مولوی قرآن کو عالم کے بغیر پڑھنے سے کیوں منع کرتا ہے؟

مولوی کیوں کہتا ہے کہ قرآن کو کسی عالم کے بغیر نہ پڑھو ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے۔ کیونکہ۔۔۔

قرآن کہتا ہے اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔

سورۂ النمل آیت 65

سورۂ الانعام آیت 59

قرآن کہتا ہے غیراللہ کی نظر نیاز حرام ہے۔

سورۂ البقرہ آیت 173
 
سورۂ المائدہ آیت 3

قرآن کہتا ہے قبر میں دفن شدہ لوگ مردہ ہیں۔ نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔

سورۂ النحل آیت 21-20

 

قرآن کہتا ہے فرقہ بنانا مشرکوں کا کام ہے۔

سورۂ الروم آیت 32-31

قرآن کہتا ہے دین کے کاموں پر اجرت لینا حرام ہے۔

سورۂ البقرہ آیت 41

سورۂ البقرہ آیت 174

قرآن کہتا ہے اللہ کے علاوہ کوئی داتا نہیں۔

سورۂ آل عمران آیت 8

 

قرآن کہتا ہے اللہ کے علاوہ کوئی گنج بخش نہیں۔

سورۂ المنافقون آیت 7

قرآن کہتا ہے اللہ کے علاوہ کوئی مشکل کشا نہیں۔

سورۂ الانعام آیت 17

قرآن کہتا ہے اللہ کے علاوہ کوئی غوث الاعظم نہیں۔

سورۂ النمل آیت 62

قرآن کہتا ہے اللہ کے علاوہ کوئی جھولیاں بھرنے والا نہیں۔

سورۂ الشورہ آیت 50-49

قرآن کہتا ہے اللہ کے علاوہ کوئی تمہاری دعاؤں کو قبول کرنے والا نہیں۔

سورۂ المؤمن آیت 60

قرآن کہتا ہے اللہ براۂ راست بغیر کسی وسیلے کے دعاؤں کو سنتا ہے۔

سورۂ البقرہ آیت 186

قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کر دیا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے۔

سورۂ القمر آیت 17

 

اللہ کے بندو اللہ تعالی نے قرآن نازل ہی اس لئے کیا ہے کہ اسکو سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ قرآن اردو میں پڑھیں اور سمجھیں۔ ہدایت ایسے ہی آئے گی ورنہ خالی عربی میں پڑھنے اور چومنے سے ہدایت کبھی نہیں آئے گی۔
اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

مولوی قرآن کو عالم کے بغیر پڑھنے سے کیوں منع کرتا ہے؟” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں