سویڈن میں دائیں بازو کی جماعتیں ہمیں پارلیمنٹ سے باہر دھکیلنا چاہتی ہیں، گرین پارٹی رہنما بولونڈ

سویڈن کی گرین پارٹی کے مشترکہ رہنما پیربولونڈ نے ایلمی ڈالن میں ساڑھے تیرہ منٹ تک ماحولیات، آب و ہوا، فوسل فیول، صحت کی دیکھ بھال، خواتین کے حقوق اور بہبود جیسے پارٹی کے بنیادی مسائل پر بات کرنے کے علاوہ انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کا نام لئے بغیر کہا کہ وہ ہمیں پارلیمنٹ سے باہر دھکیلنا چاہتی ہیں۔ اپنی دوسری مشترکہ رہنما مارتا سٹینیوی کے تعارف کے بعد بولونڈ نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی اس وعدے پر انتخابی مہم میں حصہ لے رہی ہے کہ بہبود کو مزید مضبوط کرنے کے لیے، زیادہ عملہ اور صحت کی دیکھ بھال میں کام کرنے کے بہتر حالات اور بغیر منافع کے اسکول جہاں پیسہ شیئر ہولڈرز کی بجائے ڈائریکٹ شاگردوں کے پاس جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت میں رہتے ہوئے دنیا کی پہلی فوسل فری فلاحی ریاست کی تعمیرکے لیے پارٹی کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

ہم جانتے ہیں کہ اگر ہم مستقبل میں فلاحی کام کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس اپنے وقت کے سب سے بڑے بحران ماحولیات اور آب و ہوا کے لیے خطرات کا مناسب جواب ہونا چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ مردہ سیارے پر کوئی فلاح نہیں ہوسکتی اسلئے ہمیں اپنے معاشرے کو ایک نئے دور میں لے جانے کی ضرورت ہے، جہاں ہم تیل پر انحصار ختم کریں، آب و ہوا کو درپیش خطرات پر قابو پانے کی کوشش کریں، اور فطرت کی حدود میں رہتے ہوئے ایک بہتر فلاحی ریاست کی تعمیر کریں، جسے ہم ایک نیا، ہرا بھرا لوکیم یعنی لوگوں کا گھر کہتے ہیں۔ سبز پالیسیاں شہروں کو مزید رہنے کے قابل بناتی ہیں، گلیوں کو گرمیوں میں پیدل چلنے کے لیے بنایا جاتا ہے، تاکہ کاروں پر کم سے کم انحصار ہو اور زندگی خوشگوار ہوجائے۔ انکی پارٹی چاہتی ہے کہ 2030 تک سویڈن کو فوسل فیول فری بنانے کے لیے گرین ٹرانزیشن کو تیز کرنے کے لیے سویڈش حکومت سالانہ 100 بلین کرونر کی سرمایہ کاری کرے۔ ہم آب و ہوا کے خطرے کے بارے میں بات کرتے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف انسانیت کا سب سے بڑا چیلنج ہے، بلکہ ہمارا سب سے بڑا بحران بھی ہے، اور اسے حل کرنے کیلئے ہمارے پاس زیادہ وقت بھی نہیں ہے۔ اپنی تقریر کے دوسرے نصف حصے میں بولونڈ نے گرین پارٹی کے روایتی بیانات کا زیادہ استعمال کیا اور سویڈن میں دیگر سیاسی جماعتوں پر الزام لگایا کہ وہ ہمیشہ ضروری سبز اقدامات کو روکتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ بہت ضروری ہیں، ایسے اقدامات نہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک ادھیڑ عمر شخص ورزش کرنا بھول جائے۔ اگر ہمیں اپنے آب و ہوا کی صفائی کا ہدف پورا کرنا ہے تو ہمیں اخراج کو کم سے کم کرنا ہوگا، اگر صرف حکومت کی جانب سے اخراج میں کمی شروع کردی جائے تو اگلے سال سویڈن کے کل اخراج میں خود بخود دس لاکھ ٹن کی کمی ہو جائے گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دائیں بازو کی جماعتیں بھی اس الیکشن میں گرین پارٹی کے خلاف مسلسل مہم چلا رہی ہیں۔ دائیں بازو کی جماعتوں نے اپنی پالیسیوں پر الیکشن جیتنے کی کوشش کرنے کی بجائے بہتان تراشی، جھوٹ اور غلط معلومات پھیلانا شروع کردی ہیں۔ بولونڈ نے اس پرجوش فقرے کے ساتھ اپنی تقریر ختم کی کہ مستقبل میں ایک بہتر اور زیادہ پائیدار دنیا کا حصول اسی صورت ممکن ہے اگر آپ ہمیں حکومت کرنے کا موقع دیتے ہیں ایسی صورت میں وہ مستقبل آپ کے خیال سے بھی کہیں زیادہ قریب ہے!