82

لندن سے ویلز تک

بہت سے لوگوں کو دنیا دیکھنے اور ملکوں ملکوں گھومنے کا بہت شوق ہوتا ہے لیکن وہ جس ملک میں رہتے ہیں اس کی سیروسیاحت میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اسی لئے جب وہ کسی اور ملک میں جاتے ہیں تو اس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ لندن میں رہنے والے اَن گنت لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے کبھی اپنے شہر کی مکمل سیاحت کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ خاص طور پر پاکستانی تارکین وطن کی بڑی تعداد ایسی ہے جنہوں نے برطانیہ کے مختلف شہروں کی طرف ہجرت کی تو پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ کبھی اپنے شہر یا کسی دوسرے دیار کو سیاح کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ میں اس اعتبار سے خود کو بہت خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ لندن منتقل ہونے سے پہلے مجھے پاکستان کے صحراؤں چولستان اور تھر، برف پوش پربتوں، ساحلوں، پہاڑوں کے دامن میں خوابیدہ جھیلوں (سیف الملوک، مہوڈنڈ)، پنجاب کے باغات اور دریاؤں کے علاؤہ وطن عزیز کے تاریخی مقامات کی سیروسیاحت کے مواقع میسر آئے۔ لندن آنے کے بعد میں نے ایک ٹورسٹ میپ یعنی سیاحوں کی دلچسپی کے مقامات کا نقشہ لے کر پورے شہر کی سیر کی اور کئی ہفتے کندھے پر بیگ لٹکائے برطانوی دارالحکومت کے ہر حصے میں گھومتا پھرتا رہا۔ لندن کی آرٹ گیلریز، عجائب گھروں، پارکوں، جھیلوں، تاریخی مقامات اور رونقوں نے مجھے اپنا اسیر کر لیا۔ ویسے بھی لندن ایک ایسا بے مثال شہر ہے جہاں دنیا بھر کے تین کروڑ سے زیادہ لوگ ہر سال سیروسیاحت کے لئے آتے ہیں۔ لندن آنے کے بعد میں برطانیہ کے مختلف شہروں اور خاص طور پر سکاٹ لینڈ کے قدرتی خوبصورت منظروں سے لطف اندوز ہونے کے لئے کئی بار پہاڑوں کے دامن اور جھیلوں کے کنارے پر شاندار ہوٹلوں میں مقیم ہوا۔ یونائیٹڈ کنگڈم چار الگ انتظامی یونٹس یا ملکوں پر مشتمل ہے یعنی گریٹ بریٹن انگلینڈ، ویلز، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئر لینڈ کا مجموعہ ہے، فطری حسن اور سرسبزوشاداب مناظر کے اعتبار سے سکاٹ لینڈ اور ویلز کا کوئی ثانی نہیں۔ ویسے تو میں کئی بار ویلز گیا ہوں لیکن گذشتہ لانگ ویک اینڈ پر اس خطے کی سیاحت کے لئے خاص طور پر کارڈف کا پروگرام بنایا۔ انگلینڈ کی حدود سے ویلز میں داخل ہوں تو سب سے پہلے سیورن برج SEVERN BRIDGE عبور کرنا پڑتا ہے۔ دریائے سیورن پر بنائے جانے والے اس پُل کی تعمیر 8ستمبر 1966ء میں مکمل ہوئی تھی۔ تقریباً ایک میل لمبے اور 445فٹ اونچے اس برج کا افتتاح ملکہ برطانیہ نے کیا تھا۔ سیورن برج سے ہی ویلز کی رعنائیاں اور قدرتی نظارے دیکھنے والے کو اپنی گرفت میں لینا شروع کر دیتے ہیں۔ میرا قیام نیو پورٹ میں تھا جہاں شہر کے سب سے بلند پربت پر ایک شاندار فائیو سٹار ریزاٹ کیلٹک مینرCELTIC MANOR کے نام سے موجود ہے۔ یہ ریزاٹ شہر میں داخل ہونے والے ہر مسافر کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس ریزاٹ میں قیام کرنے والے بلندی کی وجہ سے پورے شہر کا نظارہ کر سکتے ہیں جبکہ پہاڑ کے دوسری طرف سرسبز وادی میں ایک انٹرنیشنل گالف کورس بنا ہوا ہے۔ میں اس ریزاٹ کی نویں منزل یعنی نائنتھ فلور کے جس کمرے میں ٹھہرا اس کی ایک دیوار موٹے شیشے کی بنی ہوئی تھی جس پر لگے پردے ہٹانے سے سرسبز وادی کا منظر اور گالف کورس دور تک دکھائی دیتا تھا۔ میں جس روز یہاں پہنچا تو درجہ حرارت 20ڈگری سنٹی گریڈ تھا اور نیلے آسمان پر بادلوں اور سورج کے درمیان آنکھ مچولی جاری تھی اور ٹھنڈی ساحلی ہوا خوشگوار موسم کا گیت گا رہی تھی۔ پہلے دن تو اس دلکش وادی نے کسی اور طرف متوجہ ہونے کی فرصت ہی نہ دی۔ سارا دِن گالف کورس کے سبز قالین کے درمیان بنی پگڈنڈیوں اور وادی کے پہاڑی رستوں پر گھومتے پھرتے گزر گیا۔ رات ہوئی تو پہاڑ کے دوسری طرف نیو پورٹ شہر جگمگاتا دکھائی دینے لگا۔ بلندی سے یہ منظر بہت ہی دلفریب نظر آیا جیسے تارے زمین پر اُتر آئے ہوں۔ یہ چاند کی 18تاریخ تھی۔ آسمان پر مسافر بادلوں کی اوٹ سے چاند جھانک رہا تھا اور زمین پر تارے جگمگا رہے تھے۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے اور جو انسان کی زندگی کے یادگار لمحات کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگلی صبح آنکھ کھلی تو موسم مزید خوشگوار ہو چکا تھا۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ میں نے اپنے کمرے کی شیشے کی دیوارسے پردہ سرکایا اور دروازہ کھول کر بالکنی میں رکھی کرسی پر جا کر بیٹھ گیا۔ تازہ ہوا اور آسمان پر اڑتے پرندوں کے نظارے نے زندگی کے ایک اور اچھے دِن کے آغاز کا سندیسہ دیا۔ میں سوچنے لگا کہ کیا واقعی قدرت کے خوبصورت منظر انسان کو اپنی طرف بلاتے ہیں یا فطری حسن کی رعنائیوں سے محبت کرنے والوں کے نصیب میں اِن منظروں سے لطف اندوز ہونا لکھ دیا جاتا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ جب میں بہاول پور کے گورنمنٹ ایس ڈی ہائی سکول میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا تو ہمارے ایک استاد نے طلباء سے پوچھا کہ اُن کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟ تو ہر طالب علم نے اس سوال کا اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق جواب دیا۔ میں نے کہا کہ دنیا کے خوبصورت حصوں کی سیروسیاحت میرا سب سے بڑا خواب اور سب سے بڑی خواہش ہے۔ اس وقت مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ دنیا دیکھنے کے لئے مختلف ملکوں کے ویزے، کرنسی اور وسائل کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اب میں سوچتا ہوں کہ انسان کو خواب ضرور دیکھنے چاہئیں کیونکہ تعبیریں بھی صرف انہیں ملتی ہیں جو خواب دیکھتے ہیں۔ یہ دنیا واقعی خوبصورت ہے اور کافر ملکوں کی دنیا کچھ زیادہ ہی دلکش، صاف ستھری اور آرام دہ ہے جسے دیکھ کر وہ نامعلوم دانشور یاد آتا ہے جس نے کہا تھا کہ ”ہو سکتاہے کہ قیامت آ چکی ہو اور ہم انسان اپنی اپنی جنت اور دوزخ میں جی رہے ہوں“۔ویلز اپنے فطری حُسن، سرسبزوشاداب وادیوں، پربتوں اور ہرے بھرے جنگلوں کی وجہ سے یونائیٹڈ کنگڈم کا ایک خوبصورت پُر فضا اور دلکش حصہ ہے۔ 8192مربع میل پر پھیلے ہوئے اس ملک کی کل آبادی صرف 32لاکھ افراد پر مشتمل ہے جبکہ اس خطے میں پودوں اور درختوں کی تعداد ایک بلین سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ویلز میں سکول کے بچوں کو درخت لگانے کی ترغیب دی جاتی ہے جو ہر سال تین لاکھ سے زیادہ درخت لگاتے اور اُن کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ ووڈلینڈ ٹرسٹ نام کا ایک ادارہ شجرکاری کی حوصلہ افزائی کے لئے ہر ممکن تعاون اور مدد فراہم کرتا ہے۔ ویلز میں ایک ایسا درخت بھی موجود ہے جو تقریباً پانچ ہزار برس قدیم ہے اور اسے YEW TREEکہا جاتا ہے اور یہ درخت ویلز کے LLANERNYW CHURCHکے صحن میں اگا ہوا ہے۔ یہ نایاب درخت، اہرام مصر اور حضرت عیسیٰ کی اس دنیا میں آمد سے بھی پہلے کا اس کرۂ ارض کا حصہ ہے اور ابھی تک سرسبز ہے۔ ویسے تو شیفیلڈ کو برطانیہ میں درختوں کا شہر اور سرے (SURREY)کو درختوں کا کاؤنٹی کہا جاتا ہے جہاں درختوں کی بہتات ہے لیکن موسم گرما میں پورے ویلز کے پہاڑ، وادیاں، میدان، باغات، پارک، چراگاہیں، دریاؤں کے کنارے اور ساحل سبزے کی چادر تان لیتے ہیں۔ پورا ملک سرسبزوشاداب نظر آتا ہے۔ آکسیجن کی فراوانی کے باعث لوگوں کے چہروں اور مزاج پر بھی اس شادابی کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ جنگلو ں اور درختوں کی کثرت کے باعث پورے ویلز میں وائلڈ لائف اور خاص طور پر پرندوں کی تعداد بے شمار ہے جہاں کہیں ذرا سا سناٹا یا خاموشی ہو وہاں انواع و اقسام کے پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں۔ درخت جہاں اگتے ہیں وہیں جامد رہ کر زندگی گزار دیتے ہیں جبکہ پرندے ایک درخت سے دوسرے درخت، ایک جنگل سے دوسرے جنگل، ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم کا سفر کرتے رہتے ہیں۔ قدرت نے بہت سے انسانوں کو درختوں اور کچھ لوگوں کو پرندوں کی صفات دے کر اس دنیا میں بھیجا ہے۔ درخت ایک ہی جگہ کھڑے رہ کر ہر طرح کے موسم کی شدّتوں کو برداشت کرتے رہتے ہیں جبکہ پرندے اچھے موسم اور سازگار ماحول کی تلاش میں ہجرت کا دکھ سہتے ہیں اور بہت سے پنچھی پرواز کے دوران رستے کی صعوبتوں کے عذاب سے گزرتے اور کسی نئی منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی جان کی بازی ہار دیتے ہیں۔ معلوم نہیں کیوں ویلز میں درختوں اور پرندوں کی بہتات کے سبب انسان قدرت اور فطرت کے اسرار اور کرشموں کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ویلز کو قلعوں اور بھیڑوں کا ملک بھی کہا جاتا ہے۔ اس ملک میں بھیڑوں کی تعداد انسانی آبادی سے 4گنا ہے یعنی یہاں ایک کروڑ 28لاکھ پالتو صحتمند بھیڑیں موٹر وے کے دونوں طرف سرسبز چراگاہوں اور پہاڑی وادیوں میں چرتی اور آرام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ پورے سفر کے دوران عجیب بات یہ تھی کہ مجھے اِن میں سے ایک بھی کالی بھیڑ نظر نہیں آئی۔ ویلش لینگوئج یعنی ویلز کی قومی زبان انگریزی سے خاصی مختلف ہے۔ اس کے حروف تہجی میں کے، کیو، وی اور زیڈ کے حرف نہیں ہیں۔ ویلش زبان کو لکھنا اور پڑھنا انگریزوں کے لئے بھی آسان نہیں ہے۔ویلز کے 600چھ سو سے زیادہ قلعوں میں سے CAERNAFON CASTLE اور CONWY CASTLE کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی طرف سے عالمی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے۔ ERYRI NATIONAL PARK اور BANNAU NATIONAL PARK دنیا بھر سے ویلز آنے والے سیاحوں کے لئے بڑی کشش کا باعث ہیں۔ ویلز میں قیام کے آخری روز میں ناشتے کے بعد دارالحکومت کارڈف سے ہوتا ہوا آئرش سی کے ساحل تک جا پہنچا۔ راستے میں جہاں کہیں کوئی جھیل یا وادی نظر آئی وہاں گاڑی روک کر کچھ دیرکے لئے خوبصورت منظروں کی تصویر کشی کی اور خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہو کر اگلی منزل کی راہ لی۔ سفر واقعی وسیلہ ظفر ہوتا ہے۔ اَن دیکھی منزلوں کا سفر انسان کو سورہ رحمن یاد دلاتا ہے اور مجھ جیسا گناہ گار شخص بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اِن کافروں نے اس دنیا کو جنت بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ خالقِ کائنات نے اہلِ مغرب کو جو قدرتی وسائل اور فطری حسن عطا کیا ہے انہوں نے اس کی حفاظت اور اس کی رعنائی میں اضافہ کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے

٭٭٭