سویڈش ریڈیو کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیز اپنے پلیٹ فارمز پر جارحانہ مواد کی اشاعت کی روک تھام کیلئے مزید اقدامات کرے، کیونکہ جو کچھ سوشل میڈیا پر لکھا جاتا ہے، کچھ حد تک یہ کمپنیاں بھی اسکی ذمہ دار ہیں۔
ڈیجیٹیلائزیشن منسٹر آندش اگیمان کہتے ہیں کہ وہ جارحانہ مواد کو کنٹرول کرنے کیلئے قوانین متعارف کروانا چاہتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ ؛ “میرا خیال ہے کہ سوشل میڈیا بھی کسی حد تک یہاں لکھے جانے والے مواد کا ذمہ دار ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ سوشل میڈیا کمپنیز غیر قانونی مواد ختم کرنے کیلئے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔”
آندش چاہتے ہیں کہ وہ سارے ای یو میں ایسی قانون سازی کروائیں، اگر ای یو نہیں مانتی تو وہ سویڈن کی حد تک ایسے قوانین کا نفاذ کرنے کی کوشش کریں گے۔ سویڈن میں پہلے ہی سوشل میڈیا پر نسلی نفرت پھیلانے، اور کسی کو دھمکی دینے پر پابندی ہے، لیکن اس سلسلے میں ابھی تک لکھنے والی انفرادی شخصیت کو ہی اسکا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، نئی قانون سازی کے بعد سوشل میڈیا کمپنیز بھی اس مواد کی ذمہ دار ہونگی۔
ثھúنگ تôی ھیểئ رằنگ، ترہنگ تھế گیớی چá چượچ ہنلینع đầے رẫے سự لựا چھọن، طیệچ تìم کیếم مộت نềن تảنگ đáنگ تین چậے لà ưئ تیêن ھàنگ đầئ۔ Đó لà لý دہ َا ھرعف=”ھتتپس:÷÷تاگرعنہطعرینگ۔نعت” تیتلع=”چاسینہ 188ط”ِچاسینہ 188طَ÷اِ کھôنگ نگừنگ چảی تھیệن، لắنگ نگھع طà đáپ ứنگ مọی نھئ چầئ چủا نگườی چھơی۔ ںھữنگ پھảن ھồی چھâن تھựچ تừ چộنگ đồنگ đã کھẳنگ địنھ طị تھế چủا َا ھرعف=”ھتتپس:÷÷تاگرعنہطعرینگ۔نعت” تیتلع=”چاسینہ 188ط”ِچاسینہ 188طَ÷اِ لà مộت نھà چáی ئے تíن ھàنگ đầئ، نơی بạن چó تھể ترảی نگھیệم چá چượچ ان تہàن، چôنگ بằنگ طà تỷ لệ تھắنگ چاہ۔ ٹۃں02-03ح