398

دسمبر

دسمبر ہمیشہ اداس کرتا ہے ،برف گرتی ہے تو احساس کی حدّت بڑھ جاتی ہے اور جذبوں کی تپش نئی منزلوں کی طرف گامزن رکھتی ہے – دسمبر ایک تنہا احساس ،ایک آخری کوشش لیکن ایک مکمل اظہار بھی ہے اپنی محبت کی سچائی کا ،اپنی محبت کی خوشبو کا جو آج بھی رگ ِجاں کو اسی طور معطر کرتی ہے کہ ہجر میں بھی وصال کی لذت چھلکتی ہے – دسمبر واقعی ستم گر ہے یہ اس سال بچھڑ جانے والوں کی یاد کا آخری آنسو بھی ہے اور اُن کی روشنی کا استعارہ بھی کہ محبت کو فنا نہیں اور اُن کی عظمت کا اعتراف بھی کہ ایک مکمل انسان کیسے اپنے ادھورے وجود میں کائنات سمو لیتا ہے۔