240

دنیا کی پہلی نرس رفیدہ تھیں جنہیں نبی صلی اللہ وسلم اگلی صفوں میں لڑنے والے سپاہیوں کے برابر مال غنیمت دیتے تھے

ساتویں صدی عیسوی کا زمانہ وہ دور تھا جب دنیا میں باقاعدہ طبی نظام، منظم ہسپتالوں اور نرسنگ کے پیشے کا تصور بھی واضح طور پر موجود نہیں تھا۔ ایسے وقت میں اسلام کے ابتدائی دور میں ایک خاتون نے نہ صرف زخمیوں اور مریضوں کی خدمت کا منظم نظام قائم کیا بلکہ نرسنگ کے اصول، اخلاقیات اور تربیت کا ایسا عملی نمونہ پیش کیا جسے بعد کی صدیوں میں باقاعدہ طبی نظام کی بنیادوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ عظیم خاتون Rufaidah al-Aslamia تھیں، جنہیں اسلامی تاریخ میں دنیا کی اولین مسلم نرس، طبی منتظم اور سماجی خدمت گزار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش تقریباً 620 عیسوی کے آس پاس Medina (اس وقت کا نام Yathrib) میں قبیلہ بنی اسلم میں ہوئی۔ ان کے والد Saad al-Aslami ایک معروف طبیب تھے جن کی نگرانی میں انہوں نے طب، جراحی اور مریضوں کی دیکھ بھال کے بنیادی اصول سیکھے اور عملی تجربہ حاصل کیا۔ یہی تجربہ بعد میں انہیں ایک غیر معمولی طبی خدمت گزار کے طور پر سامنے لایا۔ 

اسلام کے ابتدائی دور میں جب مسلمان معاشرہ تشکیل پا رہا تھا تو انسانی خدمت کے مختلف میدان بھی وجود میں آ رہے تھے۔ اسی دوران Rufaidah al-Aslamia نے بیماروں، زخمیوں اور محتاج لوگوں کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ انہوں نے Al-Masjid an-Nabawi کے قریب ایک طبی خیمہ قائم کیا جہاں مریضوں کا علاج، زخموں کی صفائی، مرہم پٹی اور بیماروں کی دیکھ بھال کی جاتی تھی۔ اس خیمہ ہسپتال کو بعد میں تاریخ میں اسلام کے ابتدائی ’’بیمارستان‘‘ یا فیلڈ ہسپتال کی شکل میں یاد کیا گیا۔ اس خیمے میں پٹیاں، جڑی بوٹیاں، دوائیں اور ضروری طبی سامان رکھا جاتا تھا اور مریضوں کو صاف پانی اور سایہ فراہم کیا جاتا تھا تاکہ شدید صحرائی موسم میں بھی ان کی حالت بہتر رہ سکے۔ 

ان کی خدمات صرف ایک جگہ تک محدود نہیں تھیں بلکہ انہوں نے عملی طور پر میدان جنگ میں طبی امداد کا ایسا نظام قائم کیا جسے آج کے دور میں فیلڈ ہسپتال یا موبائل میڈیکل یونٹ کہا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ کی متعدد جنگوں میں انہوں نے زخمیوں کی دیکھ بھال کی جن میں نمایاں طور پر Battle of Badr، Battle of Uhud، Battle of the Trench اور Battle of Khaybar شامل ہیں۔ ان جنگوں کے دوران وہ رضاکار خواتین کی ایک ٹیم کے ساتھ میدان جنگ کے قریب خیمہ ہسپتال قائم کرتیں، زخمی سپاہیوں کو ابتدائی طبی امداد دیتیں، خون روکنے، زخموں کی صفائی اور مرہم پٹی جیسے کام انجام دیتیں اور شدید زخمیوں کو الگ خیموں میں رکھ کر ان کی مسلسل نگرانی کرتی تھیں۔ 

نبی اکرم ﷺ ان کی طبی مہارت اور خدمت کے جذبے سے بہت متاثر تھے۔ تاریخی روایات کے مطابق جب جنگوں میں کوئی صحابی شدید زخمی ہو جاتا تو رسول اللہ ﷺ خود حکم دیتے کہ اسے Rufaidah al-Aslamia کے خیمے میں منتقل کیا جائے تاکہ اس کا بہتر علاج ہو سکے۔ مثال کے طور پر جب Saad ibn Muadh غزوہ خندق میں زخمی ہوئے تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ انہیں رفیدہ کے خیمے میں لے جایا جائے تاکہ ان کی دیکھ بھال کی جا سکے۔ نبی ﷺ خود بھی وہاں جا کر مریضوں کی عیادت کرتے اور ان کی حالت دریافت کرتے تھے۔ 

اسلام نے خواتین کو سماجی خدمت اور پیشہ ورانہ کاموں میں حصہ لینے کی آزادی دی اور اس کی ایک نمایاں مثال یہی ہے کہ رفیدہ الاسلمیہ اور ان کی تربیت یافتہ نرسیں جنگوں میں لشکر کے ساتھ موجود رہتی تھیں۔ انہوں نے نہ صرف زخمیوں کا علاج کیا بلکہ مریضوں کو حوصلہ دیا، انہیں سایہ فراہم کیا اور بعض اوقات مرنے والوں کو آخری لمحات میں انسانی ہمدردی اور سکون بھی فراہم کیا۔ ان کی خدمات سے متاثر ہو کر نبی اکرم ﷺ نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو جنگ کے بعد ملنے والے مالِ غنیمت میں وہی حصہ عطا کیا جو محاذ پر لڑنے والے سپاہیوں کو دیا جاتا تھا۔ یہ اسلامی تاریخ میں طبی خدمات کو دی جانے والی سب سے بڑی سرکاری اور اخلاقی قدر شناسی سمجھی جاتی ہے۔ 

Rufaidah al-Aslamia کی خدمات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں تھیں۔ امن کے زمانے میں بھی انہوں نے سماجی سطح پر صحت کی دیکھ بھال کا منظم نظام قائم کیا۔ وہ مدینہ کی بستیوں میں جا کر بیماروں کا علاج کرتیں، غریبوں اور یتیموں کی مدد کرتیں، معذور افراد کی دیکھ بھال کرتیں اور لوگوں کو صفائی اور صحت کے اصولوں کے بارے میں آگاہ کرتی تھیں۔ وہ اس بات پر زور دیتی تھیں کہ بیماریوں کی روک تھام کے لیے صفائی، صاف پانی اور صحت مند ماحول ضروری ہے۔ اس طرح انہوں نے صحت عامہ اور کمیونٹی میڈیسن کے ابتدائی اصول بھی متعارف کروائے۔ 

ان کی ایک اور عظیم خدمت یہ تھی کہ انہوں نے خواتین کو نرسنگ کی تربیت دینا شروع کی۔ انہوں نے رضاکار خواتین کی ایک ٹیم تیار کی جنہیں مریضوں کی دیکھ بھال، زخموں کی مرہم پٹی، صفائی، خوراک اور مریضوں کی نفسیاتی مدد جیسے امور سکھائے جاتے تھے۔ یہ تربیتی نظام بعد میں ایک باقاعدہ نرسنگ اسکول کی شکل اختیار کر گیا اور اسے اسلامی تاریخ میں نرسنگ تعلیم کا اولین ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے اس تربیتی نظام میں رسول اللہ ﷺ کی بعض ازواج اور صحابیات بھی شامل تھیں۔ 

رفیدہ الاسلمیہ کو نرسنگ اخلاقیات کے ابتدائی اصول مرتب کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انہوں نے مریضوں کے ساتھ ہمدردی، دیانت داری، احترام، رازداری اور ذمہ داری کو نرسنگ کے بنیادی اصول قرار دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک نرس کا کام صرف جسمانی علاج نہیں بلکہ مریض کو امید دینا، اس کا حوصلہ بڑھانا اور اسے عزت و احترام کے ساتھ دیکھ بھال فراہم کرنا بھی ہے۔ یہی اصول بعد میں جدید نرسنگ کے اخلاقی ضابطوں میں شامل ہوئے۔ 

تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ Rufaidah al-Aslamia نے نہ صرف میدان جنگ میں ابتدائی طبی امداد کا منظم نظام قائم کیا بلکہ دنیا کے اولین موبائل میڈیکل یونٹس، چیریٹی ہسپتال، نرسنگ تربیتی پروگرام اور کمیونٹی ہیلتھ سروسز کی بنیاد بھی رکھی۔ ان کی خدمات جدید نرسنگ کی بانی شخصیات سے صدیوں پہلے سامنے آ چکی تھیں، اور اسی وجہ سے اسلامی دنیا میں انہیں نرسنگ کے شعبے کی اولین معمار اور انسانی خدمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ 

8 تبصرے “دنیا کی پہلی نرس رفیدہ تھیں جنہیں نبی صلی اللہ وسلم اگلی صفوں میں لڑنے والے سپاہیوں کے برابر مال غنیمت دیتے تھے

  1. Pingback: meloxicam 7.5 mg
  2. Pingback: linezolid cost uk
  3. Pingback: zoloft sertraline
  4. Pingback: dapoxetine buy uk

تبصرے بند ہیں