203

ٹرمپ کا ایرانی مہم جوئی کا ‘اینڈ گیم’ کیا؟ امریکی صدر کے بیانیے میں تضادات

تہران/واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کو دس دن مکمل ہو گئے ہیں۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مہم کے مقاصد سے متعلق مختلف اور متضاد بیانات دیے ہیں جس سے واشنگٹن کے اصل ‘اینڈ گیم’ (حتمی مقصد) پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ابھی تک واضح طور پر یہ طے نہیں کیا ہے کہ وہ اس وسیع فوجی آپریشن کا خاتمہ کس طرح دیکھنا چاہتی ہے۔

عبوری قیادت کا انتخاب اور نیا چیلنج

جنگ کے دوران ہی ایران میں نئے سپریم لیڈر کا تقرر عمل میں آیا ہے۔ 28 فروری کو ہونے والے ایک اسرائیلی حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اتوار کو آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ۔ اس انتخاب کو امریکی عزائم کی ناکامی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ قطری یونیورسٹی کے سنٹر فار گلف سٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محجوب زویری نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اس جنگ کو 7 اکتوبر 2023 کے بعد مشرق وسطیٰ کی نئی تشکیل کے منصوبے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کا نیا لیڈر ان کی مرضی سے منتخب ہو ۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب واشنگٹن کے عزائم کے خلاف ایک براہ راست رد ہے۔ اس حوالے سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس طویل جنگ لڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔ پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے مصطفیٰ حیدر سید کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی یہ حکمت عملی غلط ثابت ہوئی ہے کیونکہ وہ ایران کی لچک کو سمجھنے میں ناکام رہے۔

متضاد بیانیے اور جنگی اہداف

صدر ٹرمپ نے پہلے ایرانی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے عوام کو آزادی دلانے میں مصروف ہیں ۔ چند روز بعد انہوں نے چار جنگی اہداف بیان کیے جن میں ایران کی بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنا، بحریہ کو ختم کرنا، جوہری ہتھیاروں کی تیاری روکنا اور پراکسی گروپس کی حمایت بند کرنا شامل ہے ۔

پینٹاگون میں دفاعی سیکرٹری پیٹ ہیگستھ نے واضح کیا کہ یہ کوئی “ریگیم چینج” والی جنگ نہیں ہے۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے ایران سے “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد ایران کے لیے “عظیم اور قابل قبول لیڈر” منتخب کیا جانا چاہیے ۔

نقصانات اور ممکنہ پیش رفت

اب تک ہونے والے حملوں میں 1200 سے زائد ایرانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک اسکول پر بمباری میں 160 سے زائد بچے شامل ہیں ۔ امریکہ کے 7 فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی زمینی حملے کی صورت میں سخت ردعمل کی وارننگ دی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ ایک عملیت پسند ہیں اور وہ کوئی ایسا معاہدہ کرنا چاہیں گے جسے وہ فتح قرار دے سکیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈپلومیسی کے تجزیہ کار کامران بخاری کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی سیاسی ضروریات اور عراق و افغانستان کی ناکامیوں کے تناظر میں زمینی حملہ ان کے لیے انتہائی مشکل ہے۔ کنگز کالج لندں کے ماہر آندرے کرِیگ کے مطابق امریکہ کے لیے سب سے قابل عمل آپشن زبردستی طے پانے والا معاہدہ ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں اور عالمی مالیاتی فنڈ نے شدید مہنگائی کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ قربانیاں امریکہ کے مفاد میں ہیں اور وہ جلد ہی جنگ ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔