92

نسیم احمد۔کامیاب قانون دان اور شاندار انسان

کامیابی کے حصول اور منزل تک پہنچنے کے لئے مسلسل چلتے رہنا بنیادی شرط ہے۔جو لوگ محنت اور جستجو کو اپنی زندگی کا شعار بنا لیتے ہیں کامیابی بالآخر اُن کے قدم چومتی ہے۔ یونائیٹڈ کنگڈم کے مختلف شہروں کے علاؤہ لندن میں اوورسیز پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جنہوں نے مختلف شعبوں میں ایسے کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں کہ ہماری کمیونٹی اُن کی کارکردگی پر فخر کر سکتی ہے۔ ایسے کامیاب اور قابل فخر لوگوں کے کارناموں اور داستانِ حیات کو میں نے کئی برس پہلے اپنی کتاب ”کامیاب لوگ“ میں یکجا کیا تھا۔ انہی لوگوں میں ایک نام ممتازقانون دان نسیم احمد کا ہے جو امیگریشن اور انسانی حقوق کے قوانین کے ماہر اور معتبر وکیل ہیں اور اُن کی فرم کو امیگریشن کے حوالے سے برطانوی دارالحکومت لندن میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ نسیم احمد سے میرا پہلا تعارف 90ء کی دہائی کے وسط میں ہوا۔میں اُن دِنوں روزنامہ جنگ لندن میں کام کرتا تھا۔ خبر آئی کہ ملک بدری کے منتظر ایک پاکستانی اسائلم سیکر کو جہاز میں سوار کرانے کے لئے ہوائی اڈے پر لے جایا گیا لیکن آخری وقت پر اُس کی ملک بدری روک دی گئی اور ہوم آفس نے انسانی حقوق کی بنیاد پر اُسے ڈی پورٹ کرنے کے احکاما ت منسوخ کر دیئے۔معلوم ہوا کہ اس پاکستانی سیاسی پناہ گزین کے مقدمے کی پیروی نسیم احمد کر رہے تھے جنہوں نے برطانیہ میں انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک قانون کا سہارا لے کر یہ ملک بدری رکوا دی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اور بہت سے سینکڑوں مقدمات ایسے ہیں جن میں نسیم احمد نے نہ صرف تارکین وطن اور بالخصوص پاکستانی تارکین وطن کی ملک بدری رکوائی بلکہ انہیں برطانیہ میں رہائش کے قانونی حقوق دلوانے تک اُن کے کیسز کی پیروی کی۔ کئی بارایسا بھی ہوا کہ میرے کچھ دوست احباب نے برطانوی ہوم آفس کے فیصلوں کے خلاف اپیل کے لئے نسیم احمد سے رابطہ کیا تو اُن میں سے کچھ کے مقدمات کی پیروی سے انہوں نے صاف معذرت کر لی۔ چنانچہ مجھ سے کہا گیا کہ میں نسیم صاحب کو فون کر کے انہیں اِن مقدمات کی پیروی کے لئے قائل کروں۔ میں نے فون کیا تو نسیم صاحب نے مجھے قائل کر لیا۔ کہنے لگے کہ میں امیگریشن کے کسی ایسے مقدمے یا اپیل کی پیروی نہیں کرتا جس میں کوئی ایسی قانونی گنجائش موجود نہ ہو جس کی بنیاد پر میں اس کا دفاع کرنے میں کامیاب ہو سکوں۔مجھے اپنی فیس سے زیادہ مقدمے کی کامیابی اور اپنی ساکھ کا خیال رہتا ہے۔ نسیم احمد کی بات سن کر نہ صرف مجھے خوشی اور اطمینان ہوا بلکہ اُسی دِن سے ہماری دوستی کا بھی آغاز ہو گیا۔

لندن شہر میں سینکڑوں ایشیائی، افریقی اور پاکستانی سولیسٹرز اور قانون دان ایسے ہیں جن کی پہلی ترجیح صرف اور صرف اپنے سائلوں سے مال بٹورنا ہے۔ خاص طور پر امیگریشن کے مقدمات کے معاملے میں بہت سی لاء فرمز کا طریقہ کار بہت غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے۔ ایسے غیر قانونی تارکین وطن جو برطانیہ میں پہلے ہی بہت مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں وہ اگر کسی نااہل سالیسیٹر یا امیگریشن کنسلٹنٹ کے ہتھے چڑھ جائیں تو اپنی جمع شدہ پونجی اور قرض میں لی گئی رقم بھی گنوا کر کوڑی کوڑی کے محتاج ہو جاتے ہیں اور انہیں یوکے میں قیام کے قانونی حقوق بھی نہیں مل پاتے۔ نسیم احمد صرف امیگریشن اور انسانی حقوق کے کامیاب وکیل ہی نہیں بلکہ وہ اور اُن کی فرم لاء سوسائٹی کے تقاضوں، قانونی اخلاقیات اور اپنے سائلوں کے مالی وسائل اور مجبوریوں کا بھی خیال رکھتے ہیں۔نسیم احمد کی زندگی مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے۔ وہ 1991ء میں برطانیہ آئے یہاں آ کر انہوں نے حصولِ تعلیم کے ساتھ ساتھ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے لئے بھی کام کیا۔ وہ لندن میں انٹرنیشنل پولیٹکل فورم کے چیئرمین بھی رہے۔ نسیم احمد کا آبائی تعلق سرائے عالمگیر سے ہے جہاں سے ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے ڈگری کالج جہلم سے گریجوایشن کیا اور پھر 1987ء میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے ایل ایل بی آنرز کی ڈگری حاصل کی۔ 1990ء تک وہ لاہور میں کریمنل لاء کے ماہر مجید باجوہ کے ساتھ پریکٹس کرتے رہے اور بعد ازاں ہجرت کر کے لندن آ گئے۔ ابتداء میں انہیں اس شہر میں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور آج وہ اس شہر کے نامور اور معتبر قانون دان ہیں۔انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت پر بھی بہت توجہ دی۔ اُن کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا بھی قانون کی تعلیم حاصل کر کے سالیسیٹر بن چکے ہیں۔اُن کا بیٹا حسنین نسیم کیمبرج یونیورسٹی سے ڈگری یافتہ ہے اور پراپرٹی لاء میں خصوصی مہارت رکھتا ہے۔ نسیم احمد کے بچوں سے مل کر سب لوگ یہی کہتے ہیں کہ ایسی فرمانبردار، ذہین اور قابل اولاد اللہ رب العزت ہر کسی کو دے۔ نسیم احمد درویش طبیعت اور صوفیانہ مزاج رکھتے ہیں۔ انہیں بھی میری طرح سمندر، جزیرے، ساحل، جنگل، قدرتی مناظر اور تاریخی مقامات اچھے لگتے ہیں۔ یہی مشترکہ دلچسپی ہماری دوستی کی بڑی وجہ ہے جس کے باعث ہم اکٹھے مراکو، سپین، ڈنمارک، سویڈن، مناکو، جبرالٹر، کنیری آئی لینڈز اور دیگر کئی مقامات کی سیر و سیاحت سے لطف اندوز ہو چکے ہیں۔ نسیم احمد ایک شاندار اور زندہ دِل ہم سفر ہیں۔ اُن کے ساتھ کسی دوسرے ملک کی سیاحت کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ انہیں بھی میری طرح پیدل گھومنے پھرنے اور اجنبی ملکوں کے لوگوں کے مزاج اور رویّوں کا مشاہدہ کرنے کا اشتیاق رہتا ہے۔ ہم جب بھی کسی دوسرے ملک کی سیروسیاحت سے واپس آتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ ہم نے کوئی نئی دنیا دریافت کر لی ہے اور یہ دنیا واقعی خوبصورت ہے اور اپنے کسی بہترین دوست کے ساتھ کسی نئے ملک میں گھومنے پھرنے اور سیر سپاٹے کے لئے جانا زندگی کی ناقابل فراموش یادوں کا حصہ بن جاتا ہے۔ ٹینریف(سپین) میں اٹلانٹک اوشن یعنی بحر اوقیانوس میں جیٹ سکی انگ اور مناکو میں بحیرہ روم کے اوپر ہیلی کاپٹر کی سیر میرے اور نسیم صاحب کے لئے زندگی کے ایسے یادگار اور خوشگوار تجربات ہیں جن کا خیال آتے ہی طبیعت سرشار ہو جاتی ہے۔ میں اور نسیم احمد اکثر اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ جن لوگوں کو قدرت نے مالی وسائل عطا کر رکھے ہیں وہ دنیا دیکھنے کے شوق اور نئے منظروں کی دریافت کے ذوق سے کیوں محروم ہیں۔نسیم صاحب جب کبھی اپنی فیملی کے ہمراہ چھٹیاں گزارنے کے لئے کسی نئے ملک میں جاتے ہیں تو واپسی پر مجھے اس کا پورا احوال سناتے ہیں جس کی وجہ سے مجھے بھی اس ملک کی سیاحت کا اشتیاق اپنے حصار میں لئے رکھتا ہے۔ صرف یہی نہیں کہ نسیم احمد درجنوں ممالک کی سیاحت کا لطف اُٹھا چکے ہیں بلکہ وہ جب بھی پاکستان جاتے ہیں تو قصور میں بلھے شاہ کی درگاہ اور ملتان میں بزرگان دین کے مزارات اور خانقاہوں سے لے کر لاہور کے تاریخی مقامات، بہاول پور کے صحرا(چولستان) اور کراچی کے ساحل تک کی سیاحت کو اپنے دورے میں شامل رکھتے ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ سفر وسیلہء ظفر ہوتا ہے اور نئے مقامات کی سیاحت انسان کے علم اور مشاہدات میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی خوشگوار یادوں کے خزانے کو بھی بڑھاتی ہے۔نئے نئے ملکوں میں جانے اور وہاں کے طرزِ زندگی کے مشاہدے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری اور دیگر ممالک کے لوگوں کی ترجیحات میں کیا فرق ہے۔

نسیم احمد گذشتہ 29برس سے ایسٹ لندن میں اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لوگوں کے کام آنا اُن کی سرشت میں شامل ہے۔ وہ اپنے کام کو ایک مشن سمجھ کر کرتے ہیں۔اُن کی پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے سینکڑوں تارکین وطن اور اُن کی فیملیز کو برطانیہ میں قیام اور شہریت کے حقوق مل چکے ہیں۔ نسیم احمد ایک عرصے تک ہر جمعہ کو مقامی مسجد میں عام لوگوں کو مفت قانونی مشاورت اور رہنمائی فراہم کرتے رہے ہیں۔ ایک طویل مدت سے لندن میں مقیم ہونے کے باوجود اُن کا دل آج بھی پاکستان کے لئے دھڑکتا ہے اور شاید اسی لئے گذشتہ دِنوں اُن کے دل کی دھڑکن کچھ بے ترتیب ہوئی تو انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد اُن کی (Bypass) ہارٹ سرجری کی اور اب وہ گھر پر روبہ صحت ہو رہے ہیں۔ تارکین وطن کی اکثریت پاکستان کے سیاسی اور معاشی حالات اور مستقبل کے بارے میں بہت تشویش اور فکر میں مبتلا رہتی ہے۔ میں ایسے پرخلوص اوورسیز پاکستانیوں سے کہتا ہوں کہ وطن عزیز کے حالات کو خراب کرنے کے ذمہ دار تارکین وطن نہیں ہیں اور نہ ہی اُن کے اختیار میں ہے کہ وہ پاکستان کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی حالات کو بہتر بنا سکیں۔ اس لئے وہ بہت زیادہ فکرمند ہونا اور ملک کے بگڑتے ہوئے معاملات کو دِل پر لینا چھوڑ دیں لیکن کیا کیا جائے کہ جن تارکین وطن کا آبائی تعلق پاکستان سے ہے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے وطن کے حالات سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ یہ وہ آشفتہ سیر ہیں جنہوں نے اپنی مٹی کی محبت میں وہ قرض بھی اتارے ہیں جو اُن پر واجب بھی نہیں تھے۔مجھ سمیت نسیم صاحب کے تمام پُر خلوص دوست اور حلقہ احباب دعا گو ہیں کہ خالقِ کائنات انہیں جلد ازجلد مکمل صحت یاب کرے۔ صحت بلاشبہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ انسان جب کسی عارضے یا تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو یہ بھی ایک طرح سے اس کے مالک اور خالق کی طرف سے آزمائش کا مرحلہ ہے اور ہمارا رب صرف اُسی شخص کو آزمائش میں ڈالتا ہے جسے اس کا قرب میسر ہو اور جو اس آزمائش کے مرحلے سے گزر سکتا ہے۔ نسیم صاحب اللہ آپ اور آپ کی فیملی کو اپنی حفظ وامان میں رکھے اور آپ جلد اپنے معمولات زندگی کی طرف لوٹ آئیں۔ ابھی تو میں نے آپ کے ساتھ بہت سے ملکوں کی سیاحت اور سیر سپاٹا کرنا ہے۔ ابھی تو بہت سے نئے منظر ہماری دید کے منتظر ہیں اور ابھی تو بہت سی انجانی منزلیں ہمارا راستہ دیکھ رہی ہیں۔

٭٭٭٭