پاکستان کا سوئیٹزر لینڈ گلگت بلتستان

کئی بار سوچتا ہوں کہ ہم کتنے نا شکرے لوگ ہیں اللہ تعالی نے ہمیں لاتعداد نعمتوں سے نواز رکھا ہے یہ انسانی جبلت ہے کہ جو چیز اپنےپاس ہو اس کی قدر نہیں ہوتی لیکن جو دسترس سے باہر ہو ویسے ہی اچھی لگتی ہے اللہ تعالی نے ہر ذرے میں رعنائی رکھی ہے دنیا کے مختلف ممالک کے پاس محدود قسم کا انوائرمنٹ ہے محدود قسم کی خوبیاں اور وسائل ہیں لیکن وہ ان ہی محدود وسائل کی اچھے انداز سے مارکیٹنگ کر کے اس کی بہتر مینجمنٹ کر کے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن ہمارے پاس لامحدود وسائل ہیں دنیا کی دلچسپی کے ہزاروں مقامات ہیں خوبصورت موسم ہیں حسین وادیاں ہیں دلکش لینڈ سکیپ ہے آنکھوں کو بھا جانے والی گرینری آبشاریں جھیلیں دریا سمندر نہریں میدان اپنی طرف متوجہ کرنے والے پہاڑ ریگستان مختلف اقسام کی آب وہوا اور دلکش موسم ہیں لیکن بدقسمتی ہم قدرت کی عنایات سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہے بلکہ ہم قدرت کے انمول خزانوں کو ضائع کر کے کفران نعمت کر رہے ہیں کیا دنیا میں کوئی ایسا ملک ہے جس کے پاس چار موسم ہوں جہاں بیک وقت ملک کا ایک حصہ گرم ترین یو جہاں 50 ڈگری کی گرمی پڑ رہی ہو اور دوسری جانب گلیشیر موجود ہوں پاکستانیوں اپنے ملک کو گھوم پھر کر دیکھو دنیا میں شاید ہی کوئی ایسادوسرا شاہکار ہو پاکستان انمول خزانوں کی سر زمین ہے ہمارے دوست پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے صدر ملک سلمان جو کہ خود بھی کالم نگار ہیں اور سیاحت کے دلدادہ ہیں وہ ہمت کر کے صحافیوں کے ٹور کی کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے ہیں مینجمنٹ کے ماہر ہیں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ اچیومنٹ کا خاصا رکھتے ہیں اس بار فیڈریشن کو حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے استور کے پرفضا مقام راما ویلی میں ہونے والے 9ویں راما پولو فیسٹول کی دعوت تھی صحافیوں کے لیے وقت نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے خاص کر ایسے حالات میں جب سیاسی چپقلش عروج پر ہو تو صحافیوں کا کام اور بڑھ جاتا ہے ان مشکل حالات میں انھوں نے خوبصورت ٹرپ مینج کیا۔

لاہور سے سفر کا آغاز ہوا کراچی کے دوستوں کو اسلام آباد بلوایا ہوا تھا وہ اور اسلام آباد کے ساتھیوں کو موٹر وے پر ہی بلوا لیا ہمارا پہلا پڑاو ناران ویلی کے علاقہ بٹہ کنڈی میں تھا یہ نیا ٹورسٹ پوائنٹ ڈویلپ ہو رہا ہے بجلی موبائل اور انٹرنیٹ کے سگنل نہ ہونے کے باوجود دوسرے ذرائع سے چیزیں مینج کی جا رہی ہیں لیکن ہمارے جی بی کے دوستوں کی میزبانی بٹہ کنڈی سے ہی شروع ہو گئی رات قیام کے بعد اگلے سفر کا آغاز ہوا تو راستے میں لالو سر جھیل نے آگے بڑھنے سے روک لیا وہاں تصویر کشی کے بعد دوبارہ سفر کا آغاز کیا تو بابو سر ٹاپ کی منفرد خصوصیات کیسے آگے جانے دے سکتی تھیں وہاں شدید سردی نے گرم کپڑے پہننے پر مجبور کر دیا لیکن جونہی چلاس میں داخلے کے بعد اتروائی شروع ہوئی تو گرمی نے دوبارہ گھیر لیا جی بی گورنمنٹ نے سیاحوں کی رہنمائی کے لیے ہر اتروائی کے بعد اپنے اہلکار کھڑے کر رکھے ہیں جو گاڑیوں کو ایک سائیڈ پر لگوا کر گاڑیوں کے ٹائر ٹھنڈے کرواتے ہیں کیونکہ اتروائی میںں بریک کے زیادہ استعمال سے بریک شو گرم ہو جاتے ہیں اور بریک نہیں لگتی اس کی وجہ سے کئی حادثات ہو چکے جی بی حکومت نے حادثات سے بچنے کیلئے اہلکار تعینات کر دیے ہیں ہمارے یہاں تو پولیس کا ناکہ دیکھ کر کچھ اور ہی خیال آتا ہے لیکن جی بی پولیس اور رضا کار انتہائی شائستہ انداز میں آپ کو احساس دلاتے ہیں کہ آپ کی زندگی زیادہ قیمتی ہے بابو سر ٹاپ سے چند کلو میٹر نیچے اترنے کے بعد ایک تاریخی عمارت اے پی ہاوس ہے جو کہ انگریز دور کی لکڑی کی بنی ہوئی شاندار عمارت ہے ڈپٹی کمشنر چلاس کی دعوت پر ہمیں اس کا وزٹ کروایا گیا اور وہیں دریا کے کنارے کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا ڈپٹی کمشنر چلاس فیاض احمد کی میزبانی یاد رہے گی لیکن ساتھ ہی افسوس بھی رہے گا کہ اتنے اعلی میزبان سے ملاقات نہ ہو سکی کیونکہ ان کی سرکاری ذمہ داریاں رکاوٹ بن گیں اس سفر کی یادیں تو بہت ہی انمول ہیں ایسے محسوس ہوا جیسے تمام ہمسفر شرکاء فیملی ممبر ہوں سفر کو خوشگوار بنانے میں پی ٹی وی کے اینکرایازاسلم اور علی جنت مقامی ٹی وی کے سی ای اوزاہد نقوی اور کراچی سے خصوصی طور مدعو بول ٹی وی کی اینکر افشین تو رونق محفل رہیں باقی ممبران بھی بڑے زندہ دل تھے خصوصی طور پر میڈم روبینہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی آر کا کردار گروپ کیپٹن کا تھا ڈیلی پاکستان کی اینکر عروسہ خان نے اپنی وکھری ٹائپ کی شناخت برقرار رکھی 92 نیوز کی اینکر اقرا بخاری، ڈان ٹی وی کی رپورٹر کرن خان اور ایکسپریس ٹی وی سےانعم حنیف دیگر اینکرز اور بلاگرزخدیجہ، عائشہ انور ، کرن جان، فروا شاہ،حرا اقبال، کنزہ بشیر،اقرا مبین ،سمرین طفیل،رابیل رانااور حرا خان نےبھی سفر کو خوشگوار بنائے رکھا ایک طویل تھکا دینے والے سفر کے بعد جب ہم استور پہنچے تو دنیا سو رہی تھی لیکن ہمارے میزبان ڈپٹی کمشنر استور ذوالقرنین ٹریک سوٹ پہنے پولو فیسٹول کے انتظامات میں مصروف تھے استور سے راما تک کاراستہ انتہائی پر خطر اوپر سے اندھیرا خوف کے عالم نے سب کو اللہ اللہ کرنے پر مجبور کر دیا لیکن میزبان کے انتظامات نے ساری تھکاوٹ فشوں کر دی ہمیں جہاں ٹھہرایا گیا وہاں عمران خان، میاں نواز شریف، میاں ثاقب نثار جیسی شخصیات قیام کر چکی ہیں راما پولو فیسٹول اس علاقے کا سب سے بڑا فیسٹول ہے تین روزہ میلے میں استور کے علاوہ دور دراز علاقوں سے لوگ شرکت کرتے ہیں لیکن استور کے بچے جوان خواتین سب میلے میں شریک ہوتے ہیں پہلے روز ہمیں وزیر اطلاعات وپلاننگ فتح اللہ خاں وزیر خوراک مشتاق حسین، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر نے راما فیسٹول بارے بریفنگ دی ان سے گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ اور ڈویلپمنٹ بارے گفتگو ہوئی وزیر پلاننگ نے شکوہ کیا کہ پی ڈی ایم کی وفاقی حکومت نے ہمارے فنڈز روک لیے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بعدازاں زندہ دل وزیر اطلاعات فتح اللہ ہماری درخواست پر ہمارے ساتھ پون گھنٹہ پیدل چل کر راما جھیل پر گئے فتح اللہ کے دست راست چوہدری حسین ولی مغل بھی ہمراہ تھے ساتھیوں نے اپنے اداروں کے لیے ان کا انٹرویو کیا اگلے روز ہم نے دیو سائی جانے کا منصوبہ بنایا چلم کے مقام تک اپنی گاڑیوں میں سفر کیا اور اس سے آگے جیپوں پر سفر کرنا پڑا یہ ہچکولوں سے بھر پور جسم کے انگ انگ کو ہلا دینے والا تکلیف دہ سفر اپنی جگہ پر لیکن جتنے خوبصورت نظارے یہاں قدرت نے سمو رکھے ہیں یہ پاکستان کا سوئیٹزر لینڈ لگتا ہے دیو سائی جھیل کا نیلا پانی، کالا پانی کے مقام پر پانی کا رنگ کالا اور شیوسر جھیل کے پانی کے اپنے نظارے ہیں اتنے خوبصورت میڈوز ہیں کہ لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتے کہیں نیلے سفید بادل زمین کے ساتھ مل کر خوبصورت منظر بناتے ہیں تو کہیں لینڈ سکیپنگ اپنی رعنائیوں میں غرق کر لیتی ہے اگر حکومت صرف ایک کام کر لے کہ وہ روڈ انفراسٹرکچر درست کر لے تو پاکستان کی لوکل سیاحت ہی نہ سنبھالی جائے جی بی میں سیاحت کے فروغ کیلئے انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک کو بہتر بنانا ہو گا ہم نے جو محسوس کیا ہے کہ ہر سیاحتی مقام پر جیپ مافیا کا راج ہے اور شاید وہ سڑکیں بنانے میں رکاوٹ ہیں بہرحال سیاحت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ روڈ انفراسٹرکچر ہے گلکت بلتستان امن و امان کے حوالے سے رول ماڈل ہے خاص کر استور کا علاقہ تو ناقابل یقین حد تک آئیڈیل ہے استور کے سب سے زیادہ آبادی والے تھانے میں ایک سال میں صرف 25 مقدمات درج ہوئے جبکہ ایک تھانے میں صرف 4مقدمات درج ہوئے لیکن دشمن کو یہ امن ایک آنکھ نہیں بھا رہا ہم جو محسوس کر رہے ہیں جی بی میں فرقہ واریت کا بیج بویا جا رہا ہے اور علاقائی مسائل پر لوگوں کو اشتعال دلوایا جا رہا ہے حکومت کو ان کے سد باب کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے جی بی کے وزیر اعلی خالد خورشید سے بھی ملاقات ہوئی جو کہ راما پولو فیسٹول کی اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی تھے اس تقریب میں غیر ملکی سیاح بھی موجود تھے اختتامی تقریب کے ساتھ ہی ہم نے بھی واپسی کا رخت سفر باندھا آخر میں ہم اپنے میزبان ڈپٹی کمشنر استور ذوالقرنین صاحب کے مشکور ہیں کہ انھوں نے اپنی سرکاری مصروفیات کے باوجود ہر لمحے ہمارا خیال رکھا حالانکہ اس علاقے کےسب سے بڑ ےراما پولو فیسٹول کی وہ میزبانی بھی کر رہے تھے ملکی وغیر ملکی مہمانوں کو سنبھالنا وزیر اعلی جی بی کے دورہ کے انتظامات کرنا بہت مشکل مرحلہ تھا لیکن ذوالقرنین جو کہ بہت اچھے شاعر اور اس سے بڑھ کر عظیم انسان ہیں وہ اپنی ٹیم کو بھائیوں کی طرح لے کر چلتے ہیں کاش پورے پاکستان کو ایسے افسر میسر آجائیں تو پاکستان کی قسمت بدل جائے۔