قدرت کے فیصلے

پاکستان کے سب سے طاقتور عہدے پر بڑے پروقار طریقے سے تبدیلی کا عمل مکمل ہو گیا ہے جنرل قمر جاوید باجوہ نئے آرمی چیف سید عاصم منیر کو طاقت کا سمبل آڑھائی فٹ کی چھڑی تھما کر اپنے فرائض سے عہدابرآ ہو گئے جنرل باجوہ کا 6 سالہ دور اس حوالے سے بڑا اہم تھا کہ اس دور میں سیاسی مدوجزر کے باعث کئی سیاسی سیلاب آئے اور فوج ہر معاملہ میں سب سے زیادہ زیر بحث رہی لیکن حیران کن طور پر نئے آرمی چیف کاتقرر بڑی ہی خوش اسلوبی سے طے پا گیا اس معاملہ پر کئی مہینوں سے بحث مباحثے جاری تھے شدید اضطراب تھا لیکن معجزانہ طور پر اتفاق رائے بھی پیدا ہو گیا اور فیصلہ بھی جھٹ پٹ ہو گیا نہ کوئی پچیدگی پیدا ہوئی نہ کوئی ناراضی سامنے آئی یہ ایک نیک شگون عمل ہے خطے میں اور خاص کر پاکستان میں آرمی چیف کی تبدیلی کو بہت اہم تصور کیا جاتا ہے ایک فقرہ جو اکثر سننے کو ملتا تھا کہ نیا آرمی چیف آئے گا سب ٹھیک ہو جائے گا اللہ کرے ایسا ہی ہو آج سے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے سید عاصم منیر سے بہت ساری توقعات وابستہ ہیں انھیں بہت سارے چیلنجز کا بھی سامنا ہے جس میں حالات کی درستگی، فوج کی ساکھ، داخلی وخارجی چیلنجز، اعتماد کا فقدان، معاشی مسائل سمیت بہت سارے نظر نہ آنے والے مسائل بھی شامل ہیں لیکن میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالٰی نے اگر اس اہم ذمہ داری کے لیے سید عاصم منیر کو چنا ہے تو اس سے ضرور بہتری آئے گی قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اللہ تعالی نے ان سے کام لینا تھا جب وہ لیفٹنٹ جنرل بنے تو انھوں نے اپنے عہدے پر لیٹ جائننگ دی وہی تاخیر ان کے لیے خیر وبرکت کا باعث بنی اسے کہتے ہیں دیر آید درست آید بعض اوقات تاخیر بھی انسان کی کامیابی کا باعث بنتی ہے اگر سید عاصم منیر نےبھی اپنے باقی ساتھیوں کی طرح بروقت اپنا عہدہ سنبھالا ہوتا تو وہ بھی ریٹائرڈ ہو چکے ہوتے لیکن اللہ جسے کوئی مرتبہ عطا کرتا ہے اس کے اسباب بھی وہ خود پیدا کرتا ہے آسمان کے فیصلوں کو زمین کی وکالت نہیں روک سکتی تاریخ گواہ ہے کہ تقدیر کے فیصلے مصنوعی رکاوٹوں سے نہیں روکے جا سکتے اس میں تمام تر دلائل اور قانونی پچیدگیاں ڈھکوسلے ثابت ہوتے ہیں اسی لیے کہتے ہیں آسمانی فیصلوں کے سامنے زمینی وکالت نہیں چلتی میں بےشمار واقعات کا عینی شاہد ہوں کہ جدوجہد کسی اور کے لیے کی جاتی ہے اور قرعہ کسی اور کا نکل آتا ہے بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں میاں منظور وٹو وزیر اعلی پنجاب تھے جب انھیں اپنے لیڈر حامد ناصر چھٹہ اور بے نظیر کا اعتماد نہ رہا تو پیپلزپارٹی نے اپنے امیدوار مخدوم الطاف کو وزیر اعلی بنانے کی گیم چلائی حامد ناصر چھٹہ، عطا محمد مانیکا کو وزارت اعلی کا امیدوار بنا کر لے آئے اور توقع تھی کہ دونوں میں سے کوئی ایک وزیر اعلی بنے گا جب بحث زیادہ بڑی تو بے نظیر بھٹو نے کہا ان سب میں عمر رسیدہ کون ہے سب نے کہا سردار عارف نکئی بے نظیر نے کہا سردار عارف نکئی کو وزیر اعلی بنا دو ان کے کبھی خواب وخیال میں بھی نہیں تھا کہ وہ اچانک اس طرح وزیر اعلی بن جائیں گے اسی طرح 1990 میں جب مسلم لیگ وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آئی تو میاں نواز شریف نے چوہدری پرویز الہی کو وعدے کے مطابق وزیر اعلی بنانے کی بجائے ایک ورکر نما ایم پی اے غلام حیدر وائیں کو وزیر اعلی بنا دیا 2002 کی اسمبلی میں پرویز مشرف نےمیر ظفر اللہ جمالی کو فارغ کرکے ہمایوں اختر خان کو وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن قدرت کو منظور نہیں تھا عین وقت پر چوہدری صاحبان نے شوکت عزیز کو وزیر اعظم بنانے کا فلر چھوڑا حالانکہ وہ ایم این اے بھی نہیں تھے چوہدریوں نے اپنے عزیز سے اٹک سے سیٹ خالی کروائی وہاں سے شوکت عزیز کو ممبر منتخب کروایا اور اسے وزیر اعظم بنوایا اس دوران مختصر عرصے کے لیے چوہدری شجاعت نے بھی وزیراعظم بن کر تاریخ میں نام لکھوا لیا اسی طرح عثمان بزدار کو انتخابات سے چند دن پہلے تک تحریک انصاف ٹکٹ نہیں دے رہی تھی پھر اچانک اپنا امیدوار بدل کر عثمان بزدار کو امیدوار بنایا وہ پہلی بار ایم پی اے کا الیکشن لڑ رہے تھے وہ منتخب ہو گئے انھوں نے کبھی پنجاب اسمبلی کی شکل نہیں دیکھی تھی وہ پنجاب اسمبلی میں آئے اور ایم پی اے ہاسٹل میں کمرے کے لیے درخواست دی تو اسٹیٹ افسر نے کہا کہ کوئی کمرہ ومرہ نہیں انھوں نے خود مجھے بتایا کہ جب افتتاحی سیشن میں حلف اٹھانے کے لیے گیا تو مجھے ایوان کے اندر داخلے کا راستہ نہیں مل رہا تھا میں نے ایک پلر کے ساتھ کھڑا ہو کر ساتھ والے حلقے کے ایم پی اے کو فون کیا کہ مجھے راستہ نہیں مل رہا مجھے آکر لے جاو اور وہ بندہ چند دن بعد پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلی بن گیا جس دن سپیکر کا الیکشن ہو رہا تھا اس روز سپیکر کے الیکشن کے بعد ڈپٹی سپیکر کے الیکشن میں کافی وقفہ ہوتا ہے لیکن ارکان کو ایوان سے باہر نہیں جانے دیا جاتا بزدار صاحب کہتے ہیں کہ ہر کوئی آپس میں گپ شپ کر رہے تے میں اکیلا بیٹھا تھا کوئی میرے جاننے والا نہیں تھا میرے قریب بیٹھے تین چار ایم پی اے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ اگر وزارت اعلی کے امیدوار کا پتہ ہو تو بندہ اس سے ہیلو ہائے کرتا ہے کسی کو علم نہ تھا کہ میں وزیر اعلی بن جاوں گا اور دوتین دن بعد میں وزیر اعلی بن گیا یہ سب اللہ کے کام ہیں وہ جسے چاہے عزت دے