120

جتندر بلو،ایک شاندار افسانہ نگار اور ناول نویس

برطانیہ اور یورپ میں آباد اُردو کے شاعروں اور ادیبوں نے جوادب تخلیق کیا ہے اُس کی اہمیت اور افادیت کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شاعروں سے زیادہ نثر نگاروں نے اُردو زبان و ادب میں بہتر اضافے کئے ہیں۔ شاعروں کی اکثریت گھسے پٹے موضوعات کی جگالی کرتی رہی ہے اور کر رہی ہے۔ مغرب کی معاشرتی زندگی کے تجربات اور مشاہدات کے اظہار کا اِن شاعروں سے دور پرے کا بھی واسطہ نہیں۔ اُردو کے اوور سیز شاعروں کے ہاں کوئی اکاد کا شعر یا کوئی نظم ایسی ہوگی جو پاکستان میں ہونے والی شاعری سے مختلف اور منفرد ہو جبکہ نثر نگاروں میں قیصر تمکین اور مقصود الٰہی شیخ سے شاہدہ احمد اور جتندر بلو تک ہر ایک نے تارکین وطن کی زندگی، ہجرت، خوشحالی اور مسائل کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ یورپ میں تخلیق ہونے والے اُردو کے نثری سرمائے میں جو اضافہ جتندر بلو نے کیا اُسے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جتندر بلو گزشتہ دنوں لندن میں انتقال کر گئے۔ وہ ایک شاندار انسان، عمدہ ناول نگار اور منفرد افسانہ نویس تھے۔ ہندو ہونے کے باوجود وہ اُردو زبان کے علمبردار اور سنجیدہ تخلیق کار تھے۔ وہ  18 نومبر 1938 کوپشاور میں پیدا ہوئے قیام پاکستان کے بعد اُن کا خاندان ہجرت کر کے انڈیا چلا گیا۔جتند ربلو نے دہلی یونیورسٹی سے بی اے کیا اور پھرممبئی میں سکونت اختیار کی جہاں سے وہ ہجرت کر کے 1986میں لندن آگئے۔ 1977 میں اُن کا پہلا ناول’پرائی دھرتی اپنے لوگ‘ شائع ہوا جسے یوپی اُردو اکاد می لکھنو کی طرف سے ادبی ایوارڈ دیا گیا۔ 1986 میں اُن کا افسانوی مجموعہ ’پہچان کی نوک پر‘ منظر عام پر آیا اور 1990 میں اُن کا ناولٹ ’مہانگر‘ کے نام سے چھپا۔ اس کے بعد اُن کے افسانوں کے تین مجموعے جزیرہ  1994نئے دیس میں 1998 اور انجانا کھیل 2001 میں شائع ہو کرا دبی حلقوں میں مقبول ہوئے۔ اُن کی آخری کتاب (ناول) وشو اس گھات 2003 میں قلم پبلی کیشنز ممبئی نے شائع کی۔ 317 صفحات کے اس ناول میں جتندر بلو کی فنی صلاحیت اورتخلیقی کمال اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ یہ ناول بمبئی کے ایک خاندان کی کہانی پر مبنی ہے جس کا آغاز ہندوستان کی ایک حویلی سے اور اختتام برطانیہ کی ایک آرٹ گیلری میں ہوتا ہے۔ یہ دلچسپ ناول جتندر بلو کو اُردوادب میں ایک معتبر حوالے کے طور پر زندہ رکھے گا۔ اُردو کے مہجری (ہجرتی) ادب میں بھی اس کا شمار ایک عمدہ تخلیقی سرمائے کے طور پر ہوگا۔

جتندر بلو سے میری پہلی ملاقات 1996 میں ساقی فاروقی کے گھر پر ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں انہوں نے مجھے اپنا افسانوی مجموعہ’جزیرہ‘ عنایت کیا تھا،اس کتاب میں اُن کی تین کہانیاں جزیرہ، فرار اور ہم قد م شامل ہیں۔ اس مجموعے کا پیش لفظ گوپی چند نارنگ نے تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے جزیرہ کو جتندر بلو کی شاہکارکہانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی کہانیوں میں تجربے کی ایک نئی بافت ملتی ہے۔ حوالے کے طور پر اس مجموعے سے اُن کی کہانی فرار کا ایک اقتباس فلیپ میں درج ہے”میں نے اپنے چہرے کوبہت ہی قریب اور بہت ہی غور سے دیکھا تھا ایک آنکھ تو مدت ہوئی اپنا سیاہی مائل رنگ بدل کر سبز رنگ اختیار کر چکی تھی اب دوسری آنکھ بھی رنگ بدلنے کی فکر میں تھی اور میں پریشان تھا مگر یہ کسی نہ کسی روز تو ہونا ہی تھا، ماحول بدلتا ہے تو سوچ بدلتی ہے، سوچ بدلتی ہے تو شخصیت بدلتی ہے اور انجام کار شناخت کا مسئلہ آن کھڑا ہوتا ہے جو دماغ کی نسوں کو بھی خشک کرڈالتا ہے“۔

جتندر بلو سے میری کئی تفصیل ملاقاتیں ہوئیں ایک بار وہ ایسٹ لندن میں پاکستان پوسٹ اخبار کے دفتر میں مجھے ملنے کے لئے آئے تو میں انہیں قریبی پب میں لے گیاجہاں اُن سے بہت سی باتیں ہوئیں۔ اپنے تخلیقی نقطہ نظر کے حوالے سے وہ کہنے لگے کہ”مجھے لندن جیسے مہانگر میں زندگی بسر کرتے ہوئے طویل عرصہ بیت چکا ہے، میں جس معاشرے میں سانس لے رہا ہوں اس کی روایات، اخلاقیات، طبقاتی تفریق،نسلی امتیاز اور نو آبادیاتی ذہنیت، جو احساس برتری پرمبنی ہے میری سمجھ میں آنے لگی ہے۔ اس معاشرے کے اندرونی تضادات بھی مجھ پر واضح ہونے لگے ہیں جب اتنا کچھ کسی کی سمجھ میں آجائے تو اُسے اندھیرے میں بھی چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں۔ جب مجھے محسوس ہوا کہ میرا تمدن، میری سوچ اور میراورثہ جو کہ میرا کل اثاثہ ہے میں اس سے محروم ہونے لگا ہوں تو میں نے اپنی شناخت کو قربان کرنے سے انکار کر دیا۔ میں بہتر زندگی کی جستجو میں اپنا وطن ضرور چھوڑ آیا تھا لیکن یہاں آکر میں اپنی پہچان کا چراغ روشن رکھے ہوئے ہوں، میرے بہت سے دوست احباب اپنی شناخت کااثاثہ کھو دینے پر پریشان اور شرمسار رہتے ہیں اور ہر روز ایک نئے المیے کا شکار ہوتے ہیں لیکن میں خوش نصیب ہوں کہ میں نے سب کچھ کھونے سے پہلے خود کو بچا لیا، ویسے توفنکار ہر دم اپنے ذہن کی تنہائی میں زندہ رہتا ہے لیکن اس کے پاؤں زمین اور زمانے سے جڑے رہتے ہیں۔ میرے اندر چونکہ مشرق اور مغرب دو دنیائیں آبادہیں اس لئے میری کہانیاں اسی تصادم کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں،میرے نزدیک بڑے ادب کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ داخلی سچائیاں لئے ہوئے ہو اور زندگی کے ان پہلوؤں سے روشناس کرائے جن تک شعور کی رسائی مشکل ہو۔ فنی اعتبار اُسے پڑھتے ہوئے ذہن میں اسی طرح کے دائرے پھیلنا شروع ہوں جیسے ٹھہرے ہوئے پانی میں کنکر پھینکنے پر بنتے ہیں یہ اُسی وقت ممکن ہے جب ایک فنکار کا خارجی مشاہدہ، داخلی تجربہ، تخلیقی صلا حیتیں اور اپنی زات، یہ چاروں عناصر یکجا ہو کہ ایک اکائی کی صورت اختیار کرلیں“۔جتندر بلو کی کہانیاں اور ناول محض واقعات نگاری نہیں بلکہ تمام ترادبی لوازمات اور دلچسپیوں سے مزین ہیں اُن کے دونوں ناولوں کے علاوہ اُن کے افسانے جزیرہ، مونگرل، نئے دیس میں بچھڑتی دھوپ، دھرتی بندھن اور خدا کا رنگ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کی یہ کہا نیاں پاکستان اور ہندوستان کے کئی معتبر ادبی رسائل میں شائع ہو کر مقبولیت اور ادبی وقار کی سند حاصل کر چکی ہیں۔

جتند ربلو برطانیہ میں اُردو زبان کے مستقبل کے بارے میں کہتے تھے کہ جب تک یہاں مشاعرے اور غزل سننے کے شوقین باقی رہیں گے یہ زبان بھی زندہ رہے گی۔ نئی نسل کو اُردو سکھانے کے بارے میں اُن کا خیال تھا کہ جو والدین اپنے بچوں کو اپنی مادری زبان سکھاتے ہیں اُن میں اپنے بزرگوں سے قربت کا احساس بیدار ہوتا ہے۔ اُردو یا کوئی اور زبان تارکین وطن کی نئی نسل کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مادری زبان یہاں روزمرہ کی زبان ہے اس لئے کسی غیر ملکی زبان کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں ہونا چاہئیے۔ جتندربلو کے پسندیدہ لکھنے والوں میں پریم چندر، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، بلونت سنگھ،غلام عباس، احمد ندیم قاسمی اور راجندر سنگھ بیدی کے نام شامل تھے۔وہ انتظار حسین، انور سجاد، رام لعل، جگند رپال اور سریندر پرکاش کے انسانوں کو بھی بہت سراہتے تھے۔ قیصر تمکین، ڈاکٹر مصطفی کریم، ش صغیر ادیب اور شاہدہ احمد کی کہانیوں کو وہ ہجرتی ادب کے سرمائے میں اہم اضافہ قرار دیتے تھے۔

جتند ربلو نے برطانیہ میں رہتے ہوئے نہ صرف اپنی پہچان کے حوالے کو زندہ رکھا اور اوراس کی پاسداری کی بلکہ انہوں نے اُردوزبان میں اپنے شاندار ناولوں اور افسانوں کا جو تخلیقی اثاثہ اپنے پیچھے چھوڑا ہے اِس کے لئے اُردو زبان و ادب کے وارث ہمیشہ اُن کے ممنون احسان رہیں گے۔ جتندر بلو کے دنیا سے چلے جانے کے بعد مجھے ذاتی طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ اُن سے زیادہ ملاقاتیں اور باتیں ہونی چاہئیں تھیں یہی احساس مجھے محمود ہاشمی، قیصر تمکین،ساقی فاروقی، راشد اشرف، مقصود الٰہی شیخ اور آصف جیلانی کے انتقال کے بعدبھی شدت سے ہوا تھا۔ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ ہمیں خیال ہی نہیں رہتا کہ اُن لوگوں کے لئے وقت نکالیں جن سے ملنے کوہمارا جی چاہتا ہے۔جب ایسے لوگ رخصت ہو جاتے تو صرف اُن کی یادیں اور اُن سے مزید ملاقاتوں کی حسرت باقی رہ جاتی ہے…… ویسے بھی لندن اُردو کے اچھے اور نامور اہل قلم سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ایک زمانے میں یہاں اُردو کے شاعروں اور ادیبوں کی کہکشاں موجود تھی مگر اب چند ہی ایسی شخصیات حیات ہیں جن کے نام اُردو زبان وادب کا حوالہ ہے لیکن وہ بھی گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ لندن جو کبھی اُردو کا تیسرا بڑا مرکز کہلاتا تھا اب اِس کی ادبی گہما گہمی اور رونقیں ماند پڑ گئی ہیں۔

٭٭٭