نواں آیاں اے سوہنیا

جب میں وہاں پہنچا تو ٹکٹ لینے والوں کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔بہت سے لوگ جنہوں نے پہلے سے آن لائن ٹکٹ خرید رکھے تھے وہ بھی اپنے موبائل فون سے بارکوڈ سکین کروانے اور سینما ہال کے اندر جانے کے لئے قطار میں کھڑے ہوئے تھے۔ شایہ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی پاکستانی فلم کی لندن میں نمائش کے موقع پر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے سینما گھروں کا رخ کیا ہو۔ فلم دیکھنے کے شوقین لوگوں میں صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ اور بہت سے ایشیائی اور خاص طور پر سکھ کمیونٹی کے لوگ بھی شامل تھے اور یہ فلم ہے  لیجنڈ آف مولا جٹ ….طویل انتظار اور بھرپور پبلسٹی کی وجہ سے دنیا بھر میں آباد پاکستانیوں کو ویسے بھی اس فلم کا شدت سے انتظار تھا۔ بعض فلمیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کے مکالمے مدتیں گزرنے کے باوجود فلم بینوں کے حافظے سے نہیں نکلتے۔ ان میں مکالمے لکھنے والوں سے زیادہ اداکاروں کے سٹائل اور سچو یشن کا کمال ہوتا ہے۔ مثلاً ”نواں آیاں اے سوہنیا“ یا پھر ”کتنے آدمی تھے“ کوئی ایسے مکالمے نہیں کہ جنہیں یاد رکھا جائے لیکن جن اداکاروں نے ان دو مکالموں کو اپنے اپنے انداز میں ادا کیا اور جس سچویشن میں یہ مکالمے بولے گئے اس نے انہیں لازوال کر دیا۔ فلم مولاجٹ میں مجھے نوری نت(مصطفی قریشی) کے کردار نے زیادہ متاثر کیا تھا اور جب میں لیجنڈ آف مولا جٹ دیکھنے گیا تو مجھے تجسس تھا کہ حمزہ عباسی نے اس کردار کو کیسے نبھایا ہو گا۔ فلم میں جب حمزہ عباسی کی انٹری ”نواں آیاں اے سوہنیا“ کے مکالمے سے ہوئی تو مجھے لگا کہ میری ٹکٹ کے 15پاؤنڈ وصول ہو گئے۔ حمزہ عباسی نے جس انداز سے نوری نت کے کردار کی لاج رکھی ہے اس کی داد نہ دینا ناانصافی ہو گی بلکہ جب یہ فلم مصطفی قریشی نے دیکھی ہو گی تو انہوں نے بھی حمزہ عباسی کے سٹائل اور پنجابی مکالموں کی شاندار ادائیگی پر بے ساختہ داد دی ہو گی۔ لیجنڈ آف مولا جٹ کو جس پیشہ ورانہ مہارت سے فلمایا گیا اور جس طرح کی لوکیشنز میں اس کی فلم بندی کی گئی ہے یوں لگتا ہے کہ یہ ہالی ووڈ کی کوئی مووی ہے۔ ویل ڈن بلال لاشاری۔ برطانیہ میں لوگوں کی اکثریت انٹرٹینمنٹ کے لئے سینما جاتی ہے اسی لئے ہالی ووڈ اور بالی ووڈ میں اس انداز میں فلمیں بنائی جاتی ہیں کہ ان کو دیکھنے کا صحیح لطف صرف سینما ہال میں ہی آتا ہے۔ پورے برطانیہ میں ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ سینما گھر ہیں۔ صرف لندن میں ایک سو سے زیادہ سینما ہال ہیں۔ بیشتر سینما گھروں میں نصف درجن سکرینز ہوتی ہیں جہاں بیک وقت کئی فلموں کی نمائش جاری رہتی ہے۔ بہت سے سینما گھر فلم بینوں کو سالانہ پاس بھی بنا کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے فلموں کے شوقین لوگ پورا سال نئی سے نئی فلمیں دیکھنے کا لطف اُٹھاتے ہیں۔ 

برطانوی سینما ہالز میں پاپ کورن، کولڈ ڈرنکس، آئس کریم، کرسپس اور دیگر لوازمات کے ساتھ فلم دیکھنے کا جو لطف آتا ہے ایسا مزہ گھر میں بیٹھ کر فلم دیکھنے سے نہیں آتا۔برطانیہ میں سینما گھروں کا ماحول بہت پرسکون اور آرام دہ ہے۔ اسی لئے گھروں میں نیٹ فلکس اور بڑی ٹی وی سکرینز ہونے کے باوجود لوگ نئی فلموں سے لطف اندوز ہونے کے لئے سینما ہالز کا رخ کرتے ہیں۔ یونائیٹڈ کنگڈم کی اپنی فلم انڈسٹری ہالی ووڈ کے بعد انگلش زبان کی بڑی فلمی صنعت ہے جہاں سالانہ 3بلین پاؤنڈ سے زیادہ کی لاگت سے فلمسازی ہوتی ہے۔ یوکے میں فلم اب تک بھی تفریح کا ایک بڑا ذریعہ ہے اسی لئے یہاں کی فلمی صنعت وقت گزرنے اور خاص طور پر کرونا وائرس کی وبا کے بعد مزید مستحکم ہو رہی ہے۔ پاکستان میں 70ء اور 80ء کی دہائی کے بعد فلمی صنعت مسلسل زوال کا شکار رہی۔ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں 1585سینما گھر ہوا کرتے تھے جن کی تعداد اب کم ہو کر صرف 135رہ گئی ہے۔ میرے طالبعلمی کے زمانے میں میرے آبائی شہر بہاول پور میں 6سینما گھر، عباسیہ سینما، رینبو سینما، فانوس سینما، شمع سینما، پیراڈائیز سینما اور روہی سینما ہوا کرتے تھے۔ معلوم نہیں اب میرے اس شہر میں کوئی سینما ہال ہے کہ نہیں؟ بہرحال برطانیہ میں پاکستانی فلم لیجنڈ آف مولا جٹ کی نمائش سے اوورسیز پاکستانیوں کی خوشی دوبالا ہو گئی ہے۔ یعنی ایک تو انہیں ایک اچھی فلم دیکھنے کو ملی اور پھر فلم بھی پاکستانی۔ اس فلم کی وجہ سے پاکستانی تارکین وطن کو یہ خوشگوار یقین ہو گیا ہے کہ پاکستان میں بھی بین الاقوامی معیار کی فلمیں بن سکتی ہیں اور اس معیار کی فلموں کی اوورسیز نمائش سے پاکستان کو زرمبادلہ بھی مل سکتا ہے۔ اب سے پہلے تک بیرونی دنیا میں آباد پاکستانی صرف انڈین فلمیں دیکھنے کے لئے سینما ہالز کا رخ کرتے تھے اور ان بھارتی فلموں کی برطانیہ، امریکہ، کینیڈا یا دیگر ممالک میں نمائش سے فلمسازوں کو خطیر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ اگر پاکستان بھی 70ء اور 80ء کی دہائی جیسی معیاری فلمیں بنانے پر توجہ دے تو بین الاقوامی سرکٹ میں ان کی نمائش سے پاکستان کو خطیر زرمبادلہ میسر آ سکتا ہے۔ لیجنڈ آف مولا جٹ کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں باصلاحیت لوگوں اور بین الاقوامی معیار کی فلم سازی کرنے والوں کی کمی نہیں۔ بیرون ملک آباد پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی اس شعبے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فلم لیجنڈ آف مولاجٹ کی نمائش کے ساتھ ساتھ اس کی تعریف اور تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ اس فلم کے منفی پہلوؤں کی نشاندہی کرنے، ٹیکنیکل کوتاہیوں کے کیڑے نکالنے اور اداکاروں کے پنجابی لہجے پر تنقید کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ بھی کیسی دلچسپ حقیقت ہے کہ اگر ہالی ووڈ کی کسی فلم میں مار کٹائی، لڑائی اور خون ریزی کے مناظر ہوں تو ہم اسے ایکشن فلم کا نام دیتے ہیں اور اگر ایسے سین کسی پاکستانی فلم میں ہوں تو ہم اسے ماردھاڑ اور وائیلنس سے بھرپور فلم قرار دے کر مسترد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں فلم انڈسٹری جس طرح پھر سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہی ہے ان حالات میں اسے تنقید سے زیادہ حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ ایک مبصر کے بقول اگرچہ  لیجنڈ آف مولا جٹ میں فواد خان کی پنجابی، فلم کی ہیروئن اور ہیرو کا گھوڑا کچھ کمزور ضرور ہے لیکن یہ فلم انٹرٹینمنٹ سے بھرپور ہے۔ اس فلم کو اگر ہم تفریح کے لئے دیکھیں (جیسا کہ دوسری فلموں کو دیکھتے ہیں) تو یہ ایک کامیاب اور شاندار فلم ہے۔ اس فلم کی خامیاں نکالنا کہ اس میں کس زمانے کا ماحول دکھایا گیا ہے، اداکاروں کو کس طرح کا لباس پہنایا گیا ہے اور ان کے لئے کس طرز کا گاؤں بسایا گیا ہے، ان سب چیزوں کو نظر انداز کر کے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا یہ فلم تفریح کے ان تقاضوں کو پورا کرتی ہے جن کے لئے ہم ٹکٹ خرید کر سینما ہال جاتے ہیں۔ ویسے بھی کہتے ہیں کہ جب کوئی حسین لڑکی ہنستی ہے تو عام لوگ اس کی ہنسی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور جب کوئی ڈینٹسٹ کسی حسینہ کو ہنستے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کی ہنسی سے لطف اندوزہونے کی بجائے یہ دیکھنے لگتا ہے کہ اس کے کس دانت میں کیڑا لگا ہوا ہے یا اس کی کون سی داڑھ خراب ہے۔لیجنڈ آف مولا جٹ کو ایک ڈینٹسٹ کی بجائے ایک عام انسان کی طرح دیکھا جائے تو آپ اس فلم کی خوبیوں سے ضرور لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭