گرینڈ اوور سیز کلب

کہتے ہیں کہ جو مکالڑائی کے بعد یاد آئے اسے اپنے منہ پر ہی مار لینا چاہئے۔ سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو اقتدار سے باہر ہونے کے بعد خیال آیا کہ انہیں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرانے کے لئے گرینڈ اوورسیز کلب بنانا چاہئے۔ اگر ان کے دل میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اتنا ہی درد ہے تو انہیں چاہئے تھا کہ وہ گورنری قبول کرنے کی بجائے سینیٹر ہی رہتے اور پاکستانی تارکین وطن کے وزیر یا مشیر بن کر وہ کام کرتے جو وہ اب کرنا چاہتے ہیں۔ چوہدری محمد سرور صاحب کا خیال ہے کہ گرینڈ اوورسیز کلب کی تشکیل سے وہ دنیا بھر میں آباد تقریباً ایک کروڑ پاکستانیوں کو اپنی طرف متوجہ کر کے ان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ اوورسیز پاکستانی اب کسی کے بہکاوے میں آنے سے پہلے سوبار سوچتے ہیں اور یہ ضرور دیکھتے ہیں کہ انہیں اپنے پیچھے لگانے کی کوشش کرنے والا شخص رہبر ہے یا رہزن۔

جس مسلم لیگ (ن) نے چوہدری محمد سرور کو پہلی بار گورنر بنایاانہوں نے اس جماعت کی قیادت سے وفا نہ کی اور پھر تحریک انصاف سے نکالے گئے تو پریس کانفرنس کر کے واویلا کیا کہ مجھے غیر آئینی کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ دونوں بار گورنری سے فارغ کئے جانے کے بعد چوہدری محمد سرور کی سیاسی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ معلوم نہیں ان حالات میں کوئی اور سیاسی جماعت انہیں قبول کرنے کے لئے تیار ہو گی یا نہیں۔ تارکین وطن کے مسائل کے حل کے لئے ہر دور حکومت میں طرح طرح کے دعوے اور وعدے کئے جاتے رہے ہیں لیکن کسی بھی دور میں ان مسائل کو حل کرنے کی سنجیدگی سے کوشش نہیں کی گئی۔ اوورسیز پاکستانیوں کی وزارت کے علاوہ فارن آفس اور او پی ایف یعنی اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن جیسے ادارے بیرونی دنیا میں بسنے والے اپنے ہم وطنوں کے مسائل اور مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں بلکہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں کمشنر برائے اوورسیز بھی متعین ہے۔ اگر چوہدری محمد سرور صاحب پی ٹی آئی حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے ان مذکورہ اداروں اور محکموں کے ذریعے پاکستانی تارکین وطن کے مسائل حل کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتے تو پونے چار سال کے عرصے میں بہت سے ایسے مثبت کام ہو چکے ہوتے جو اوورسیز پاکستانیوں کے نام نہاد نمائندے زلفی بخاری بھی نہیں کر سکے۔ ہمارے پاکستانی سیاستدان جب حکومت میں ہوتے ہیں تو عام لوگوں سے ملنا تک گوارا نہیں کرتے لیکن اقتدار سے محروم ہوتے ہی ان کے دل میں عوام کی محبت ایسے جاگ اٹھتی ہے جیسے چوہدری سرور صاحب حکومتی عہدے سے فارغ کئے جانے کے بعد تارکین وطن کی خیر خواہی کے علمبردار بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ملکوں اور خاص طور پر برطانیہ میں رہنے والے پاکستانیوں کو اپنے کسی بھی قسم کے معاملات میں کسی طرح کی سفارش یا رشوت کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہاں ملازمت کے حصول سے لے کر کسی سیاستدان کی پارلیمنٹ کے انتخاب کی سلیکشن تک ہر معاملے میں میرٹ اور اہلیت کو ہی معیار سمجھا جاتا ہے۔ نہ یہاں کسی کی جائیداد پر قبضہ ہوتا ہے اور نہ ہی کسی پر ناجائز مقدمہ بنوا کر اسے عدالتی الجھنوں میں پھنسایا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ اور خوشحال ملکوں میں رہتے ہوئے اوورسیز پاکستانی اور ان کی اگلی نسل جن آسانیوں اور سہولتوں کی عادی ہو چکی ہے وہ انہیں کبھی پاکستان میں میسر نہیں آ سکتیں۔ تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جنہوں نے پاکستان میں جائیدادیں خرید رکھی ہیں یا کوئی کاروبار شروع کیا ہوا ہے۔ روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے ایک تو ان کی انوسٹمنٹ غیر منافع بخش ہو چکی ہے اور دوسری طرف انہیں اپنے چھوٹے سے چھوٹے معاملے کے لئے قدم قدم پر سفارش اور رشوت کی ضرورت پیش آتی ہے جبکہ ان کے خلاف عدالتوں میں چلنے والے جھوٹے مقدمات اس کے علاوہ ہیں۔ ایسے حالات میں چوہدری محمد سرور یا ان کا گرینڈ اوورسیز کلب پاکستانی تارکین وطن کی کیا مدد کر سکتاہے؟ اس کے لئے پاکستان میں پورے سسٹم کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ چوہدری محمد سرور صاحب پنجاب کے گورنر تھے تو اوورسیز پاکستانیوں کو ان سے بہت سی توقعات وابستہ تھیں۔ بہت سے تارکین وطن اپنے مسائل کے حل کے لئے ان سے رجوع بھی کرتے تھے لیکن شاید ہی کوئی خوش قسمت ایسا ہو گا جس کا کوئی جائز مسئلہ حل ہو گیا ہو وگرنہ اکثر تارکین وطن کو صرف مایوسی کا ہی سامنا کرنا پڑا۔ ایسے اوورسیز پاکستانی جو وطن عزیز کے مفاد پرست سیاستدانوں سے تعلقات بنانے کے چکر میں پڑے رہتے ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ دعا کیا کریں کہ انہیں پاکستان میں کبھی کسی سے کوئی کام نہ پڑے کیونکہ وقت پڑنے پر کوئی سیاستدان یا افسر کام نہیں آتا۔ مسلم لیگ (ن) برطانیہ کے صدر زبیر گل اپنی برطانوی شہریت سے دستبردار ہو کر سینیٹر بننے پاکستان گئے تھے لیکن ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے نہ تو ان کو سینیٹر منتخب کروایا اور نہ ہی ان کی خدمات کے صلے میں انہیں کسی اور عہدے سے نوازا گیا۔ ہمارے سیاستدان اور حکمران اوورسیز پاکستانیوں کو بیوقوف بنانے اور سبز باغ دکھانے کے لئے ان سے طرح طرح کے وعدے تو ضرور کرتے ہیں لیکن کبھی کسی نے ان وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔ چوہدری محمد سرور صاحب کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ وہ 1997ء میں برطانوی پارلیمنٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب ہوئے تھے۔جب تک وہ برطانیہ میں رہے انہیں کسی قسم کے پروٹوکول کی عادت نہیں تھی اور نہ ہی وہ پاکستانی سیاستدانوں کی طرح اپنے لوگوں سے جھوٹے وعدے کرنے کے عادی تھے۔ ایک بار سینیٹر منتخب ہونے اور دو بار گورنر پنجاب بنائے جانے کے بعد ان کے اندر بھی پاکستانی سیاستدانوں کے طور طریقے سرایت کر چکے ہیں۔

پاکستان میں سیاست اب صرف مال و دولت اور کرپشن کا کھیل بن چکی ہے۔ بجائے اس کے کہ سرور صاحب پاکستان تحریک انصاف میں برطانیہ جیسی جمہوری اور اصولی سیاست کو فروغ دینے کا آغاز کرتے وہ خود پاکستانی سیاست کے رنگ میں رنگے جا چکے ہیں۔ جب وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے گورنر تھے تو برسر محفل اپنے قائدین نواز شریف اور شہباز شریف کے لتے لینے سے گریز نہیں کرتے تھے اور جب پاکستان تحریک انصاف نے انہیں گورنر بنایا تو اس کے بعد بھی وہ اپنے احباب کے حلقے میں عمران خان کے بخیے ادھیڑنے سے باز نہیں آتے تھے۔ اسی لئے وہ دونوں بار پاکستانی سیاست کے کوچے سے نکالے گئے۔ موجودہ حالات میں چوہدری محمد سرور کو چاہئے کہ وہ برطانیہ میں ہی رہیں اورپاکستانی سیاست کو خیر باد کہہ دیں۔ وہ ایک مالدار سیاست دان ہیں اب مزید مال کمانے کی بجائے اسے خرچ کریں۔ بغیر پروٹوکول کے گھومیں پھریں اپنے اچھے برے سیاسی تجربات سے برطانیہ میں آباد پاکستانی تارکین وطن کی نئی نسل کی رہنمائی کریں۔برطانیہ میں رہنے والے اپنے ہم وطنوں کو پاکستانی سیاست میں گھسیٹنے کی بجائے انہیں یونائیٹڈ کنگڈم کی سیاست میں شامل ہونے کی طرف مائل کریں جس طرح انہوں نے اپنے بیٹے انس سرور کو کیا ہے۔ برطانیہ میں سیاستدان ایک عمر کے بعد اپنی سیاسی اننگز کھیل کر ریٹائر ہو جاتے ہیں اور پرسکون زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔چوہدری محمد سرور صاحب کو بھی چاہئے کہ وہ سیاست سے ریٹائرمنٹ لے کر پرسکون زندگی گزاریں اور میدان سے باہر بیٹھ کر کھیل کا لطف لیں۔

٭٭٭