127

مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم

پچھلے سال ان دنوں 26 ویں آئینی ترمیم کا بڑا چرچا تھا خاص کر آئینی عدالت کے قیام پر بڑے تحفظات تھے یہ ترمیم سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کر دی گئی یہ کیس سپریم کورٹ میں زیرسماعت  ہے اور فیصلہ آنا باقی ہےابھی 26 ویں آئینی ترمیم ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کا ڈول ڈال دیا ہے البتہ 26 ویں آئینی ترمیم کے وقت حکومت کے پاس دوتہائی اکثریت نہیں تھی حکومت نے بڑی مشکلوں کے ساتھ یہ ترمیم منظور کروائی تھی تحریک انصاف کے کئی لوگوں کامستقبل داو پر لگانا پڑا ان کی وفاداریاں مشکوک کی گیں خاص کر مولانا فضل الرحمن نے تو ناک کی لکیریں نکلوا کر ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا اور حکومت کو آئینی عدالت بنانے کی خواہش کے برعکس آئینی بنچ بنانے پر اکتفا کرنا پڑا لیکن اب تو حکومت کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ،گلیاں سنجیاں ہو چکی ہیں اور مرزے یار کی مرضی ہے وہ جو چاہے حسن کرشمہ ساز کرے، یعنی کہ اب حکومت کے پاس ایوان میں دوتہائی اکثریت سے بھی زیادہ تعداد موجود ہے کسی کی حمایت اور منت ترلہ کی بھی ضرورت نہیں مخصوص نشستوں کا جیک پاٹ لگنے کے بعد حکومت کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ جس طرح چاہے جو چاہے کر گزرے اس وقت قومی اسمبلی کے 336 کے ایوان میں مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 125،پیپلزپارٹی 74،ایم کیو ایم 22،مسلم لیگ ق 5 استحکام پاکستان پارٹی 4مسلم لیگ ضیا 1 بی اے پی 1،جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن 10،اور آذاد ارکان کی تعداد 79 ہے  اب حکومت دوتہائی اکثریت میں خود کفیل ہو چکی ہے دوتہائی اکثریت کے لیے 224 ارکان کی حمایت کی ضرورت ہے جبکہ حکومتی اتحاد کو 332 ارکان کی حمایت حاصل ہے ویسے اخلاقی طور پر کسی بھی قانون سازی یا آئین سازی کے لیے ضروری ہے کہ اسے عوام کی تائید اور حمایت حاصل ہو اس پر عوامی حلقوں میں بحث کروائی جائے پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو یہی کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے اتفاق رائے سے 1973 کا آئین منظور کروایا تھا جس کو پیپلزپارٹی اپنا کارنامہ تصور کرتی ہے لیکن اب وہی پیپلزپارٹی چپ چپیتے آئینی ترامیم کے لیے حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جو مجوزہ تجاویز سامنے آئی ہیں ان میں فوج سے متعلقہ آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم ہے اس پر بات کرنے کی ضرورت نہیں جن کے بارے میں ہے وہ زیادہ بہتر جانتے ہیں ویسے بھی بھارت سے جنگ جیتنے کے بعد قوم واری صدقے جا رہی ہے لیکن باقی معاملات پر بات کر لیتے ہیں۔

آئینی عدالت کا قیام کیا یہ عدالت سپریم کورٹ سے بالاتر ہو گی کیا دو مقابل عدالتیں ہوں گی کیونکہ پارلیمانی بنچ تو پہلے ہی کام کر رہا ہے مجوزہ ترمیم میں ججوں کے تبادلوں اور ان کی فراغت کے حوالے سے بھی قواعد وضوابط میں تبدیلی کی جا رہی ہے دوسرا بڑی تگ ودو کے بعد جوڈیشری اور ایگزیکٹو کے اختیارات کو علیحدہ علیحدہ کیا گیا تھا 1973 کے آئین میں درج تھا کہ ایک مختصر عرصہ کے بعد عدلیہ اور ایگزیکٹو کے اختیارات علیحدہ کر دہے جائیں گے اس کام کے لیے کئی دہائیاں لگیں لیکن اب جبکہ عدلیہ انڈی پینڈنٹ کر دی گئی ہے اب ایک بارپھر ایگزیکٹو کو جوڈیشری کے اختیارات دیے جا رہے ہیں انتظامیہ جو کہ حکومتوں کا حصہ ہوتی ہے ان کے فیصلوں کے پیچھے حکومتی انتظامی معاملات کا شائبہ ہوتا ہے عدالتی اختیار کا استعمال انھیں من مرضی پر مجبور کر سکتا ہے اس پر عوامی بحث ہونی چاہیے ،این ایف سی ایوارڈ پر بڑی مشکل سے صوبے مطمئن ہوئے تھے بلکہ اب بھی گاہے بگاہے آوازیں آتی رہتی ہیں کہ ان کے حصے کے پیسے انھیں پورے نہیں مل رہے لیکن مجوزہ ترمیم کے بعد وفاق کے اختیارات میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے اس سے صوبائی خودمختاری متاثر ہو گی ،الیکشن کمیشن کی تقرری میں اپوزیشن کے کردار کو مائنس کیا جا رہا ہے حکومت کا موقف ہے کہ اپوزیشن جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کرکے بحران پیدا کرتی ہے الیکشن کمیشن کی تقرری بارے بھی طریقہ کار میں تبدیلی لائی جا رہی ہے ان تمام معاملات پر تحفظات پائے جاتے ہیں البتہ حکومت کا پورے ملک میں یکساں نصاب تعلیم کے لیے آئین میں ترمیم پر سب کا اتفاق ہو سکتا ہے یہ بڑی پرانی عوامی خواہش تھی کہ پورے ملک کا نصاب تعلیم ایک جیسا ہونا چاہیے ان تمام ترامیم بارے حکومت کو اپنی اکثریتی رائے کا استعمال کرکے یکطرفہ ترامیم نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس میں تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر عوامی حلقوں میں بحث کروائی جائے اب سیاستدانوں، وکلاء اور صاحب الرائے لوگوں کی آزمائش شروع ہونے والی ہے خاص کر پارلیمنٹ میں موجود لوگوں کا اصل امتحان ہے کہ وہ اس کو عوامی خواہش کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں یا ہاتھ کھڑا کرنے تک محدود رہتے ہیں۔