216

کوئی اعتدال پسند نہیں، ایرانی میزائلوں کے سامنے بھی اسرائیلی عوام کو جنگ سے محبت

تل ابیب/یروشلم (نیوز ڈیسک) امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں اب تک ایران کی طرف سے اسرائیل پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں۔ تاہم، ان حملوں اور بڑھتے ہوئے جانی نقصان کے باوجود اسرائیلی عوام میں اس جنگ کے لیے حمایت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق 93 فیصد یہودی اسرائیلی ایران پر حملوں کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ 74 فیصد نے متنازع وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی کارکردگی کو سراہا ہے ۔

جنگ کی حمایت اور مخالفین پر تشدد

اسرائیل میں جنگ مخالف سرگرمیاں انجام دینے والے کارکنان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ 19 سالہ فعالیت پسند ایتمار گرین برگ نے بتایا کہ انہیں گلیوں میں تھوکا جا رہا ہے اور انٹرنیٹ پر ان کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے انہیں غیر قانونی طریقے سے جسمانی تلاشی کے ذریعے ذلیل کرنے کی کوشش کی۔ گرین برگ نے مزید انکشاف کیا کہ چھ ماہ قبل غزہ میں نسل کشی کے خلاف احتجاج کرنے پر جیل میں ان کے چہرے پر تارا (اسٹار آف ڈیوڈ) کندہ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی ۔

اسرائیلی سیاسی حلقوں میں بھی جنگ مخالف آوازوں کو دبانے کی کوششیں جاری ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی حذش کے رکن کنیست اور قانون ساز اوفر کسیف نے خبردار کیا کہ وہ میزائلوں سے زیادہ اپنے ملک میں موجود فاشسٹوں کے حملوں سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان پر تہران کی حمایت کرنے کا جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے، حالانکہ وہ ایرانی حکومت کے سخت مخالف ہیں۔

میڈیا پر تنقید کی اجازت نہیں

تل ابیب سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار اورئیل گولڈ برگ نے میڈیا کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک ایسا معاشرہ بن گیا ہے جس میں اعتدال کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ انہوں نے مثال دی کہ ایک ٹی وی پروگرام میں جنگ مخالف خاتون کارکن کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جیسا کہ کسی پاگل یا جاہل انسان سے کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل میں ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے کہ اگر کوئی جنگ کی مخالفت کرے تو وہ یہود مخالف ہے اور پورا معاشرہ جل کر راکھ ہو جائے ۔

ایرانی حملوں کی حقیقت

خیال رہے کہ ایرانی میزائلوں نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور دیگر شہروں کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم نیتن یاہو کے دفتر نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ ایرانی میزائلوں نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا یا ان کی صحت متاثر ہوئی۔ میڈیا پر اس حوالے سے سخت پابندیاں عائد ہیں جس کی وجہ سے نقصان کی اصل تصویر سامنے نہیں آ سکی۔

ماضی کی بازگشت

قانون ساز اوفر کسیف نے تاریخ کے حوالے سے خبردار کیا کہ جس طرح امریکہ اور اسرائیل نے سابق ایرانی بادشاہ رضا شاہ پہلوی کی حمایت کی تھی، اسی طرح اب وہ ایرانی عوام کی آزادی کے نام پر جنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ جنگ ایرانی عوام کے مفاد میں نہیں بلکہ اسرائیلی قیادت کے اپنے سیاسی عزائم کے تحت لڑی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں جنگ مخالف آوازوں پر قدغن اور عوامی حمایت میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ جنگ مزید طویل ہو سکتی ہے۔