66

اتنا شاطر تو نہیں ہوں مگر


پھول نقلی نہ سجا یار نہیں مانتا میں
اِس بیابان کو گلزار نہیں مانتا میں


آپ خود آئے نہیں آپ تو لائے گئے ہیں
آپ کو تخت کا حقدار نہیں مانتا میں


جب سے گزری ہے نظر سے تیری مہلک آنکھیں
تیر و شمشیر کو ہتھیار نہیں مانتا میں


اتنا شاطر تو نہیں ہوں مگر اے میرے حریف
آخری چال تلک ہار نہیں مانتا میں


جن کا گریہ رہے محدو فقط آنکھوں تک
ایسے لوگوں کو آزادار نہیں مانتا میں


اُس کے الفاظ کےہوتے ہیں معنی اور
اُس کے انکار کو انکار نہیں مانتا میں


پھول نقلی نہ سجا یار نہیں مانتا میں
اِس بیابان کو گلزار نہیں مانتا میں

رحمان فارس