463

صحت کا نیا ماڈل

ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کا تحفظ کرے انھیں تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کرے پاکستان کے شہری تینوں بنیادی سہولتوں سے مطمئن نہیں پاکستان کی آبادی خرگوش کی طرح چھلانگیں مار رہی ہے جبکہ سہولتیں کچھوے کی طرح رینگ رہی ہیں ہم بیماریوں کے تدارک پر کام کرنے کی بجائے ہسپتالوں کی استعداد کار بڑھانے اور انھیں خوبصورت بنانے پر لگے ہوئے ہیں صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کا ہر آٹھواں فرد گردوں کے مرض میں مبتلا ہے ہر پانچواں فرد بلڈ پریشر کا مریض ہر چھٹا ساتواں فردشوگر کے مرض میں مبتلا ہے بیماریاں کیوں پھیل رہی ہیں ان کو کیسے روکا جاسکتا ہے یا کم کیا جا سکتا ہے اس پر تحقیق اور اس کے سدباب پر کام ہونا چاہیے جبکہ پاکستان ادویات استعمال کرنے والے ٹاپ کے ملکوں میں شامل ہے اور کوئی گھر ایسا نہیں جہاں میڈسن نہ جاتی ہو رش صرف سرکاری ہسپتالوں میں نہیں پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی یہی حال ہے لگتا ہے پوری قوم ہی بیمار ہے حکومت پنجاب نے ان معاملات سے نمٹنے کیلئے صحت کا نیا ماڈل متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے ان معاملات کو سمجھنے کے لیے پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ اینڈ ڈیجیٹل میڈیا کے سربراہ ملک سلمان نے محکمہ صحت کے کرتا دھرتاوں کو اکھٹا کر کے سنیر صحافیوں کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا جس میں صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر اور سیکرٹری ہیلتھ نادیہ ثاقب نے حکومت کی ہیلتھ پالیسیوں بارے آگاہ کیا خواجہ سلمان رفیق انتہائی دھیمے لہجے کے سیاستدان ہیں وہ نرم خو گفتگو کرتے ہیں لو پروفائل میں رہنا پسند کرتے ہیں لیکن اپنے کام کے پکے ہیں ان کے بھائی خواجہ سعد رفیق جارحانہ مزاج رکھتے ہیں آج کل پنجاب کا مقدمہ لڑ رہے ہیں ہیلتھ کے دوسرے وزیر خواجہ عمران نذیر ماشاءاللہ بڑے پھرتیلے ہیں ان کی گفتگو میں بھی دھماکے ہوتے ہیں البتہ سیکرٹری ہیلتھ نادیہ ثاقب ماہر بیوروکریٹ کی طرح باتوں کی بجائے عملدرآمد پر یقین رکھتی ہیں محکمہ ہیلتھ کی تینوں فیصلہ کن شخصیات نے بتایا کہ وہ بنیادی صحت مراکز کو آوٹ سورس کر رہے ہیں ان بیسک ہیلتھ یونٹس کو مریم نواز ہیلتھ کلینک میں تبدیل کیا جا رہا ہے پنجاب حکومت نے میرٹ پر ڈاکٹروں کو یہ مراکز آوٹ سورس کرنے کے لیے ایک اعلی اختیاراتی کمیٹی قائم کردی ہے جس پر حکومت اثر انداز نہیں ہو سکے گی صحت کی بنیادی سہولتوں کا پورا ماحول تبدیل ہو جائے گا حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں جبکہ عوام کے ذہنوں میں ہے کہ اس سے علاج اور زیادہ مہنگا ہو جائے گا اس پر خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر کا موقف تھا کہ یہ تاثر غلط ہے ہم ڈیجیٹلائزیشن کی طرف جا رہے ہیں عوام کو معیاری سہولتیں دینا چاہتے ہیں مریم ہیلتھ کلینک میں جانے والوں کو مفت ادویات ملیں گی ہم صرف میرٹ پر بنیادی مراکز صحت ڈاکٹروں کے حوالے کر رہے ہیں تاکہ وہ ذمہ دار بنیں انھیں اپنے کلینکس کی طرح چلائیں ان کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں ڈاکٹر کم اور درجہ چہارم کے ملازم زیادہ شامل ہیں حکومت کے اس بار احتجاج کرنے والوں کے بارے میں تیور کوئی اچھے دکھائی نہیں دے رہے اگر معاملات بات چیت کے ذریعے حل نہ ہوئے تو حکومت نے سختی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اس موقع پر بریفنگ میں بنیادی صحت مراکز کے نئے مریم نواز ہیلتھ کلینک کی خوبصورت عمارت اور سہولتوں بارے سلائیڈز بھی دکھائی گئیں پنجاب حکومت نےکمیونٹی ہیلتھ سروسز متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں  20 ہزار ہیلتھ انسپکٹرز کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں ۔ اس کے علاوہ لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کو بھی مریم نواز کمیونٹی ہیلتھ سروسز سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا  ہے جس کے تحت 39 ہزار سے زائد لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مریم نواز کمیونٹی ہیلتھ سروسز فورس کا حصہ بنایا جا رہا ہے ۔

کمیونٹی ہیلتھ سروسز کی ورک فورس تقریباً 60 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل ہونے کا اندازہ ہے ۔ اس پروگرام کے ذریعے پولیو سمیت دیگر ویکسی نیشن کا عمل بھی مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ کمیونٹی ہیلتھ سروسز کے ذریعے مریضوں کا مستند ریکارڈ مرتب کیا جائے گا صحافیوں کو بتایا گیا کہ اس وقت تک پنجاب کے 36 اضلاع کے 47 فیصد علاقوں میں لیڈیز ہیلتھ ورکرز موجود ہیں جب کہ اگست 2025 تک 100 فیصد علاقوں میں لیڈیز ہیلتھ ورکرز کو مریم نواز کمیونٹی ہیلتھ سروسز فورس کے ساتھ جوڑنے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ ایک لیڈی ہیلتھ ورکر 1500 لوگوں کو کور کرے گی صحت کے ارباب اختیار کے مطابق اس سارے نظام کا مقصد بنیادی مراکز صحت میں لوگوں کو صحت عامہ کی زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کر کے سرکاری ہسپتالوں پر دباؤ کو کم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے  برسوں پرانے مراکز صحت کی حالت بدل کر انہیں عالمی معیار کے مطابق لایا جائے گا اب بخار کے مریض کو میو ہسپتال جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اس کے گھر کے قریب مرکز صحت میں اس کا علاج ہو گا ان مراکز کے ریفر کردہ مریضوں کو بڑے ہسپتالوں میں بھیجا جائے گا ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے مریضوں کی میڈیکل ہسٹری بھی مرتب کی جائے گی جس سے ان کے علاج میں آسانی ہو گی۔