273

وقت کا مرہم

ہمارے وزیر خارجہ نے حال ہی میں بنگلہ دیش کا دورہ کیا ہے اور وہاں کی تمام اعلی قیادت سے ان کی ملاقاتیں ہوئی ہیں ان ملاقاتوں سے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے دو بچھڑے بھائی مدتوں بعد ملے ہوں جیسے دو بھائی ناراض ہو کر بٹوارہ کرنے کے بعد اکھٹے ہوئے ہوں 1971 میں جب پاکستان دولخت ہوا تو پوری قوم بہت مایوس تھی بنگلہ دیش کا قیام دشمن کی مکروہ سازش تھی یہ بڑا گہرا گھاو تھا جس کا درد آج تک محسوس ہو رہا ہے چونکہ بنگلہ دیش کی آذادی میں بھارت کا بنیادی کردار تھا اس لیے بنگلہ دیش کی زیادہ تر حکومتیں بھارت کے زیر اثر رہیں بھارت نے بنگالیوں کے ذہنوں میں پاکستان کے خلاف نفرت کا بیج بو کر ہمیشہ کے لیے پاکستان کو ایک دشمن ریاست کے طور پر پیش کیا اور پھر ایک ریاستی پالیسی کے طور پر پاکستان کو ایک دشمن ملک سمجھ کر پاکستان کے خلاف نفرت کی بنیاد پر سیاست رچائی گئی 1971 کی جنگ کے حوالے سے افواج پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے فرضی قصے کہانیاں بنا کر پاکستان سے معافی کا مطالبہ کیا جاتا رہا بھارت بنگلہ دیش کو ہمیشہ پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہا ہماری خلوص نیت سے کی گئی پیشکشوں کو ٹھکرایا جاتا رہا اور بنگلہ دیش بڑی دیر تک بھارت کی طفیلی ریاست بنا رہا پاکستان سے ہمدردی رکھنے والے محب وطن بنگالیوں کو پھانسی کی سزائیں دی گئیں پھر وقت نے پلٹا کھایا بنگلہ دیش کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو جب اس بات کی سمجھ آئی کہ ان کے بڑوں کو کس طرح بھارت نے استعمال کرکے پاکستان کے خلاف سازش کی ہے تو ان میں تبدیلی کی خواہش جنم لینے لگی اور بالآخر سٹوڈنٹس وہاں انقلاب لے آئے اب بنگلہ قوم انڈیا کے خلاف نفرت کی انتہاوں کو چھو رہی ہے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کا اعادہ کیا جا رہا ہے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت شروع ہو چکی ہے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے متعدد پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں پاکستان طلبہ کو سکالر شپ دے رہا ہے سرکاری سطح پر ویزہ فری کر دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ عوامی سطح پر بھی ویزوں میں آسانی پیدا کی جا رہی ہے بھارت کا بنگلہ دیش میں عمل دخل بہت کم ہو گیا ہے اور بنگالی بھارت کی نفسیاتی بالادستی سے آذاد ہو چکے ہیں پرویز مشرف کے دور میں ہمیں دہلی میں ہونے والی سارک کانفرنس میں اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کے ہمراہ جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ہماری ملاقات بنگالی صحافیوں سے ہوئی ہمیں اس وقت اندازہ ہوا کہ بنگلہ قوم میں بڑی بیزاری پائی جاتی ہے اور وہ اپنی حکومتوں سے انڈیا کی بالادستی کے معاملہ میں ناراض ہیں بنگالی صحافیوں نے کھل کر عوامی جذبات کا اظہار کیا اسی طرح حج کے دوران بھی ہماری بنگالی بھائیوں سے گپ شپ رہی مدینہ منورہ میں ہم جس ہوٹل میں ٹھرے ہوئے تھے وہاں کچھ بنگالی بیوروکریٹ بھی قیام پذیر تھے ان سے بھی گپ شپ میں ہمیں احساس ہوا کہ وہ لوگ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن وہاں کی بعض سیاسی قیادتوں، بھارت نواز اسٹیبلشمنٹ اور انتظامی لابی کے خوف نے اس سوچ کو دبا رکھا ہے۔

بنگلہ دیش کی حقیقت کو پاکستان نے بہت جلد دل سے تسلیم کر لیا تھا اور پھر وقت نے دونوں کو اکھٹا کر دیا لیکن بدقسمتی سے بھارت پاکستان کی حقیقت کو آج تک تسلیم نہیں کر رہا اور آج بھی اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھ رہا ہے بھارت کی مکروہ پالیسیوں نے خطے کو جہنم بنا رکھا ہے دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے لیکن بھارت کی وجہ سے پورے خطے کے ممالک آج بھی ترقی کے ثمرات سے بہت دور ہیں حتی کہ سکھوں کو بھی سمجھ آ چکی ہے کہ 1947 میں بھارت نے انھیں استعمال کر کے خون خرابہ کروایا اور وہ اپنے اس کردار پر نادم دکھائی دیتے ہیں لیکن بھارت کے دل میں کینہ بھرا ہوا ہے وہ نہ صرف پاکستان کو تسلیم نہیں کر پا رہا بلکہ اسے ختم کرکے پورے خطے پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے قیام پاکستان کے وقت لگنے والے زخم اور بنگلہ دیش کی علیحدگی کا دکھ دوتین نسلوں کے بعد مندمل ہو چکا ہے صرف نشان اور یادیں رہ گئی ہیں پاکستان حال کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھنا چاہتا ہے امن کا خواہاں ہے سب کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے لیکن بھارت آج بھی دشمنی کی آگ میں جل رہا ہے آج خطے کے سارے ممالک پاکستان کی دوستی کی پالیسی کے ساتھ کھڑے ہیں تمام ممالک بھارت کی بالادستی کی سوچ سے تنگ آکر اس کے خلاف ہیں آج بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، نیپال، چین، ایران، افغانستان سب بھارت کو چھوڑ چکے ہیں بھارت خطے میں تنہا ہو چکا ہے لیکن ضد پر کھڑا ہے پاکستان نے معرکہ بنیان المرصوص میں بھارت کے تکبر اور اس کی سپرمیسی کی سوچ کو خاک میں ملا دیا ہے اگر بھارت نے اپنی متکبرانہ اور انتہا پسند پالیساں تبدیل نہ کیں تو بھارت زیادہ عرصہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائے گا دنیا بدل رہی ہے لیکن بھارت اپنی دقیا نوسی سوچ کے ساتھ کھلواڑ سے باز نہیں آ رہا۔