110

بلوچستان میں دہشتگردی

بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے وسیع وعریض زمینیں، معدنیات سے مالا مال، طویل سمندری پٹی،جغرافیائی محل وقوع، مستقبل کا تجارتی دروازہ اور ان گنت وسائل سے بھرپور پہاڑ بلوچستان کو اگر سونے کی چڑیا کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا لیکن یہ پاکستان کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہم بلوچستان میں موجود وسائل کو بروئے کار نہ لا سکے کچھ بین الاقوامی سازشیں کارفرما رہیں کچھ ہماری سستی کوتاہی اور غلط فیصلوں نے بلوچستان کی گھمبیرتا میں اضافہ کیا پاکستان کے دشمنوں کی نظریں ہمیشہ بلوچستان کی چھپی دولت پر رہیں پاکستان کے دشمنوں نے ہمیشہ بلوچستان میں امن وامان کی خرابی پر سرمایہ کاری کی لیکن پاکستان نے بھی لوگوں کی محرومیوں کا مداوا نہ کیا بلوچستان کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے ڈنگ ٹپاو پالیسیوں سے کام چلایا جاتا رہا ہر کسی نے اپنی مرضی ومنشا کے مطابق تجربات کیے طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی اپنے من پسند سیاستدانوں کو نوازا جاتا رہا عوام کے حقیقی نمائندوں کو لاتعلق رکھا کبھی ایک سردار کو خوش کرنے کے لیے دوسرے کے خلاف کارروائی کی گئی تو کبھی دوسرے کو خوش کرنے کے لیے تیسرے کے خلاف کارروائی کی جاتی رہی بلوچستان میں خاطر خواہ ترقی نہ ہو سکی نہ عوام کی حالت بدلی نہ انتظامی ڈھانچہ موثر بنایا جا سکا ہم قبائلی سرداروں کو روٹھنے اور منانے میں لگے رہے جبکہ دشمن اپنے گہرے روٹس بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ 

آج دشمن نے وہاں ایک جنگ مسلط کر رکھی ہے چونکہ بلوچستان کا وسیع وعریض رقبہ ہے ہر جگہ کی نگرانی ممکن نہیں اوپر سے پہاڑوں میں غاریں ہیں دہشتگرد پہاڑوں سے نکلتے ہیں کارروائیاں کرکے دوبارہ پہاڑوں میں چھپ جاتے ہیں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر دہشتگرد پھیلا رکھے ہیں بھارت کے ذمہ دار افراد اس کا برملا اظہار کر چکے ہیں وہ بلوچستان کو علیحدہ کرنے کی دھمکیاں بھی دیتا رہتا ہے  بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں دہشتگردانہ کارروائیوں پر سرمایہ بھی لگا رہا ہے اور اب تو اسرائیل  بھارت اور افغانستان کا گھٹ جوڑ دہشتگردوں کو دنیا کا جدید ترین اسلحہ انٹیلیجنس نیٹ ورک مواصلاتی روابط سمیت ہر طرح کی سہولیات فراہم کر رہا ہے دہشتگردوں کے پاس امریکہ کا افغانستان میں چھوڑا ہوا جدید ترین اسلحہ موجود ہے جو انھیں ہر قسم کی کارروائیوں میں مدد دیتا ہے 

ہفتہ کے روز بلوچستان کے متعدد اضلاع میں دہشتگردوں کی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کسی بڑی جنگ سے کم نہ تھی اس حوالے سے تمام تر خبروں سے قارئین آگاہ ہیں یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں تشویشناک امر یہ ہے کہ کوئٹہ جیسے صوبائی دارالحکومت کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ان کارروائیوں کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی ہے بی ایل اے کی سفاکیت کا اندازہ یہاں سے سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے عورتوں اور معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا پاکستانی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں پر قابو پا لیا کوئی 145 کے قریب دہشتگردوں کو واصل جہنم بھی کیا لیکن سوال اٹھتا ہے کہ دہشتگردوں کی اتنی بڑی کارروائی کا ہمیں قبل از وقت علم کیوں نہ ہو سکا اتنے شہروں میں ایک ہی روز میں ہونے والی کارروائیوں کی آخر کہیں تو منصوبہ بندی ہوئی ہو گی لیکن حیرانی تو یہ ہے کہ وہ بیک وقت اتنی جگہوں پر حملہ آور کیسے ہو گئے ہمیں دہشتگردوں سے نمٹنے کے لیے ازسرنو حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے بہت بڑے پیمانے پر جنگی بنیادوں پر بہت بڑے آپریشن ناگزیر ہو چکے، دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو توڑنا بہت ضروری ہے لیکن بلوچستان میں مقامی آبادی کو اعتماد میں لیے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہمیں ہر حال میں سرداروں کو اعتماد میں لینا ہو گا ناراض لوگوں کو منانا ہو گا ان کی جائز شکایات دور کرنا ہوں گی اور ان کے مقام اور مرتبہ کے مطابق ان کی عزت وتوقیر بحال کرکے انھیں قومی دھارے میں شامل کرنا ہو گا دہشتگردوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ فضائی کارروائیاں زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہیں بلوچستان کے عوام کی محرومیاں ختم کر کے انھیں باعزت روزگار فراہم کرنا ہو گا مقامی انتظامی ڈھانچے کو موثر بنانا ہو گا اور پبلک کو دہشتگردوں کے مقابلہ کے لیے تیار کرنا ہو گا انتظامیہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی اور آلات سے لیس کرنا ہو گا 

پاکستان کو بھارت اور افغانستان کی پاکستان میں مداخلت اور دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنے پر بین الاقوامی اداروں کو باور کروانا ہو گا کہ کس طرح یہ دونوں ملک مداخلت کررہے ہیں بھارت اور افغانستان کو دہشتگرد ملک قرار دلوانے کے لیے عالمی رائے عامہ کو ہموار کیا جائے سفارتی سطح پر آواز اٹھائی جائے لیکن یہ بات واضح ہے کہ ہمیں اپنی جنگ خود لڑنا ہے اس لیے ہمیں اس کی بھرپور تیاری کر کے دشمن کے منصوبوں کو خاک میں ملانا ہو گا بعض لوگ دہشتگردی کی ٹائمنگ بارے سوال اٹھاتے ہیں دراصل اس وقت پاکستان بین الاقوامی سطح پر قابل قبول ریاست بن کر ابھر رہا ہے بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کی معدنیات میں دلچسپی رکھتے ہیں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کا ماحول بن رہا ہے جو کہ بھارت اور اس کی پراکسی کو ہضم نہیں ہو رہا اس لیے وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش کر رہے ہیں جنھیں بطور قوم ہم نے ناکام بنانا ہے۔