ایک دن ایک شخص نے صبح جاگتے ہی خود کو ایک ایسے دائرے کے وسط میں پایا جو نہ ختم ہوتا تھا اور نہ شروع۔ دائرہ سفید تھا، بے حد سفید، جیسے کسی نے کائنات سے ہر رنگ چُوس لیا ہو۔
“یہ کہاں ہوں میں؟” اس نے خود سے پوچھا مگر جواب دینے والا کوئی نہیں تھا۔ اس نے قدم بڑھایا۔ دائرہ نرم تھا جیسے رُوئی پر چل رہا ہو مگر جیسے ہی وہ آگے بڑھا اُسے لگا کہ وہ وہیں کھڑا ہے۔
“شاید میں غلط سمت میں جا رہا ہوں۔” اس نے سوچا اور مُڑ کر چلنے لگا مگر نتیجہ وہی تھا۔
“یہ کیسے ممکن ہے؟” وہ بولا
مگر الفاظ ہوا میں تحلیل ہو گئے جیسے کبھی کہے ہی نہ گئے ہوں۔
وہ تھک کر وہ بیٹھ گیا۔ اس نے اپنی جیب ٹٹولی شاید کوئی چیز مل جائے مگر وہاں صرف ایک چھوٹا سا کاغذ تھا جس پر لکھا تھا:
“تم یہاں کیوں ہو؟”
“یہی تو میں جاننا چاہتا ہوں!” وہ چِلّا اٹھا۔
مگر کوئی جواب نہیں آیا۔
اس نے کاغذ کو دوبارہ دیکھا اور تحریر بدل چکی تھی:
“یہ سوال خود سے کرو۔”
اس کا ذہن الجھ گیا۔ “یہ کیسا مذاق ہے؟ میں کون ہوں؟ یہ جگہ کیا ہے؟”
کاغذ پر ایک نئی عبارت نمودار ہوئی:
“یہ جگہ تمہاری حقیقت ہے۔ تم یہاں صِرف اس لیے ہو کیونکہ تم نے کسی اور جگہ کے بارے میں نہیں سوچا۔”
“یہ بے معنی ہے!” وہ غصے سے چِلایا۔
کاغذ نے جواب دیا:
“ہاں، اور تم بھی۔”
وہ شخص کاغذ کو پھینک کر بھاگنے لگا مگر ہر بار وہی دائرہ وہی بے رنگ خالی پن۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ خود بھی سفید ہونے لگا۔ پہلے اس کے کپڑے پھر اس کی جلد اور پھر اس کے خیالات۔
آخر میں وہ خود دائرے کا حصہ بن گیا اور کوئی دوسرا جاگا ، ایک اور سفید دائرے کے وسط میں۔
اور بے معنویت کا کھیل پھر سے شروع ہوا۔
(عمار نعیمی)
13 تبصرے “بے معنویت کا دائرہ”
تبصرے بند ہیں