کس دا دوش سی کس دا نیں سی
ایہہ گلاں ہن کرن دیاں نیں
ویلے لنگھ گئے توبہ والے
راتاں ہوکے بھرن دیاں نیں
جو ہویا ایہہ ہونا ای سی
تے ہونی روکیا روکدی نیں
اک واری جدوں شروع ہو جاوئے
گل فیر اینویں مکدی نیں
کجھ انج وی راہواں اوکھیاں سن
کجھ گل وچ غم دا طوق وی سی
کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن
کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی
منیر نیازی کی یہ شاعری حالات کی صیح عکاسی کرتی ہے جس قسم کے حالات سے وطن عزیز اور عوام گزر رہے ہیں آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ یہ مشکلیں مصیبتیں کیوں ہیں آخر اس کا ذمہ دار کون ہے ان سے کب جان چھوٹے گی کیا ہم اور ہماری آنے والی نسلیں اسی طرح روتے دھوتے زندگی گزار دیں گے اگر کوئی تھوڑا سا بھی غور وفکر کر لے تو اسے بات سمجھ آ جاتی ہے لیکن نہ کوئی سمجھنے کے لیے تیار ہے نہ کوئی سدھارنے کے لیے تیار ہے بلکہ قوم کو ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا ہے کہ آپ کے ساتھ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے لہذا ہروقت ہرقسم کے حالات سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں اور آپ کے ساتھ جو کچھ بھی ہو جائے اس پر گلہ شکوہ نہیں کرنا اسے قدرت کی کرنی سمجھ کر خاموش رہنا ہے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے آپ کا کوئی تعلق نہیں اس حوالے سے آپ نہ کچھ دیکھ رہے ہیں نہ محسوس کر رہے ہیں اور نہ آپ کسی سے اظہار کر سکتے ہیں یہ خاص لوگوں کے مسائل ہیں یہ انہی تک رہنے دیں اس بارے سوچنا سمجھنا اور اسے حل کرنا ان ہی لوگوں کا کام ہے آپ کو ادھر دیکھنے کی ضرورت نہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ ملکی معاملات سے لاتعلق ہوتے جا رہے ہیں بے حسی بڑھ رہی ہے کچھ بےبس مجبور لا چار ہیں تو کچھ تماشہ گیر ہیں اور باقی کہتے ہیں، سانوں کی، ملک کا ٹھیکہ محدود ہو گیا ہے ہم سمجھتے تھے صرف سیاست ہی زوال پذیر ہے لیکن اب تو یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل ہے کہ سیاست زیادہ زوال پذیر ہے یا صحافت۔لیڈر زیادہ بدکردار ہیں یا عوام اخلاقی بے راہ روی گھروں میں زیادہ ہے یا بازاروں میں ،اخلاقی گراوٹ جھوٹ فریب ناانصافی اداروں میں زیادہ ہے یا پبلک میں عوام زیادہ رشوت خور ہیں یا سرکاری اہلکار مسیحا زیادہ ظالم ہے یا استاد سرکاری ادارے زیادہ ذلیل کرتے ہیں یا نجی ادارے زیادہ کھال کھینچتے ہیں کھیلوں پر زیادہ زوال ہے یا کھلاڑیوں پر آجر زیادہ ظالم ہے یا اجیر۔
اگر بغور جائزہ لیں تو پورا معاشرہ ہی اکھڑ چکا ہے معاشرے کا کوئی ایسا شعبہ نہیں بچا جسے درست کہا جا سکتا ہو ہر طرف کمال کا زوال ہے پورا معاشرہ افراتفری کا شکار ہے اخلاقی اقدار تباہ ہو چکی ہیں قواعد وضوابط ہم دفن کر چکے ہیں برائیوں کو برا نہیں سمجھا جا رہا فراڈیے دغا باز کو ہوشیار چالاک، اور شریف آدمی کو بزدل نالائق تصور کر لیا گیا ہے جھوٹ فیشن بن چکا ہے ایسے میں پھر کلاوڈ برسٹ نہ ہوں سیلاب زلزلے نہ آئیں تو کیا ہو یہ ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں لیکن ہم کچھ بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں کتنی بدقسمتی ہے کہ لوگ پانی میں ڈوب کر مر رہے ہیں لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونچیاں پانی میں بہہ چکی ہیں مال مویشی فصلیں گھر بار سب کچھ تباہ ہو چکا آدھا پاکستان پانی میں ڈوب چکا 50 لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوئے ہیں اس پر بھی لوگ شغل میلہ میں لگے ہوئے ہیں بدقسمتی کی انتہا ہے کہ اس میں انتظامی افسر بھی شامل ہیں لوگ بربادی میں بھی سیلفیاں بناکر اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں امداد کے نام پر لوگوں کاتمسخر اڑایا جا رہا ہے ریلیف اور ریسکیو کے کاموں میں بھی سیاست ہو رہی ہے لوگ عبرت پکڑنے کی بجائے لوٹ مار میں مصروف ہیں وہ کسان جس کو اس کی گندم کی پوری قیمت بھی نہ دی گئی اس سے چند ماہ قبل گندم اونے پونے خریدی گئی آج اسے آٹا بھی میسر نہیں آٹا نایاب ہوتا جا رہا ہے آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت میں ایک ہزار روپے تک کا اضافہ ہو گیا ہے روزمرہ کے استعمال کی اشیاء دالیں سبزیاں چینی سب کچھ مہنگا کر دیا گیا ہے نہ قیمتوں پر کسی کا کنٹرول ہے نہ دستیابی پر کسی کی دسترس ہے ایسے میں درد دل رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں لوگ مصیبت میں مبتلا افراد کی مدد کے لیے دل کھول کر عطیات بھی دے رہے ہیں بےشمار تنظیمیں اور مخیر حضرات دن رات خلق خدا کی خدمت میں مصروف ہیں لیکن لوٹ مار کرنے والوں کو مرنا یاد نہیں وہ عطیات دینے والوں کو بھی مہنگے داموں اشیاء فروخت کر رہے ہیں ملک ہر معاملہ میں انتہاوں کو چھو رہا ہے فیصلہ کرنے والی قوتوں کو سوچنا چاہیے اس طرح معاملات نہیں چلتے معاشرہ کو صیح ڈگر پر ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جائیں ورنہ اس کے اثرات کے لیے تیار رہیں۔