58

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے میتھی کے بیج مفید ثابت ہو سکتے ہیں: نئی طبی تحقیق

دنیا بھر میں ذیابیطس ایک تیزی سے بڑھنے والی بیماری بن چکی ہے، جس کے مؤثر اور قدرتی علاج کے طریقوں پر مسلسل تحقیق جاری ہے۔ حالیہ مطالعات کے مطابق میتھی (Fenugreek) کے بیج خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے اور انسولین کی کارکردگی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق میتھی کے بیج حل پذیر فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں، خاص طور پر گیلیکٹومینن (Galactomannan) نامی فائبر وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یہ فائبر نظامِ ہاضمہ میں کاربوہائیڈریٹس کے جذب ہونے کی رفتار کو کم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں کھانے کے بعد خون میں شوگر کی سطح اچانک بڑھنے سے بچ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض ماہرین میتھی کو قدرتی طور پر بلڈ شوگر ریگولیشن میں معاون قرار دیتے ہیں۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ میتھی میں موجود ایک اہم بایو ایکٹو مرکب ہائڈروکسی آئیسولیوسین (Hydroxyisoleucine) جسم میں انسولین کے اخراج اور اس کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سے خلیوں کی انسولین کے لیے حساسیت بڑھ سکتی ہے، جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق میتھی کو روزمرہ خوراک میں مختلف طریقوں سے شامل کیا جا سکتا ہے:

•میتھی کا پانی: میتھی کے بیج رات بھر پانی میں بھگو کر صبح خالی پیٹ اس پانی کو پینا ایک عام گھریلو طریقہ ہے۔

•پسی ہوئی میتھی: بعض تحقیقات کے مطابق روزانہ تقریباً 10 سے 15 گرام پسی ہوئی میتھی کھانے میں شامل کرنے سے بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اگرچہ میتھی عام طور پر زیادہ تر بالغ افراد کے لیے محفوظ سمجھی جاتی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو اسے باقاعدہ استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔ خاص طور پر وہ افراد جو پہلے سے شوگر کم کرنے والی ادویات استعمال کر رہے ہوں، انہیں محتاط رہنا چاہیے کیونکہ میتھی کے استعمال سے شوگر کی سطح بہت زیادہ کم بھی ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق میتھی کو متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ استعمال کرنا ذیابیطس کے انتظام میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ میتھی کسی بھی صورت میں باقاعدہ طبی علاج یا ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کا متبادل نہیں ہے۔ مؤثر ذیابیطس مینجمنٹ کے لیے باقاعدہ بلڈ شوگر مانیٹرنگ اور طبی مشورہ انتہائی ضروری ہے۔

کیٹاگری میں : صحت