216

اسمبلیوں کی تحلیل میں تاخیر

نومبر 26 کو جب عمران خان نے بھرے جلسے میں تمام اسمبلیوں سے باہر آنے کا اعلان کیا تو ایسے لگ رہا تھا کہ اگلے ایک دو روز میں خیبر پختون خواہ اور پنجاب اسمبلی تحلیل ہو جائیں گی لیکن پھر پتہ چلا کہ ابھی مشاورت ہونا باقی ہے لگتا ہے عمران خان نے سیاست کے داو پیج سیکھ لیے ہیں وہ نت نئی ایسی چالیں چلتے ہیں کہ مخالفین کو کھک سمجھ نہیں آنے دیتے پچھلے 8ماہ میں وہ اپوزیشن میں ہونے کے باوجود سب زیادہ زیر بحث رہنے والی شخصیت ہیں صحافت میں خبر کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ ہر وہ بات یا ایکٹ جس پر پازیٹیو یا نیگٹیو بحث ہو وہ کامیاب خبر ہے عمران خان کو بے شک تا حال نئے انتخابات کی تاریخ نہیں مل رہی لیکن وہ تمام مخالفین کے اعصاب پر سوار ہیں پہلے ملک بھر میں اس کے جلسے جلوس قابو میں نہیں آ رہے تھے شروع شروع میں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، اے این پی اور مولانا فضل الرحمن نے چند جلسے کیے لیکن ایک تو وہ بہت جلد ہف گئے دوسرا عوام کی پذیرائی حاصل نہ ہو سکی تو تمام نے اسی میں عافیت سمجھی کہ چپ کرکے تنقید کرو اسی میں عزت ہے مقابلے میں جلسے کیے تو ہم مقابلہ نہیں کر پائیں گے اور بے نقاب ہو جائیں گے پھر عمران خان نے پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات اور قومی اسمبلی کی 9 نشستوں میں سے 8 پر تن تنہا الیکشن لڑ کر مخالفین کی سیٹی گم کر دی مخالفین کے اعصاب پر عمران خان کی پاپولریٹی سوار ہو گئی ہزار جتن کیے عمران خان کی ذات کو ڈمیج کیا جائے لیکن کامیابی نہ مل سکی پھر عمران خان نے اسلام آباد آنے کی کال دے دی وفاقی حکومت اپنی تمام تر فورسز کے ساتھ کئی ماہ تک الرٹ کھڑی رہی پھر عمران خان نے ایک وکھری ٹائپ کا لانگ مارچ شروع کر دیا مخالفین نے سمجھا دو چار دن کی گیم ہے لیکن عمران خان اسے اپنے ٹارگٹ تک لانے میں کامیاب ہو گئے اس کا ایک مقصد وہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور دوسرے مقصد کے حصول کے لیے ایسا ترب کا پتہ پھینکا کہ اب پاکستان کے سارے سیاستدان اسمبلیاں بچانے کی ترکیبیں ڈھونڈ رہے ہیں عمران خان صیح کانگ قسم کے کاریگر سیاستدان کی طرح مخالفین کے اعصاب متاثر کر رہے ہیں بظاہر پی ڈی ایم کے سیاستدان کہہ رہے ہیں کہ آپ پنجاب اور خیبر پختون خواہ اسمبلی تحلیل کر دیں تو ہم دونوں صوبوں میں الیکشن کروا دیں گے لیکن اندر سے جان نکلی ہوئی ہے اور اپوزیشن حکومت بچانے کے لیے ہاتھ پاوں مار رہی ہے پتہ ہے کہ وفاقی حکومت کی جان پنجاب کے طوطے میں ہے اگر پنجاب اسمبلی ٹوٹ جاتی ہے تو مسلم لیگ ن کی سیاست تو دفن ہو جائے گی ان کی تو کل کائنات ہی پنجاب ہے اگر پنجاب میں قبل از وقت انتخابات ہو گئے تو عمران خان بہت بڑے مارجن سے اگلے پانچ سال کے لیے پنجاب قابو کر لیں گے پھر قومی اسمبلی میں پنجاب میں اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہو گا موجودہ حالات میں اگر پنجاب اور خیبر پختون خواہ اسمبلی تحلیل ہوتی ہے تو سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ ن، مولانا فضل الرحمن اور اے این پی کو ہوتا ہے اور سب سے زیادہ فائدہ آصف علی زرداری کو ہو گا یہ سب آوٹ ہو جائیں گی ان کی بارگینگ قوت ختم ہو جائے گی اور آصف زرداری عمران خان کے مقابلے میں بڑی قوت بن جائیں گے اس کا سندھ تا حال محفوظ ہے کراچی میں تحریک انصاف کو پہلے سے زیادہ نشستیں مل جائیں گی لیکن پیپلزپارٹی تو پہلے بھی کراچی میں زیادہ اثرورسوخ نہیں رکھتی اس لیے مستقبل کی سیاست بچانے کے لیے سب سے زیادہ ہاتھ پاوں ن لیگ کے پھولے ہوئے ہیں پاکستان میں موجود قیادت نے تو ہاتھ کھڑے کر دیے اب فیصلہ میاں نواز شریف نے کرنا ہے میاں نواز شریف نے بھی مشاورت شروع کر دی ہے دوسری طرف عمران خان طرب کا پتہ پھینک کر کھیل انجوائے کر رہا ہے اس کو بھی اتنی جلدی نہیں اس نے سب کو وقت دے دیا ہے کہ آپ سوچ سمجھ لیں میرے پاس تو یہ یہ آپشن موجود ہیں جہاں تک وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کو تعلق ہے تو وہ اور ان کے صاحبزادے مونس الہی دو ٹوک الفاظ میں کہہ چکے کہ پنجاب حکومت عمران خان کی امانت ہے جب کہیں گے آدھ منٹ میں اسمبلی توڑ دوں گا لیکن اندر سے ان کی خواہش ہے کہ دو چار ماہ لگ ہی جائیں تو اچھا ہے کیونکہ موجودہ حالات میں تمام حکومتیں کمزور ہو رہی ہیں ان کی حکومت مضبوط ہو رہی ہے وہ اقتدار کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کر رہے انھوں نے ثابت کر دیا ہے کہ کام کیسے ہوتا ہے انھوں نے مختصر عرصہ میں پنجاب کو متحرک کر دیا ہے ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے شروع کیے گئے منصوبوں کی شکل وصورت دکھانے کے قابل بنا دیں ساتھ ہی ارکان اسمبلی بھی ترقیاتی فنڈر خرچ کر پائیں اگر وفاقی حکومت چار پانچ ماہ بعد الیکشن کروانے پر تیار ہو جائے تو چوہدری پرویز الہی عمران خان سے اسمبلیاں تحلیل کروانے کا فیصلہ واپس کروا سکتے ہیں ویسے وہ بیک ڈور رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اللہ کرے کہ ڈیڈ لاک کی پوزیشن میں کوئی راستہ نکل آئے اس کے باوجود اگر انھیں اسمبلی توڑنے کا کہا جائے گا تو وہ توڑ دیں گے کیونکہ ان کی نظریں آنے والے وقت پر ہیں وہ مونس الہی کی سیاست کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں مونس الہی کا مستقبل عمران خان کے ساتھ جوڑا ہوا ہے اور عمران خان بھی مونس الہی کو پسند کرتے ہیں تاحال اسمبلیاں تحلیل ہونے یا نہ ہونے کے چانسز ففٹی ففٹی ہیں