بیروت (اردونامہ نوید احمد) رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسجد اقصیٰ کی بندش کے بارے میں آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ قطر، اردن، انڈونیشیا، ترکی، پاکستان، سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات نے بدھ کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کرکے اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد اقصیٰ کو 12ویں روز بھی نمازیوں کے لیے بند رکھنے اور مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ یروشلم اور اس کی عبادت گاہوں تک فلسطینیوں کی رسائی پر اسرائیلی پابندیاں بین الاقوامی قانون بشمول بین الاقوامی انسانی قانون، تاریخی اور قانونی جمود (اسٹیٹس کو) اور عبادت گاہوں تک غیر محدود رسائی کے اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اس غیر قانونی اور بلاجواز اقدام کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ اور نمازیوں کے خلاف اسرائیل کی اشتعال انگیز کارروائیوں کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور ان کی مذمت کرتے ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ مقبوضہ یروشلم یا اس کے اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر اسرائیل کی کوئی خودمختاری نہیں ہے۔ وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ کا پورا احاطہ خصوصی طور پر مسلمانوں کے لیے ہے اور اردنی وزارت اوقاف و امور اسلامیہ سے منسلک محکمہ اوقاف یروشلم و امور مسجد اقصیٰ ہی واحد قانونی ادارہ ہے جسے اس مقدس مقام کے انتظام کا خصوصی اختیار حاصل ہے۔ وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ اسرائیل بطور مقبوضہ طاقت فوری طور پر مسجد اقصیٰ کے دروازے کھولے، مقبوضہ بیت المقدس میں رسائی پر عائد پابندیاں ہٹائے اور مسلمان نمازیوں کو مسجد تک پہنچنے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے باز رہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ اسرائیل کو اس کی جاری خلاف ورزیوں سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
اسرائیلی افواج نے نمازیوں اور مقبوضہ شہر تک رسائی کے حوالے سے سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اسرائیلی حکام ایران کے خلاف جاری جنگ کے پیش نظر ان اقدامات کو سیکیورٹی بنیادوں پر جائز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، فلسطینی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز ان پابندیوں کو فلسطینیوں کے حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق وزارت کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش اس بات کو واضح کرتی ہے کہ یہ پالیسیاں درحقیقت فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کو پامال کرنے کے لیے ہیں۔ ادھر فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے بھی مسجد اقصیٰ کی بندش کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ حماس نے منگل کے روز جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام ایک خطرناک تاریخی نظیر قائم کرتا ہے اور عبادت کی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے۔
“یوروشلم، مضان میں مسجد اقصیٰ کی 12 روزہ بندش پر اسلامی ممالک کا شدید احتجاج” ایک تبصرہ
تبصرے بند ہیں