82

پاکستان بھارت کرکٹ اور جنگ کا میدان 

کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے اور اسے کھلے دل سے تسلیم بھی کرنا چاہیے لیکن ایک تو کھیل کو کھیل ہی رہنے دینا چاہیے اس میں سازشیں اور سیاست نہیں ہونی چاہیے دوسرا کھیل میں اگر مقابلہ نہیں ہو گا تو کھیل کا مزہ نہیں رہے گا پاک بھارت کھیل میں دونوں قوموں کے جذبات ملوث ہوتے ہیں صرف کرکٹ نہیں کسی بھی کھیل میں جب مقابلہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہوتا ہے تو پھر وہ کھیل نہیں رہتا جنگ بن جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ روائیتی حریفوں کے درمیان ہونے والا عام سا کرکٹ میچ بھی خصوصی اہمیت اختیار کر جاتا ہے ابھی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا پول میچ تھا لیکن اس میں لوگوں کی دلچسپی فائنل سے زیادہ تھی یہ ٹورنامنٹ کا مہنگا ترین میچ تھا جس میں اربوں روپے کا کاروبار ملوث تھا سب سے پہلے تو اس میچ کو یقینی بنانے کے لیے کس حد تک مداخلت کرنا پڑی سری لنکا، پاکستان اور انڈیا کی حکومتیں ملوث ہوئیں دنیا بھر کے کرکٹ کے منتظمین اور اعلی عہدیداروں کو تگ ودو کرنا پڑی اور کروڑوں لوگوں نے براہ راست یہ میچ دیکھا سب سے مہنگے ٹکٹ اسی میچ کے فروخت ہوئے کولمبو کے تمام ہوٹل شائقین سے بھرے پڑے تھے لیکن پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی کارکردگی سے سارا مزہ کرکرا کر دیا جتنی مشکل سے یہ میچ منعقد ہوا تھا جس قدر لوگوں کے جذبات انولو تھے توقع تھی کہ یہ میچ بڑا سنسنی خیز ہو گا لیکن میچ تو بالکل پھس پھسا سا ثابت ہوا لوگوں کو پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی نے بہت مایوس کیا میچ کے ہاف تک پھر بھی تجسس برقرار تھا ماسوائے شاہین آفریدی کے دو اووروں میں 30 رنز کھانے کے باقی باؤلرز کی کارکردگی اچھی رہی اور توقع تھی کہ پاکستانی بیٹسمین اس میچ کو جیتنے کی کوشش کریں گے لیکن پاکستانی بیٹسمین نے تو میچ پہلے ہی پانچ اووروں میں ختم کر دیا تھا اور جیت پلیٹ میں رکھ کر بھارت کے حوالے کر دی کوئی بیٹسمین جم کر کھیل ہی نہ سکا ایسے لگ رہا تھا اناڑیوں کو کھلاڑیوں کے سامنے باامر مجبوری کھڑا کر دیا گیا ہے سمجھ ہی نہیں کیا جادو چل گیا کوئی بھی کھلاڑی انڈین باؤلرز کو کھیل ہی نہیں سکا تو چل میں آیا والی پوزیشن تھی اور پاکستان کی صف اول کی ٹیم پورا میچ بھی نہ کھیل پائی قوم کو دکھ بھی اسی بات کا ہے کہ اگر لڑ کر ہار جاتے تو کوئی بات نہیں تھی بغیر لڑے ہار جانا تو شرمناک ہے اس ذلت آمیز شکست نے شائقین کرکٹ کو بہت مایوس کیا ہے کھلاڑیوں کو لوگوں کی جذباتی وابستگی کا بھی خیال نہیں آیا انھوں نے بہت سارے لوگوں کے دل توڑے ہیں 

 نہ جانے کیوں ہمارے کھلاڑی نفسیاتی طور پر  بھارتی کرکٹ ٹیم کو  سر پر سوار کر لیتے ہیں اور ان کے ہاتھ پاوں پھول جاتے ہیں ہمارا کوئی بھی کھلاڑی اعتماد کے ساتھ کھیلتا نظر نہیں آیا  ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہماری ٹیم میں تسلسل نہیں ہم نہ جانے آوٹ آف فارم کھلاڑیوں کو کیوں کھلاتے ہیں ہماری کیا مجبوری ہے ہماری ٹیم میں پرفیکشن نہیں پاکستان کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک خدادا صلاحیتوں سے لبریز پرفارمر پڑا ہے لیکن ہم سٹارز کے پیچھے بھاگتے ہیں اور سٹارز کارکردگی دکھانے میں مسلسل ناکام ہو رہے ہیں اگر ان میں سے جن کی پرفارمنس درست نہیں  انھیں آرام کروالیا جائے ان کی مزید تربیت کروا لی جائے یا ان کی جگہ بہتر کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے اس کارکردگی کے ساتھ مقابلہ بازی کا رحجان برقرار نہیں رکھا جا سکتا اس کارکردگی سے پاکستان کی جو دنیائے کرکٹ میں اہمیت ہے وہ کم ہو جائے گی ہمیں ہر شعبہ میں معرکہ حق بنیان المرصوص جیسی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جس طرح معرکہ حق میں فتح کے بعد پوری دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے اسی طرح ہمیں ٹریڈ، کھیل اور دوسرے شعبوں میں پاکستان کے وقار کو سربلند کرنا ہے آج اگر دنیا پاکستان اور بھارت کے میچ میں دلچسپی رکھتی ہے تو اس کی وجہ بہتر کھیل ہوتا ہے اگر یکطرفہ مقابلے ہوتے رہے تو ہم پاک بھارت میچوں میں دلچسپی کھو دیں گے اور اس سے وابستہ مالی مفادات بھی ختم ہو جائیں گے عزت وقار اور مقابلہ بازی کے ساتھ ساتھ اس میں بہت بڑی سرمایہ کاری بھی ملوث ہے اس لیے تجسس کے ماحول کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے ہمیں کھیل اور کھلاڑیوں پر توجہ دینی ہو گی کھیل کو سیاست سے پاک کرکے مکمل طور پر پروفیشنل ازم کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا پاک بھارت میچ کا انعقاد تو ممکن بنا دیا گیا لیکن سپورٹس مین سپرٹ کافقدان رہا تلخیاں تاحال برقرار ہیں میچ کے دوران ایک بار پھر کھلاڑیوں کا ہینڈ شیک نہ ہو سکا جو اس بات کی غمازی ہے کہ بھارت  نے جنگی میدان میں جو شکست کھائی ہے وہ اس کو دل پر لے گیا ہے اسے بھول نہیں پا رہا لیکن ہاتھ نہ ملا کر بھارت نہ اپنی بالادستی ثابت کر سکتا ہے اور نہ ہی لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے دنیا بھارت کے اس اقدام پر تھو تھو کر رہی ہے نہ جانے کمینے دشمن کو کب عقل آئے گی۔