294

اسلام، انسانی حقوق اور ہماری ذمہ داری

کچھ عرصہ پہلے مجھے مالمو (سویڈن) میں ایک مذہبی جماعت کے پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ کھانے کے دوران ایک بھائی پاکستانی بچوں، بالخصوص نوجوان بچیوں کی اپنی مرضی اور آزادی کے موضوع پر گفتگو کرنے لگے۔ بات کرتے کرتے وہ یہاں تک کہہ گئے کہ بچوں کو اپنی بات منوانے کے لیے مارنا بھی جائز ہے۔ دین کے نام پر اپنی من گھڑت باتوں کو حوالہ جات کے ساتھ پیش کر کے وہ خود کو بڑا عالم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ سن کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے قرآن و حدیث سے چند واضح دلائل پیش کیے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ سویڈن کا قانون بھی اسی اصول پر قائم ہے کہ کسی بچے یا بچی پر جبر نہیں کیا جا سکتا۔

میری یہ باتیں سن کر وہ صاحب سیخ پا ہوگئے اور کہنے لگے کہ میں یورپین اسلام پیش کر رہا ہوں۔ اپنے “اصل اسلام” کے نام پر وہ یہ دعویٰ بھی کرنے لگے کہ بچیوں کو زیادہ تعلیم نہ دی جائے، انہیں کم عمری میں پاکستان بھیج کر شادی کر دی جائے۔ یہ سب کچھ وہ دین کے نام پر کہہ رہے تھے حالانکہ حقیقت میں یہ محض خرافات اور خودساختہ نظریات تھے۔ جب وہ میری دلیلیں برداشت نہ کر سکے تو الٹا مجھے کافروں کا ایجنٹ قرار دینے لگے۔ یہ صورتحال دیکھ کر مجھے شدید افسوس ہوا کہ یورپ میں 15، 20 سال گزارنے کے باوجود بھی ہمارے کئی بھائی نہ دین کی اصل تعلیمات سے واقف ہیں اور نہ ہی آج کی دنیا کے قوانین سے۔

اسلام میں نکاح ایک مقدس معاہدہ ہے اور کوئی معاہدہ اُس وقت تک معتبر نہیں ہوتا جب تک دونوں فریق اپنی آزاد مرضی اور رضامندی سے اس میں شامل نہ ہوں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“اَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرْهًا” (النساء 4:19)

یعنی: “اے ایمان والو! تمہارے لئے جائز نہیں کہ عورتوں کو زبردستی اپنا مال سمجھ کر وراثت میں لے لو۔”

یہ آیت صاف الفاظ میں بتاتی ہے کہ عورت پر کسی بھی قسم کا جبر منع ہے۔

اسی طرح صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ اس کے والد نے اس کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح کر دیا۔ آپ ﷺ نے فوراً اس نکاح کو کالعدم قرار دیا۔ یہ حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام میں عورت کی مرضی کے بغیر نکاح جائز نہیں۔

اسلام عورت کو تعلیم کا پورا حق دیتا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” یعنی “پڑھو” کے حکم پر مبنی ہے جو مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا:

“طلب العلم فریضة علی کل مسلم” (ابن ماجہ)

یعنی: “علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔”

لہٰذا تعلیم روکنے یا بچیوں کو شعوری ترقی سے محروم کرنے کا تصور اسلامی نہیں بلکہ جہالت ہے۔

اگر غور کیا جائے تو یورپی معاشرے اور اسلام کی بنیادی اقدار میں تضاد نہیں ہے۔ شخصی آزادی، انصاف، وقار اور اپنی مرضی سے شریکِ حیات چننے کا حق — یہ سب نہ صرف بین الاقوامی انسانی حقوق میں تسلیم شدہ ہیں بلکہ اسلام کی اصل تعلیمات میں بھی واضح طور پر موجود ہیں۔ تضاد صرف وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں لوگ اپنی ذاتی سوچ کو اسلام کا لبادہ پہنا کر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

میری دست بستہ گزارش یہ ہے کہ ہم سب صرف اپنے اپنے فرقے کے مولویوں کی باتوں پر اندھا یقین کرنے کے بجائے براہِ راست قرآن و حدیث سے دین کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ روزانہ کچھ آیات اور ایک صحیح حدیث ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ یوٹیوب پر معتبر اسکالرز جیسے استاد نعمان علی خان قرآن کو سادہ زبان میں سمجھاتے ہیں، ان سے بھی رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ لیکن اصل فہم تب ہی حاصل ہوگا جب ہم خود تحقیق کریں، سوال اٹھائیں اور دلیل سے بات کریں۔

اسلام وہ دین ہے جو عزت، آزادی اور انصاف کا ضامن ہے۔ اگر ہم اپنے طرزِ عمل سے ان اقدار کو اجاگر کریں تو نہ صرف اپنی نئی نسل کی بہتر تربیت کر سکتے ہیں بلکہ یورپی معاشرے میں بھی اسلام کا اصل اور مثبت چہرہ پیش کر سکتے ہیں۔

تحریر : چوہدری نوید حسین ارائیں سویڈن