واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی منظوری کے بغیر منتخب ہونے والا کوئی بھی رہبر “زیادہ دیر نہیں ٹکے گا”۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ مجلس خبرگان نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے سید مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ ادھر، 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر سات ہو گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی قیادت سے متعلق اپنے موقف کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں نیا سپریم لیڈر بننے والے شخص کو “ہم سے منظوری لینا ہوگی”۔ ٹرمپ نے خبردار کیا، “اگر اسے ہم سے منظوری نہیں ملی تو وہ زیادہ دیر نہیں ٹکے گا۔”
صدر ٹرمپ نے مستقبل میں کسی ممکنہ فوجی کارروائی کا بھی اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ آنے والی انتظامیاؤں کو “پانچ سال میں دوبارہ واپس آنا پڑے اور وہی کام دوبارہ کرنا پڑے، یا اس سے بھی برا، ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہونے دیں۔” واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی کو “ناقابل قبول” قرار دیا تھا اور انہیں “کم وزن” شخصیت قرار دیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ایران کے اس انتخاب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “میں خوش نہیں ہوں۔”
ایران کی جانب سے فوری طور پر ان دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے داخلی معاملات میں کسی قسم کی خارجی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔ اتوار کو ہی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا، “ہم کسی کو بھی اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ ایرانی عوام کا کام ہے کہ وہ اپنا نیا لیڈر منتخب کریں۔”
ساتویں امریکی فوجی کی ہلاکت
پینٹاگان اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اتوار کے روز تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ جاری تنازعے میں ایک اور امریکی فوجی ہلاک ہو گیا ہے، جس سے ہلاک ہونے والے امریکی اہلکاروں کی کل تعداد سات ہو گئی ہے۔ سینٹکام کے مطابق، یہ فوجی “یکم مارچ کو سعودی عرب میں امریکی فوجیوں پر حملے کے موقع پر شدید زخمی ہوا تھا” اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہفتہ کو چل بسا۔ فوجی کی شنیت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب کیے گئے حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد سینئر کمانڈر ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات کو متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا، جس میں بحرین میں ایک ڈیلینیسیشن پلانٹ اور کویت میں ایندھن کے ذخیرے کو نقصان پہنچا۔
نئے رہبر کا انتخاب اور علاقائی صورتحال
ایران کی مجلس خبرگان نے اتوار کی شب ایک ہنگامی اجلاس میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے 56 سالہ بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا تیسرا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے فوراً بعد اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے نئے رہبر سے بیعت کر لی۔
اس انتخاب سے قبل اسرائیل نے دھمکی دی تھی کہ ایران کا نیا سپریم لیڈر “خاتمے کا ہدف” بنے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ “ایرانی دہشت گردی کی حکومت کی طرف سے منتخب کردہ کوئی بھی لیڈر، قطع نظر اس کے نام یا اس کے چھپنے کی جگہ کے، قتل کا یقینی ہدف ہوگا۔”
ادھر، خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، امریکی-اسرائیلی حملوں میں ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1،332 ہو گئی ہے۔ عمان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت خلیجی ممالک پر بھی ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے حملے جاری ہیں۔ عرب لیگ نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔
توانائی کی منڈیوں پر اس تنازعے کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ تاہم، امریکی انتظامیہ نے عوام کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ عارضی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ انتظامیہ “قلیل مدتی خلل” سے نمٹ رہی ہے۔