112

بسنت پالا اڑنت

بسنت بنیادی طور پر موسم کی تبدیلی کا تہوار ہے بہار کی آمد کو خوش آمدید کہتے سرسوں کے پیلے پھول موسم کی تبدیلی کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں اور بسنت موسم بہار کا جشن ہے چند روز قبل مری سمیت بلوچستان خیبر پختون خواہ گلگت بلتستان اور کشمیر میں برفباری ہوئی تو لگ رہا تھا کہ شاید اس بار سردیوں کا سپیل مارچ تک چلے گا لیکن بسنت کیا آئی پالا بھی ساتھ ہی لے گئی چند روز قبل تک لوگ لمبےاوور کوٹ پہنے سردی سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے بسنت کے تینوں دن خوشگوار دھوپ نے مزہ دوبالا کر دیا لوگ ہلکے گرم کپڑوں پر آگئے ہیں اللہ کرے جلد شروع ہونے والے رمضان کے بابرکت مہینے میں موسم اعتدال میں رہے تاکہ لوگوں کے روزے اچھے گزر سکیں ابھی تو بسنت فیسٹیول اپنی بھرپور رعنائیوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی ہے پہلے روز ہوا نہ ہونے کی وجہ سے پتنگ باز سجناں بڑے مایوس ہوئے لیکن ہفتہ اور اتوار کے روز موسم نے بھی سپورٹ کیا معتدل ہوا پتنگ بازی کے لیے نہایت موزوں رہی پنجاب حکومت نے بڑے فول پروف انتظامات کر رکھے تھے جس کی بدولت اس بار گلے پر ڈور پھرنے سے کچھ لوگ زخمی ضرور ہوئے لیکن ڈور پھرنے کی وجہ سے گلے کٹنے سے کسی کی موت نہیں ہوئی اس کی ایک وجہ تو موٹرسائیکل سواروں کے لیے سیفٹی راڈ اور لازمی ہیلمٹ نے بچاو کروا دیا دوسرا کیمیکل ڈور کا استعمال بہت کم ہوا دھاتی ڈور اور لوہے کی باریک تاروں کے استعمال پر پابندی کی وجہ سے بجلی کی ٹرپنگ بھی نہ ہونے کے برابر تھی مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ ہر شعبہ متحرک نظر آیا ان تمام تر اقدامات کے باوجود مختلف حادثات میں لاہور کے ایک مقامی صحافی زین ملک سمیت چار افراد جان کی بازی ہار گئے یقینی طور پر ایک انسانی جان کا ضیاع بھی ناقابل تلافی نقصان ہے اللہ سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے بسنت کے حادثات اپنی جگہ پر لیکن جو دشمن نے گہرا زخم اسلام آباد امام بارگاہ مسجد میں بم دھماکا سے پہنچایا ہے اس نے ہلا کر رکھ دیا ہے یہ پوری قوم کو چیلنج ہے جس سے ہمیں نمٹنا ہے بلوچستان میں دہشتگردوں کی شہروں پر کارروائیاں اور اسلام آباد میں بم دھماکا ظاہر کرتا ہے کہ دہشتگرد اب شہروں کو ٹارگٹ کرنا چاہتے ہیں پاکستان نے کھلی جنگ میں بھارت کو عبرتناک شکست سے دوچار کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا ہے اب چھپے دشمن کو بھی شکست فاش دینا ہو گی اور اس کے لیے پوری قوم کا متحد ہونا بہت ضروری ہے۔

بات بسنت کے حوالے سے ہو رہی تھی اسلام آباد میں بم دھماکا کی وجہ سے بسنت کی سرکاری تقریبات منسوخ کر دی گئیں تھیں لیکن بسنت کی تیاریاں اور فلو اتنا زیادہ تھا کہ صوبائی وزراء سمیت یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز سے لے کر سرکاری افسران تک ہر ایک نے پتگ بازی کرتے ہوئے اپنی سلفیاں بنا کر ضرور وزیر اعلی کو سینڈ کیں اور یہ باور کروایا کہ آپ نے ہم سمیت لوگوں کو خوشیاں منانے کا موقع فراہم کیا ہے مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے بھی اندرون شہر کی چھتوں پر جاکر اپنی پرانی یادیں تازہ کیں لوگوں نے اپنے ملکی وغیر ملکی مہمانوں کے دل جیتنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اعداد وشمار کے مطابق تین دنوں میں 9لاکھ گاڑیاں لاہور میں داخل ہوئی ہیں اس کا مطلب ہے کہ  کوئی 30 لاکھ سے زائد لوگوں نے لاہور میں آکر بسنت فیسٹیول کی سرگرمیوں سے لطف اٹھایا ویسے تو تین روزہ بسنت فیسٹیول  ختم ہو گیا ہے پنجاب حکومت نے شہریوں کی دلچسپی دیکھ کر اتوار اور پیر کی رات کو صبح 5بجے تک پتنگ بازی کے لیے وقت بڑھا دیا تھا لیکن اب پتنگ بازی پر مکمل پابندی ہے اس کھیل کے کھلاڑی تو شاید اس پر مکمل عمل کریں گے کیونکہ انھوں نے اس پر وضع کردہ قواعد وضوابط پر عمل کرکے اچھے اور تابعدار شہری ہونے کا ثبوت دیا ہے لیکن اب ان غریب غربوں کا کیا کریں گے جنھوں نے بڑی تگ ودو کے بعد پتنگیں اور ڈوریں لوٹ کر گڈی اڑانے کا پروگرام بنا رکھا ہے جن گھروں میں پتنگیں اور ڈور موجود ہے ان کے بچے تو چوری چھپے اڑانے کی کوشش کریں گے اور اب پولیس کی پکڑ دھکڑ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گا پولیس کو ایک نیا کاروبار مل گیا ہے اب پھر چھاپوں پرچوں اور رشوت کا بازار گرم ہو گا امراء تو اپنی انجوائے منٹ کرکے ایک سائیڈ پر ہو گئے ہیں لیکن اب جو گلی محلے میں کھیل شروع ہونے والا ہے اس کا ذمہ دار کون ہو گا بلا شبہ بسنت فیسٹیول نے پچھلے آڑھائی تین سالوں سے جاری ایک حبس کی فضا کو نارملائز کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ پچھلے آڑھائی تین سال سے جو پکڑ دھکڑ اور خوف کی فضا قائم ہو چکی ہے اس نے پولیس کا خوف لوگوں کے ذہنوں میں پیوست کر دیا ہے بسنت منانے کے پیچھے لوگوں کی توجہ سیاسی معاملات سے ہٹانے کی جو کوشش کی گئی وہ کافی حد تک کارگر ثابت ہوئی ہے لیکن کھیل تماشوں سے زیادہ دیر تک قوم کو مصروف نہیں رکھا جا سکتا انھیں نارملائز کرنے کے لیے روزمرہ کے معمولات میں آسانیاں پیدا کرنا ہوں گی کاروبار میں مصروف کرنا ہو گا اوورحال ماحول میں اعتدال لانا ہو گا پولیس کو خوف کی علامت بنانے کی بجائے عوام کا خادم اور سہولت کار بنانا ہو گا شہری آذادیوں کو بحال کرنا ہو گا