213

ہم ٹنوں کے حساب سے پیسہ بنانے جارہے ہیں، ایران امریکہ اسرائیل جنگ پر یو ایس سینیٹر لنڈسے گراہم کا انٹرویو

واشنگٹن: امریکی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے متنازع بیانات نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ گراہم نے کھل کر کہا ہے کہ ایران پر حملے کا مقصد وہاں کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے، جس سے امریکہ کو “ٹنوں پیسہ” کمانے کا موقع ملے گا۔

سینیٹر گراہم، جو عراق، شام اور لیبیا سمیت مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی مداخلتوں کے پرزور حامی رہے ہیں، نے حال ہی میں فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور وینزویلا کے پاس دنیا کے 31 فیصد تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا، “جب ایران کی موجودہ حکومت گرے گی تو ہم مشرق وسطیٰ میں ایک نیا دور دیکھیں گے اور ہم ٹنوں پیسہ کمائیں گے۔ یہ چین کے لیے خوابِ خرگاہ ہوگا۔”

ان کے بقول، وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت کے خلاف کارروائی اور ایران پر حملہ درحقیقت ان ممالک کے تیل پر قبضے کی غرض سے کیا گیا ہے۔ گراہم نے اس بات پر زور دیا کہ آنے والے دنوں میں ایران پر مزید حملے کیے جائیں گے اور امریکہ “آبنائے ہرمز” میں کسی کو بھی چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

ایران کا سخت ردعمل

امریکی سینیٹر کے ان بیانات پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ کا واضح منصوبہ ایران کو تقسیم کرکے اس کے تیل کے خزانوں پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا مقصد ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور اسے کمزور کرنا ہے۔

اسرائیل کے ساتھ روابط اور ٹرمپ کا کردار

رپورٹس کے مطابق، سینیٹر گراہم نے غزہ جنگ شروع ہونے سے پہلے اسرائیل کے متعدد دورے کیے اور وہاں موساد کے ارکان سے ملاقاتیں کیں۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق، انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو مشورہ دیا کہ وہ صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف کارروائی پرکس طرح آمادہ کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہی نیتن یاہو نے وہ انٹیلی جنس ٹرمپ کو دکھائی جس کی بنیاد پر ایران کے خلاف مشترکہ حملے کیے گئے۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ 2018 میں ایران جوہری معاہدے سے علیحدہ ہو گئے تھے، جس پر اسرائیل نے شدید زور دیا تھا۔ گراہم اس معاہدے کے سخت مخالف رہے ہیں۔

امریکی حملوں کے اثرات

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس سے تیل اور گیس کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت متعدد خلیجی ممالک کی فضا بند کر دی گئی ہے۔

کیوبا پر بھی نظر

لنڈسے گراہم نے انٹرویو کے دوران کیوبا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ “اب کیوبا کی آزادی کا وقت آ گیا ہے، ہم دنیا سے برے لوگوں کو ختم کر رہے ہیں اور کیوبا اگلا ہدف ہے۔” صدر ٹرمپ اور سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، جو کیوبا کے مہاجرین کے بیٹے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا میں حکومتی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

پس منظر

لنڈسے گراہم کا شمار امریکی سینیٹ کے انتہائی جنگجو ارکان میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 2003 میں عراق پر حملے، شام اور لیبیا میں امریکی مداخلت کی بھرپور حمایت کی تھی، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران پر موجودہ حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور ان کا کوئی قانونی جواز نہیں۔