سارا بجٹ بھی سبسڈیوں میں جھونک دیں تب بھی یہ عمران خان کے دور والی قیمتیں واپس نہیں لا سکتے انھیں عوام کے غیض و غضب کا سامنا کرنا ہی پڑےگا انھوں نے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لاکر تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کی ہے اس کے بعد ان کے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ عمران خا ن کی حکومت کے خاتمہ کے بعد یہ فوری الیکشن میں چلے جاتے تو شاید تھوڑا بھرم رہ جاتا لیکن اب یہ مکمل طور پر پھنس چکے ہیں۔

عمران خان کو اب کسی لانگ مارچ کی ضرورت نہیں رہی اب عوام خود ہی مہنگائی کو کوستے رہیں گے اور حکومت کو کلام بخشتے رہیں گے عمران خان کو چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی بیانیے کے ساتھ ساتھ مہنگائی کے بیانیے کو فوکس کر یں لوگوں کی جوں جوں مشکلیں بڑھیں گی۔ توں توں اس حکومت کو جان چھڑوانا مشکل ہو جائے گا اچھا بھلا عمران خان کےلانگ مارچ کے موقع پر ایک ماحول بن چکا تھا اور کہیں یقین دہانیاں بھی۔ ہو چکیں تھیں کہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے گا لیکن حکومت کے بعض خیر خواہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کا لانگ مارچ رکوا دیا۔ جائے تو وہ فوری سخت فیصلے کر کے معاملات کو سنبھال لیں گے اب عمران خان کا لانگ مارچ تو ختم کروا دیا گیا لیکن حکومت معاملات سنبھالنے میں ناکام نظر آتی ہے اب عمران خان نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی۔ ہے وہ دیکھو اور انتظارکرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور کہنا ہے کہ انہیں چاو پورے کر لینے دو حکومت کی حالت اس وقت اس سانپ جیسی ہے جو چھپکلی کو ناں نگل سکتا ہے نہ چھوڑ سکتا ہے حالات ایسے پیدا ہو چکے ہیں کہ حکومت کا ہر دن انھیں بے نقاب کرتا چلا جائے گا اور عمران خان کی شہرت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اب بجٹ کا انتظار ہے کہ کاریگروں کی حکومت اس میں کیا گل کھلاتی ہے خیر کی توقع تو نہیں پھر بھی دیکھنا ہے کہ کیا جادو گری دکھائی جاتی ہے عوام کے ساتھ جو ہونا ہے اس کے آثار نظر آ رہے ہیں لیکن حکومت اپنے اہداف کامیابی کے ساتھ حاصل کرتی چلی جا رہی ہے پارلیمنٹ سے انتخابی اصلاحات اپنی مرضی کی کروائی جا چکی ہیں اوورسیز کا ووٹ ختم کر دیا گیا ہے نیب کو قابو کر لیا گیا ہے اپنی مرضی کے الیکشن کمیشن کے ارکان کا تقرر کروالیا گیا ہے اب چیرمین نیب بھی مرضی کا لایا جا رہا ہے اپنے کیسز کا خاتمہ باقی رہ گیا ہے وہ ہدف مکمل ہو گیا تو ایجنڈا مکمل ہو جائے گا ملک کی خیر ہے۔