284

بس ! بہت ہو گیا بلی چوہے کا کھیل۔

صحافی اور دانشور حضرات ہمارے اَن داتاؤں پر چلنے والے کرپشن اور پانامہ کیسز پر تنقید کے ضمن میں اپنی اپنی ماہرانہ آرا ء اور موشگافیاں ہر فورم پر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ پانامہ ایک مفت کا پاجامہ ہے جو بے وقت کی راگنی کے سوا کچھ نہیں۔ وہ اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ چونکہ پہلے بھی بہت سی کمیشن اور جے آئی ٹی بنتی رہیں جن کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا، لہذا اب بھی کھودا پہاڑ نکلا چوہا والا سین ہی ہو گا اور مجرم یا ملزم صاف بچ نکلے گا۔ بعض کا کہنا ہے کہ ماضی کی روایات کو دہراتے ہوئے ایک بار پھرعدلیہ اور فوج مل کر بلی چوہے کا کھیل، کھیل رہے ہیں اور سول حکومت کے خلاف مہم جوئی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور یہ بھی ماضی کے طرز کی ہی ایک سازش ہے۔ 

لہذا موجودہ سول حکومت کو اتار کر”مقدس گائے” اپنی خفیہ طاقت کا مظاہرہ کرے گی۔ میں کہتا ہوں کہ بھلے ماضی میں ہمارے کچھ جرنیلوں اور ججوں کا کردار مشکوک رہا ہو لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے سیاستدانوں کے اعمال بھی اتنے “اعلی” نوعیت کے نہیں رہے۔ ماضی میں جو کچھ بھی ہوتا رہا اس میں بہت سے سیاست دان خود بھی براہ راست ملوث تھے۔ لہذا سارا ملبہ جرنیلوں یا ججوں پر ڈالنا دانشمندی نہیں۔ آج یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ جب سے سوشل میڈیا آیا ہے، “مقدس گائے” کا منجن بیچنے والوں کا کاروبار بھی اب پرانا پرانا سا لگنے لگا ہے کیونکہ حالیہ چند برسوں سے سیاسی حوالوں سے عسکری قیادت کا کردار بہت متوازن دکھائی دیا ہے اور یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہمارے بیشتر سیاست دان انتہا درجے کے کرپٹ اور چور ہیں۔ آپ اسٹیبلشمنٹ کی ماضی کی غلطیوں کو بہانہ بنا کر ان چوروں کو کلین چٹ نہیں دے سکتے۔ 
احتساب کی گنتی آخر کہیں سے تو شروع ہونی ہے تو پھر پہلے سیاست دان کیوں نہیں؟ طاقتور اور بڑے لٹیروں کو قانون کے شکنجے میں جکڑنے کے لیے تدبیریں تو لڑانی پڑتی ہیں صاحب ! ان تدبیروں کو اگر آپ سازش کا نام دیں تو آپ کی مرضی، حالانکہ اسے سازش نہیں، پلاننگ کہنا چاہیے۔ یاد رکھیں حقیقی جمہوریت کو پنپنے کے لیے ایک لمبا سفر درکار ہوتا ہے جس کے لیے عوام کے اندر شعور اور آگہی کا آنا بہت ضروری ہے جو صرف اور صرف اعلی معیارِ تعلیم سے ہی ممکن ہے جس پر ہمارے سیاست دانوں نے کبھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔ 
یہ بھی یاد رکھیں کہ ہمارے ملک میں الیکشن سے پہلے ہی اپنے اپنے پسندیدہ بیورو کریٹس اور مختلف محکمہ جات کے افسران کو خرید لیا جاتا ہے حالانکہ ہر پارٹی کے منشور میں ایک سرِ فہرست ایجنڈا محکمہ جات کی اصلاحات کے متعلق ہوتا ہے لیکن حکومت چاہے کسی پارٹی کی بھی آ جائے ، محکموں کی کارکردگی پر ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا۔ الٹا یہ محکمہ جات محض حکمرانوں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے بن جاتے ہیں۔ یہ ادارے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کی بجائے معاشرے کا ناسور بن چکے ہیں۔ ان محکموں میں حکومتی کارندوں کی سفارش اور رشوت کے عوض پسندیدہ اور نااہل لوگ بھرتی کیے جاتے ہیں۔ جب تک کوئی ایسی حکومت نہیں آتی جو واقعتاً ملک سے مخلص ہو اور کرپشن کے خلاف حقیقی جہاد کرے تب تک آپ اداروں سے بہتر کارکردگی کی امید نہیں رکھ سکتے۔ 
اداروں کی لغزشیں اور بدعات کا خاتمہ بھی تبھی ممکن ہے جب سیاست دان خود کو بھی ٹھیک کر لیں۔ چناچہ ان تمام خرابیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے لا محالہ عوام کو بد کردار اور ضمیر فروش سیاست دانوں سے چھٹکارا حاصل کر کے ایک حقیقی جمہوری سوچ رکھنے والی حکومت کو ووٹ کی طاقت کے ذریعے ایوانِ اقتدار میں لانا ہو گا۔ دانشوروں اور صحافیوں سے بھی دست بستہ التماس ہے کہ ماضی کے پھپھولے پھوڑنے ، ہر گناہ کو اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈالنے اور عدالتوں پر بے جا تنقید کرنے کی بجائے اداروں کو پولیٹیسائز کرنے کے خلاف آواز اٹھایے ، ہر وقت کا تبرا چھوڑیے اور چوروں کے احتساب کی راہ ہموار کرنے میں مدد کیجئے ۔ کیونکہ بلی چوہے کے اس کھیل کو بند کرنے اور بہتری کی جانب قدم بڑھانے کا یہی ایک طریقہ ہے۔
تعارف : آصف وڑائچ، سچا لکھاری، مکالمہ ڈاٹ کام

اپنا تبصرہ بھیجیں