کئی برس پہلے کی بات ہے کہ لندن میں ایک مشاعرے کے بعد ایک صاحب مجھے ملے اور میری شاعری کی تعریف کرتے ہوئے کہنے لگے کہ کہ”میں بھی شاعر ہوں لیکن مشاعروں میں اپنا کلام سنانے سے گریز کرتاہوں، کیا یہ ممکن ہے کہ آپ میری شاعری کو دیکھ لیں اور جہاں ضروری ہو اس کی اصلاح کر دیں“، میں نے عرض کیا کہ آپ کسی استاد شاعر سے رابطہ کریں لیکن وہ مصر تھے کہ میں اُن کی شاعری اور کلام کو ایک بار ضرور ملاحظہ کرلوں۔ اُن کے اصرار پر میں نے انہیں اپنا پتہ لکھ کر دے دیا چندروز بعد مجھے ان کے ”کلام“کا پلندہ ڈاک سے موصول ہوا۔ غزلوں اور نظموں پر مشتمل ان کی یہ ”شاعری“ محض خیالات کا مجموعہ تھی جو ردیف،قافیے، وزن اور بحر کے بنیادی تقاضوں سے بھی مبرا تھی۔ چند روز بعد ان صاحب نے مجھے فون کر کے اپنی شاعری کے بارے میں میری رائے جاننا چاہی تو میں نے صاف صاف بتا دیا کہ شاعری آپ کے بس کی بات نہیں، آپ اپنے جذبات اور خیالات کے اظہار کے لئے کوئی اور ذریعہ تلاش کریں، شاعری کی بجائے نثر لکھا کریں۔میرے اس بے لاگ تبصرے پر وہ بہت مایوس ہوئے اورفون بند کرد یا لیکن چند مہینوں بعد جب مجھے اُن کا شائع شدہ شعری مجموعہ موصول ہوا تو میں حیران رہ گیا۔ اُن کی اس دیدہ زیب کتاب میں بہت سے نامور اہل علم کی رائے اور تبصرے بھی شامل تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لندن میں اس شعری مجموعے کی تقریب رونمائی کااہتمام کیا گیا اور اِس کتاب کو اُردو شاعری کے باب میں اہم اضافہ قرار دیا گیاحالانکہ موصوف اپنے اصلاح شدہ کلام کو بھی بے وزن کر کے پڑھتے رہے۔ یہ تو صرف ایک مثال ہے، لندن اور برطانیہ میں در جنوں مرد اور خواتین ایسی ہیں جنہیں ادھیڑ عمر میں پہنچ کر اچانک یہ”الہام“ہوتا ہے کہ شاعری کی دیوی اُن پر مہربان ہوگئی ہے اور اب شاعری ہی اُن کی شناخت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ جو لوگ اچانک شاعر ہونے کے اس وہم میں مبتلاہو جاتے ہیں انہیں سب سے پہلے مشاعروں میں اپنے کلام کی دھاک بٹھانے کاخبط لاحق ہوتا ہے اوراگر پھر بھی اُن کی تسلی نہ ہو تو اپنا شعری مجموعہ چھپوا کر اُس کی تقریب رونمائی کے ذریعے”بے چارے سخن فہم“ اوور سیز پاکستا نیوں کو اپنی شاعرانہ عظمت کا قائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا شعری مجموعہ شائع ہونے سے کسی کو شاعر ہونے کی سند مل جاتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کے شاعر ہونے کا انکشاف طالب علمی کے زمانے یاٹین ایج (ابتدائی عمر) میں ہی ہو جاتا ہے۔ جوش ملیح آبادی نے جینوئن اور فطری شاعروں کے بارے مں کہا تھا کہ وہ شاعری کے پیچھے نہیں دورڑ تے ، شاعری ان کا تعاقب کرتی ہے اور اوائل عمری سے ہی انہیں اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔شاعری کا تعلق واقعی الہامی کیفیت سے ہوتا ہے، جینوئن شاعروں کو ابتدا سے ہی وزن، بحر، ردیف قافیے کا ادر اک ہو جاتا ہے۔ جن لوگوں کو قدرت اس ادراک سے محروم رکھتی ہے وہ ساری زندگی بھی خامہ فرسائی کرتے رہیں تو شاعر نہیں بن سکتے۔ ایسے لوگ اپنے شعری مجموعے بھی چھپوا لیں تو اُن کا اُردو شاعری میں وہی مقام ہوتا ہے جو چاہت فتح علی خان کا باقاعدہ گلوکاروں میں ہے۔ ویسے بھی شاعری کو ذریعہ عزت نہیں سمجھا جاتا لیکن مشاعرہ باز شعرا ہر جگہ اپنی عظمت کے جھنڈے گاڑنے کے لئے ہر حربہ آزمانے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں خواہ اس عاشقی میں عزت سادات ہی کیوں نہ چلی جائے۔ نام نہاد شاعروں کی حرکتوں کی وجہ سے اہل ذوق کی بڑی تعداد شعر و ادب سے کنارہ کش ہو چکی ہے۔ خاص طور پر ہمارے جو پاکستانی شاعر لندن اور دیگر شہروں میں جا کر اپنے میزبانوں کی ناک میں دم کر دیتے اورمشاعروں کے منتظمین کو زچ کرتے ہیں اُن کی وجہ سے برطانیہ میں ادبی ماحول خاصا غیر ادبی ہو گیا ہے۔
میں نے پہلے بھی اس حقیقت کی نشاندہی کی تھی کہ پاکستان سے برطانیہ کے ادبی دورے پر آنے والے کئی نام نہاد استاد شاعر اپنے آئندہ سال کے دورے کے لئے شکار اور میزبان کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں، کسی متشاعر کو اس کے کلام کی اصلاح کی ترغیب دیتے ہیں تو کسی کو اس کے شعری مجموعے کی اشاعت کا لالچ دے کر مال بٹورنے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یونائیٹڈ کنگڈم کے علاوہ سٹاک ہوم، کوپن ہیگن، اوسلو، پیرس، فرینکفرٹ،نیویارک، لاس اینجلس اور دنیا کے دیگر ممالک میں اردو کے ایسے کئی شاعر اور شاعرات پائے جاتے ہیں جن کے کئی کئی شعری مجموعے چھپ چکے ہیں لیکن وہ شاعری کے بنیادی رموز اور ابجد سے بھی واقف نہیں ہیں۔ ایسے ہی شاعروں کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ شعری مجموعوں کے خالق نہیں مالک ہیں۔
برطانیہ میں چند شاعرات اور شاعر ایسے بھی ہیں جو کسی نہ کسی ذریعے سے مشاعروں کے منتظمین کا رابطہ نمبر حاصل کر کے ان کے منت ترلے کرتے ہیں کہ انہیں بھی مشاعرے میں مدعو کیا جائے۔ پاکستان سے آنے والے بہت سے شاعر اور شاعرات جن کے بچوں کی شادیاں برطانیہ میں ہو چکی ہیں یا ان کے بچے سٹوڈنٹ ویزے پر یہاں مقیم ہیں یا جن کے قریبی عزیز و اقارب لندن یا دیگر شہروں میں رہتے ہیں وہ جب ان سے ملنے کے لئے یو کے آتےہیں تو ان کی ہرممکن کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی مشاعرے یاادبی تقریب میں مہمان خصوصی بن جائیں۔ اس مقصد کے لئےوہ ہر شہر کی ادبی تنظیموں کے منتظمین سے از خود رابطہ کر کے ان سے اصرار کرتے ہیں کہ اُن کے اعزاز میں کوئی نہ کوئی ادبی محفل ضرور منعقد کی جائے تا کہ وہ فیس بک پر منہ دکھانے کے قابل ہو سکیں۔ ہمارے بہت سے پاکستانی شاعر غیر ملکی نجی دوروں پر جا کر مشاعروں کے بغیر اس طرح بے چین رہتے ہیں جس طرح مچھلی پانی سے باہر آکر تڑپتی ہے۔
جب کسی ملک اور قوم پر زوال آتا ہے تو زندگی کا ہر شعبہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ پاکستان جس زوال کا شکار ہے ہمارا ادب بھی اس کی لپیٹ میں آچکا ہے، تھوک کے حساب سے شاعر جنم لے رہے ہیں، شعری مجموعوں اور کتابوں کی اشاعت کے خبط نے پبلشرز کو کروڑ پتی بنا دیا ہے، کتابیں فٹ پاتھ پر اور جو تے شاندا ر شوروم میں فروخت ہونے لگے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ لندن اور برطانیہ کے دیگر شہروں میں بہت شاندار اورعمدہ مشاعرے ہوا کرتے تھے جن میں اہل ذوق کی بڑی تعداد شریک ہو کر اچھی شاعری سے لطف اندوز ہوا کرتی تھی لیکن پھر ادبی ماحول رفتہ رفتہ بدلتا گیا، شاعروں کی تعداد میں اضافہ اور حاضرین کی تعداد میں کمی واقع ہوتی گئی اور اب یہ عالم ہے کہ بیشتر مشاعروں میں شاعروں کو لانے لے جانے والے لوگ ہی مجبوراً ہال میں بیٹھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن جب ان بے رونق مشاعروں کی سوشل میڈیا یعنی فیس بک وغیرہ پر تشہیر کی جاتی ہے تو یوں لگتا ہے کہ اس انٹرنیشنل مشاعرے کو سننے کے لئے سیکڑوں سخن فہم تارکین وطن وہاں موجود تھے۔ میں ہمیشہ اچھے اور معیاری مشاعروں کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کے منتظمین سے یہ گزارش بھی کرتا ہوں کہ وہ کسی بھی مشاعرے میں دس سے زیادہ شاعر وں کو زحمتِ کلام نہ دیں وگرنہ حاضرین کا حوصلہ جواب دے جاتا ہے اوروہ مشاعرے میں کلام شاعر بہ زبان شاعر کا لطف اٹھانے سے گریز کرنے لگتے ہیں۔ میرے ایک بازوق دوست نے کچھ عرصہ پہلے فرمائش کی کہ میں اُنہیں لندن کے کسی مشاعرے میں اپنے ساتھ لے کر جاؤں، میں نے انہیں بتایا کہ میں تو خود مشاعروں میں شرکت سے گریز کرتا ہوں۔ اتفاق سے انہی دنوں والتھم سٹو ایسٹ لندن میں ایک مشاعرے کا اہتمام کیا جار تھا، میں نے اپنے اس دوست کو آگاہ کر دیا کہ اگر وہ مشاعرہ سننے کے متمنی ہیں تو اس تقریب کے منتظم سے رابطہ کر لیں۔ میرے یہ دوست جب مشاعرے میں شرکت کے بعد مجھے ملے توکہنے لگے کہ اگر میرا وقت ہی ضائع کرانا تھا تو اس کے لئے مجھے مشاعرہ سننے کے لئے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی، اُن کی بیزاری اور مایوسی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میں نے استفسارکیا تو انہوں نے بتایا کہ جس مشاعرے میں 28 شاعراپنا کلام سنائیں اور محض12 سامعین وہاں موجود ہوں اور کلام سنانے والوں کی اکثریت تک بند اور زیادہ سے زیادہ شاعری پڑھنے کی خواہش مند ہو تو ایسے مشاعرے میں کون با ذوق شخص شریک ہو کر اپنے ڈھائی تین گھنٹے ضائع کرے گا۔ لندن اور برطانیہ کے دیگر شہروں میں آج کل جو مشاعرے منعقد ہوتے ہیں اُن میں عام طور پر بیس پچیس شاعر ضرور اپنا کلام سناتے ہیں اور جب مہمانانِ خصوصی اور صدر کو دعوتِ کلام دی جاتی ہے تو اس وقت ہال کی بکنگ کا وقت ختم ہو رہا ہے ہوتا ہے یا ڈھائی تین گھنٹے ایک ہی کرسی پر بیٹھے ہوئے حاضرین اس قدر نڈھال ہو چکے ہوتے ہیں کہ کلام سننے میں دلچسپی لینے کی بجائے وہ یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ یہ تقریب جلد از جلد اپنے اختتام کو پہنچے تو وہ اپنے گھر جائیں۔ مشاعروں کے آغاز میں جن تک بندوں یا متشاعروں کو دعوت کلام دی جاتی ہے وہ اپنا زیادہ سے زیادہ کلام سنانے کی ہڑک کے باعث اتنا زیادہ وقت لے لیتے ہیں کہ صدر اور مہمان خصوصی کو محض دو چار اشعار سنانے پر ہی اکتفا کر نا پڑتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میں کوپن ہیگن کے ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے گیا تو میرے دوست اور شاندار شاعر فواد کرامت نے تقریب کے آغاز سے پہلے کلام سنانے والے شاعروں کی فہرست اور ترتیب سے مجھے آگاہ کیا۔مقامی شعرا کے بعد مشاعرے میں کھانے کا وقفہ اور پھر مہمان شعرا اور صدر محفل کا کلام سننے کا پروگرام طے کیا گیا تھا۔ میں نے فواد کرامت سے کہا کہ اگراس مشاعرے میں شاعروں کی ترتیب بالکل اُلٹ دی جائے یعنی سب سے پہلے صدر محفل، پھر مہمانان خصوصی اور آخر میں مقامی شعرا اورزحمت کلام دی جائے تو یہ ایک نئی طرز کا مشاعرہ ہوگا۔ فواد کرامت نے ایسا ہی کیا جس پر مقامی شعر ا بہت سٹپٹائے لیکن یہ مشاعرہ بہت کامیاب رہا، حاضرین نے مہمان شاعروں اور صدرِ محفل کوجی بھر کر سناجس کے بعد کھانے کاوقفہ ہوا اور وقفے کے بعد مقامی شعرا کو سنا گیا اور انہوں نے اس محدود وقت میں اپنی ایک غزل یا نظم سنانے کو ہی غنیمت جانا۔ یہ تجربہ لندن اور برطانیہ کے دیگر شہروں میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں بھی ہونا چاہئیے۔
٭٭٭
12 تبصرے “لندن کے مشاعرے”
تبصرے بند ہیں