1,993

میلی گنگا

بچپن میں فلم بینی کا کوئی ایسا شوق ہرگز نہیں رہا کہ جو بھی فلم سینما یا تھیٹر میں آئی اس کو دیکھنا ضروری سمجھا ہو۔ سکول اور کالج کے ادوار میں کچھ دوست احباب اس شوق سے ضرور مستفید ہوتے رہے۔اس ذریعے سے بہت سی فلموں کی کہانیاں خیالات کو مہمیز دیتیں اور معاشرتی معاملات کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی۔ عام طور پر یہ سرگرمی دوستوں کی محفل میں انجام پاتی۔ سکول وکالج کے ادوار سے ہی کتب بینی کا ایسا شوق تھا کہ جو کتاب بھی ہاتھ لگ جاتی اس کو پڑھ کر ہی چھوڑتے چاہے اس کا عنوان کوئی بھی ہوتا۔

حال ہی میں ایک انڈین فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔اس فلم کو دیکھ کر ذہن بچوں کے جنسی استحصال کی طرف چلا گیا اور بہت سی ایسی باتیں جو ان کیسز کے دوران نظروں سے اوجھل رہیں سامنے آئیں اور ایک ترتیب معاشرتی حوالے سے دماغ میں گردش کر گئی۔ یہ ایک ایسی فلم ہے جس میں معاشرے کے ان کرداروں کو اجاگر کیا گیا ہے جو کسی بھی معاشرے کیلئے بدنما داغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے بہت سی ایسی مثبت باتیں بھی اجاگر ہوتی ہیں جو معاشرے کی سمت متعین کر سکتی ہیں۔ اس دور میں زیادہ سے زیادہ دولت کا حصول ایک مقصد بن چکا ہے۔ رشتوں کی شناخت ختم ہو چکی ہے نتیجتاً وہ اقدار جو کبھی ہمارا اثاثہ تھیں وہ رو بہ زوال ہیں۔ بچوں کی تعلیم کیلئے کوئی ٹھوس انتظام نہیں ضرورت کے وقت کچھ ادارے حرکت میں آتے ہیں اور یہ دیکھے بغیر کہ یہ بچہ کسی معذور یا بوڑھے والدین کا واحد کفیل ہے ان اداروں کے خلاف کارروائی کا عمل شروع کر دیا جاتا ہے جو ان بچوں کی روزی کا زریعہ ہوتے ہیں۔ نتیجتاً بچے گھر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے چوری اور ڈکیتی کا سہارا لیتے ہیں اور غیر مناسب سرگرمیوں کا جزو بن کر رہ جاتے ہیں۔

فلم کا نام پیج تھری ہے جو کہ بالی ووڈ کی پیشکش ہے۔ یہ ایک ریٹائرڈ کرنل کی بیٹی کی کہانی ہے۔ یہ لڑکی اپنی عملی زندگی کے آغاز کے لئے صحافت کا انتخاب کرتی ہے۔ایک اخبار میں معاشرے کے اہم لوگوں کی زندگی کے بارے میں لکھنے کا کام سونپا جاتا ہے تاکہ ان لوگوں کو معاشرے میں متعارف کرایا جائے اور اخبار کے لئے ریونیو حاصل کیا جائے۔ جب یہ لڑکی ان لوگوں کی زندگی کو کریدتی ہے تو ان لوگوں کی کچھ منفی سرگرمیاں بھی سا منے آتی ہیں۔ وہ ان معاملات پر بھی بلاخوف و خطر قلم اٹھاتی ہے۔ یہ تمام واقعات اخبار کے ایک صفحہ پیج تھری کی زینت بنتے ہیں۔فلم میں سوسائٹی کے ایسے کرداروں کو نمایاں کیا گیا ہے جن کا واسطہ ہماری روزمرہ کی عملی زندگی میں ارباب اختیار، اعلیٰ کاروباری اداروں کے مالکان اور میڈیا کے ذمہ داران کی صورت میں پڑتا رہتا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح میڈیا میں آنے والی لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے؟ ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر سرمایہ دار ان کا جسمانی استحصال کرتے ہیں۔ یہ سب فلم اور ڈراموں میں کام کرنے والی لڑکیوں کے ساتھ کس طرح ہوتا ہے اس کو فنکارانہ مہارت سے فلمایا گیا ہے۔

فلم میں ایک مشہور کاروباری شخصیت کے گھر سے اغواشدہ کچھ بچے بازیاب کرائے جاتے ہیں۔ ان بچوں کو ایک مشہور سماجی کارکن کے ادارے سے اغواء کیا جاتا ہے۔ ان بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ صحافی لڑکی ان لوگوں کو ایک پولیس آفیسر اور اپنے ایک صحافی ساتھی کی مدد سے گرفتار کراتی ہے مگر پولیس ان لوگوں کے اثرورسوخ کی وجہ سے زیادہ دیر زیر حراست نہیں رکھ سکتی۔ جس کی ایک وجہ ان لوگوں کا میڈیا کو سرمایہ کی فراہمی ہے۔ اس دو عملی کی وجہ سے یہ لڑکی پیج تھری کیلئے لکھنا بند کر دیتی ہے۔ اس کے بعد کرائم بیٹ میں آتی ہے تو یہاں بھی اسے ایسے ہی کرداروں سے واسطہ پڑتا ہے۔ مایوس ہو کر وہ صحافت سے کنارہ کشی اختیار کرتی ہے۔ اس کا ایک صحافی ساتھی اسے دوبارہ ادارے میں لے آتا ہے اور کہتا ہے کہ سچ ضرور لکھو لیکن حالات کا رخ دیکھ کر۔

یہ فلم واضح کرتی ہے کہ میڈیا بھی بہت سے معاملات میں پابند سلاسل ہے۔ ملک کوئی بھی ہو یہ پابندی ہر دور میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر رہی ہے۔ کمزور کی عزت محفوظ نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے خود طاقتور عناصر کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ قانون اپنا رسوخ رکھتے ہوئے بھی بےبس ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی کسی مخصوص معاشرے کی نہیں۔ دنیا کے ہر معاشرے میں اس طرح کے کردار موجود ہیں۔ موت تو کسی کو یاد نہیں جیسے۔ اس فلم میں کچھ پوائنٹس ہیں اگر ان پر توجہ کی جائے تو پاکستان میں ہونے والے بچوں سے زیادتی اور قتل کے کیسز کو حل کیا جا جا سکتا ہے۔

اردگرد کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انسان میں ایک مایوسی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ جس ملک میں قانون کی عملداری صرف اور صرف کمزور تک محدود ہو۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کرپٹ لوگوں کے رکھوالے ہوں۔ بچوں کا جنسی استحصال اور قتل عام ہو اس ملک میں جتنی بھی ترقی ہو جائے وہ ترقی نہیں تنزلی ہے۔ جہاں ملک کے لیڈر لٹیرے ہوں۔ کرپشن عام ہو۔ اس ملک کے لئے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ آج ملکی نیک نامی کیلئے ہمیں مل جل کر کام کرنا ہوگا۔ معاشرے کے بدنما داغوں کو دور کرنے کے لئے ایک ایسی لیڈرشپ کی ضرورت ہے جو ملک کو صحیح رخ عطا کر سکے۔


یہ سچ ہے کہ جب بھی الیکٹرانک میڈیا یا پرنٹ میڈیا ان معاملات کیلئے جہد کرتا ہے اس کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے ناخداؤں کا پردہ فاش ہوتا ہے۔ ان طاقتور عناصر کو بچانے کیلئے بعض اوقات بے گناہوں کو تختہ دار کی زینت بنانا پڑتا ہے۔ آخر یہ سب کب تک ہو گا؟ اب کچھ پرانے چہرے نیا پاکستان بنانے جا رہے ہیں۔ اس میں قصور ہماری عوام کا بھی ہے جو ہر پانچ سال بعد اس سیاسی مافیا کیلئے بےوقوف بننے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ جب تک احتساب بےداغ کردار کے مالک افراد کے ہاتھوں میں نہیں آتا یہ گنگا میلی ہوتی رہے گی۔

1,341 تبصرے “میلی گنگا

  1. Do you mind if I quote a few of your articles as long as I provide credit and sources back to your weblog? My website is in the exact same niche as yours and my visitors would genuinely benefit from some of the information you provide here. Please let me know if this alright with you. Thanks! Look at my web-site … daftar rolet303

  2. I’ve been surfing online more than three hours these days, yet I never discovered any interesting article like yours. It is lovely worth enough for me. In my opinion, if all website owners and bloggers made just right content material as you did, the net shall be much more helpful than ever before. My blog … تلفن اعتراض به قطع یارانه

  3. Have you ever thought about publishing an e-book or guest authoring on other websites? I have a blog based on the same topics you discuss and would love to have you share some stories/information. I know my viewers would enjoy your work. If you are even remotely interested, feel free to send me an email. my web site; شرایط گرفتن کارت بازرگانی

  4. Howdy! Quick question that’s entirely off topic. Do you know how to make your site mobile friendly? My website looks weird when browsing from my apple iphone. I’m trying to find a template or plugin that might be able to fix this issue. If you have any recommendations, please share. Cheers! Have a look at my page – اعتراض عدم دریافت یارانه معیشتی

  5. I have to thank you for creating something this thorough. I’ve saved this page to revisit. I’m sure I’ll use this again. My web site: Team Builder

  6. Have you ever thought about publishing an ebook or guest authoring on other websites? I have a blog centered on the same information you discuss and would love to have you share some stories/information. I know my audience would appreciate your work. If you’re even remotely interested, feel free to send me an e mail. My webpage – ثبت‌ نام آزمون کارشناسی رسمی دادگستری سال ۱۴۰۴ شورای عالی کارشناسان کانون

  7. Definitely believe that which you stated. Your favorite justification appeared to be on the internet the easiest thing to be aware of. I say to you, I definitely get annoyed while people think about worries that they plainly don’t know about. You managed to hit the nail upon the top and defined out the whole thing without having side effect , people could take a signal. Will probably be back to get more. Thanks My web-site – شرایط وام بانک کشاورزی بدون سپرده

  8. I think this is among the most important info for me. And i’m glad reading your article. But wanna remark on few general things, The website style is ideal, the articles is really excellent : D. Good job, cheers Here is my web-site نمونه کارنامه آیلتس

  9. Hmm it looks like your website ate my first comment (it was super long) so I guess I’ll just sum it up what I submitted and say, I’m thoroughly enjoying your blog. I as well am an aspiring blog writer but I’m still new to everything. Do you have any points for newbie blog writers? I’d genuinely appreciate it. Here is my web-site – اعتراض به مالیات کارتخوان

  10. First of all I would like to say wonderful blog! I had a quick question that I’d like to ask if you do not mind. I was interested to know how you center yourself and clear your thoughts prior to writing. I have had a hard time clearing my thoughts in getting my thoughts out there. I truly do enjoy writing but it just seems like the first 10 to 15 minutes are usually wasted simply just trying to figure out how to begin. Any suggestions or tips? Many thanks! Have a look at my web page – ثبت نام وام ۱۰۰ میلیونی بازنشستگان بانک رفاه

  11. Great post. I used to be checking continuously this blog and I am inspired! Extremely helpful info specifically the last phase 🙂 I handle such info much. I used to be seeking this particular information for a long time. Thanks and best of luck. Here is my webpage :: هزینه ثبت نام لاتاری 2027

  12. I think that what you published made a ton of sense. However, think on this, what if you added a little content? I mean, I don’t want to tell you how to run your website, however what if you added a post title that grabbed people’s attention? I mean میلی گنگا – اردونامہ is a little vanilla. You ought to peek at Yahoo’s front page and see how they create article headlines to get people interested. You might add a video or a related picture or two to get people interested about what you’ve got to say. In my opinion, it would bring your posts a little bit more interesting. my blog :: نتایج آزمون یوس دانشگاه استانبول 2025

اپنا تبصرہ بھیجیں