65

بچے مدارس میں کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں

برطانیہ سمیت پوری دنیاکے ترقی یافتہ اور خوشحال ملکوں میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے علاوہ اُن کی ہیلتھ اینڈ سیفٹی یعنی اُن کی صحت اور حفاظت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اہل مغرب کو اس اٹل حقیقت کا بہت پہلے ادراک ہو گیا تھا کہ بچے ہی قوم کے اصل معمار ہوتے ہیں اس لئے ان کی نگہداشت کے معاملے میں کسی بھی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ یونائیٹڈ کنگڈم میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ بچوں کو اُن کی ابتدائی عمر میں وہ تمام تر سہولتیں مہیا کی جائیں جو کہ نہ صرف اُن کی بہترین نشو و نما کی ضامن ہوں بلکہ ایسے مواقع بھی فراہم کئے ہیں جو آئندہ زندگی میں اُن کے لئے خوشگوار اعتماد کا باعث ہوں۔ بچپن کو معصومیت، ناسمجھی اور نادانیوں کا مجموعہ سمجھا جاتا ہے مگر یہی وہ عمر ہوتی ہے جس میں انسان سب سے زیادہ سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ عمر کے اسی حصے میں اس کے ساتھ پیش آنے والے بعض واقعات اور حادثات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے اتنے گہرے اثرات اس کی شخصیت پر پڑتے ہیں کہ وہ انہیں زندگی بھر فراموش نہیں کر پاتا۔ لندن کے علاوہ پورے ملک میں بہت سے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اور تنظیمیں بچوں کی فلاح و بہبود اور حفاظت کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ جو بچے تعلیمی اداروں یا گھروں میں کسی بھی قسم کی مذہبی یا نسلی منافرت، جنسی استحصال، زیادتی یا ہراسمنٹ کا شکار ہوتے ہیں انہیں حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاتا بلکہ مذکورہ جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیا جاتا ہے۔ دنیا کے ہر ملک اور قوم میں ایسے درندہ صفت لوگ موجود ہیں جو بچوں کی معصومیت اور نادانی کا فائدہ اُٹھا کر انہیں جنسی، جسمانی اور نفسیاتی استحصال کا نشانہ بناتے ہیں۔ یوکے میں بھی بچوں سے زیادتی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں مگر جب ان واقعات کے مجرم قانون اور انصاف کی گرفت میں آتے ہیں تو اُن سے کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جاتی، چلڈرن ایکٹ 1989 پر عمل درآمد کے ساتھ NSPCC یعنی نیشنل سوسائیٹی فار دی پری وینشن آف کرویلٹی ٹو چلڈرن کے ذریعے متاثرہ بچوں کو ہر مرحلے پر مدد اور آگاہی دی جاتی ہے۔ بچوں سے زیادتی کے مرتکب درندوں کو نہ صرف جیل بھیجا جاتا ہے بلکہ اُن کا نام اس رجسٹر میں درج کیا جاتا ہے جس میں اندراج کے بعد یہ مجرم رہائی پانے کے بعد بھی کسی تعلیمی ادارے یا کسی ایسی تنظیم کے لئے کام کرنے کے اہل نہیں رہتے جہاں بچوں کے امور اور اُن کی فلاح و بہبود کا کام ہوتا ہو۔ چند برس پہلے سکاٹ لینڈ کی ایک مسجد میں پاکستان نژاد مولوی نے قرآن پڑھنے کے لئے آنے والے ایک معصوم بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن بچے کے چیخنے چلانے پر مولوی کو مسجد انتظامیہ کمیٹی کے ارکان نے موقع پر ہی دھر لیا۔ پہلے تو کچھ لوگوں نے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی تاکہ مسجد اور کمیونٹی کی بدنامی نہ ہو مگر بچے کے والدین کے دباؤ پر سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ کے ثبوت سمیت مولوی کو پولیس کے حوالے کر دیا گیابعد ازاں یہ مولوی جیل کی سزا بھگتنے کے بعد برطانیہ بدر ہوا۔ اس نوعیت کے واقعات کی وجہ سے اب برطانیہ کی ایک ہزار سے زیادہ مساجد اور اُن سے ملحقہ مدرسوں میں سی سی ٹی وی کیمرے اور ریکارڈنگ کے آلات نصب ہیں۔ برطانیہ اور یورپ میں بچوں کو ابتدائی تعلیم میں ہی یہ آگاہی دی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو اپنے جسم کے کسی پرائیویٹ حصے کو چھونے کی اجازت نہ دیں اور اگر کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرے تو فوراً اپنے استاد یا والدین کو اس بارے میں بتائیں، کسی قسم کے دباؤ یا خوف کی وجہ سے ایسی کسی حرکت کو نظر انداز یا برداشت نہ کریں۔ اسی لئے برطانوی بچوں کی اکثریت نہ تو اپنے کسی رشتے دار یا فیملی فرینڈ کی گود میں جا کر بیٹھتی ہے اور نہ انہیں اپنا منہ چومنے یا گال چھونے کی اجازت دیتی ہے۔ کوئی اجنبی شخص بچوں سے بے تکلف ہونے کی کوشش کرے تو وہ اس کا برا مناتے ہیں۔ پورے یونائیٹڈ کنگڈم میں تقریبا 67 ہزار افراد ایسے ہیں جن کا نام سیکس ایفینڈرز کے رجسٹر میں درج ہے اور ان میں سے اکثریت ایسے مجرموں کی ہے جو بچوں سے جنسی زیادتی کے مرتکب ہوئے، بہت سے ایسے مجرم بھی اس رجسٹر میں شامل ہیں جنہوں نے پچیس یا تیس برس پہلے بچوں سے جنسی زیادتی کا جرم کیا تھا لیکن ان کا انکشاف طویل عرصہ گزر جانے کے بعد ہواا ور ثبوت ملنے پر ایسے درندوں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔ سکولز، بچوں کی پرائیویٹ نرسری، چیرٹی آرگنائزیشن اور بہت سے اداروں میں کسی کو ملازمت دینے سے پہلے انتظامی اربابِ اختیار پہلے یہ تصدیق ضرور کرتے ہیں کہ درخواست دہندہ کا نام سیکس ایفنڈرزکے رجسٹر میں تو شامل نہیں ہے بلکہ اب تو برطانیہ میں سیکس ایفنڈرز کے ڈیٹا بیس کی ویب سائٹ پر جنسی مجرموں کی تصاویر اور ان کے بارے میں معلومات دستیاب ہیں۔ برطانیہ میں ہر شخص کو ہر طرح کی مذہبی آزادی میسر ہے اس لئے یہاں ہر سال سیکڑوں لوگ عیسائیت اور دیگر عقائد کو ترک کر کے مشرف بہ اسلام ہو جاتے ہیں اور ان میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو قرآن پاک کا انگریزی زبان میں ترجمہ پڑھ کر مسلمان ہوتے ہیں۔ ایسے نو مسلم نہ تو کسی عالم دین یا شیخ کے پیرو کار بنتے ہیں اور نہ کسی ولی اور صوفی کی تعلیمات کو کلامِ الٰہی پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہ نو مسلم صرف قرآن پاک اور اسوہ حسنہ کو ہی اپنے لئے مشعل راہ سمجھتے ہیں اسی لئے یہ نو مسلم کسی مسلک یا عقیدے کے گورکھ دھندے میں بھی نہیں پھنستے۔

چند برس پہلے لندن کے ایک انگریز میاں بیوی نے اپنے خاندان سمیت اسلام قبول کیا کچھ عرصے کے بعد جب وہ انڈیا گئے تو وہاں مسلمانوں نے اُن کی خوب آؤ بھگت اور پذیرائی کی۔ کچھ لوگ انہیں اجمیر میں ایک درگاہ پر حاضری کے لئے اصرار کرتے رہے جب انہوں نے وجہ دریافت کی تو اس نو مسلم خاندان کو بڑی حیرت ہوئی کہ پیدائشی مسلمان کس طرح مزاروں پر منتیں مانگتے اور شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایک انگریز لڑکی نے چند سال پہلے میرے ایک پاکستانی دوست سے شادی کی، اس لڑکی نے شادی سے پہلے ہی اسلام بھی قبول کر لیا جب اِن کے ہاں پہلے بیٹے نے جنم لیا تو بچے کے باپ نے منت مانی کہ وہ اس کو حافظ قرآن بنائے گا۔ بچے کی انگریز ماں نے اس پر اعتراض کیاتو گھر میں فساد کھڑا ہو گیا، ماں کا استدلال تھا کہ قرآن پاک صرف حفظ کرنے کی کتاب نہیں بلکہ یہ تو وہ کلام ہے جس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم دنیا اور آخرت میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گئی کہ نو مسلم بیوی نے اپنے شوہر کو برطانیہ اور پاکستان میں ایسی مساجد اور مدرسوں کی خبروں کا حوالہ دینا شروع کر دیا جہاں حفظ قرآن کے لئے آنے والے معصوم بچوں کو مولوی حضرات نے جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ شوہر حیران رہ گیا کہ اس کی نو مسلم بیوی کو پیدائشی مسلمانوں کے بارے میں کیسی کیسی معلومات حاصل ہیں اور وہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ واقعی پاکستان میں جو ہزاروں مدرسے قائم ہیں اور جہاں بچوں کو قرآن پڑھایا اور حفظ کروایا جاتا ہے وہاں اِن رہائش پذیر معصوم بچوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتاہے۔ جسمانی تشدد تو عام بات ہے جنسی زیادتی کے واقعات کی خبریں بھی اب سوشل میڈیا کی وجہ سے منظرِ عام پر آنے لگی ہیں، حکومت، مدرسوں کی انتظامیہ یا اُن کی سرپرستی کرنے والوں نے کبھی اس ضرورت کو محسوس نہیں کیا کہ اِن مدرسوں میں جہاں ہزاروں غریب بچے دن اور رات مقیم رہتے ہیں وہاں سی سی ٹی وی کیمرے یا ریکارڈنگ کے آلات نصب کروائے جائیں۔ ہم کیسی عجیب قوم ہیں کہ معصوم بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو بھی معمول کا جرم سمجھ کر کرپٹ نظام انصاف اور عدالتوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ جو ملک اور اس کی عدالتیں اپنی قوم کے معصوم بچوں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہیں اور جنسی مجرموں کو کیفرکردار تک نہ پہنچا سکیں وہ معاشرے برکتوں اور خوشحالی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں کوئی ادارہ اور رجسٹر ضرور بنایا جانا چاہیئے جہاں بچوں سے جنسی اور جسمانی زیادتی کرنے والوں اور خاص طور پر مولویوں کا اندراج ہو اور اس جرم کے مرتکب کسی مولوی کو کسی دوسرے مدرسے یا ادارے میں بھی بچوں کو قرآن پڑھانے کی اجازت نہ دی جائے۔ یہ المیہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ وطن عزیز میں معصوم بچوں سے جنسی زیادتی کرنے والے درندے گلی محلوں میں دندناتے پھرتے ہیں، تعلیمی اداروں اور مدرسوں میں استاد اور مدرس کا روپ دھار کر اپنے جرائم پر پردہ ڈالے رکھتے ہیں مگر کوئی ان خطرناک مجرموں کی سرکوبی نہیں کرتا خاص طور پر مدرسوں میں پڑھنے والے بے سہارا بچے اپنی بہت سی مجبوریوں کی وجہ سے زبان نہیں کھولتے اور ہر ظلم اور زیادتی کو برداشت کرتے رہتے ہیں اور اگر کوئی بچہ اس بارے میں حقائق سے پردہ اُٹھاتا ہے تو اس بچے کو تحفظ دینے کی بجائے مدرسے کی انتظامیہ جنسی زیادتی کے مجرم مولوی کی سرپرستی کرتی ہے جس سے معاشرے کے مولوی اپنے عوامی خطاب میں یہ کہیں کہ اغلام بازی سے انسان کے مزاج میں انکساری پیدا ہوتی ہے تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔ جو ملک اپنی قوم کے معماروں کو جنسی درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے تو پھر اس کا مستقبل ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ اب تک جو قومیں بھی تباہ ہوئیں اور صفحہ ہستی سے مٹا دی گئیں وہ نماز، روزے یا حج اور زکوٰۃ کو ترک کرنے کی وجہ سے اپنے انجام کو نہیں پہنچیں بلکہ وہ حقوق العباداور انصاف کے تقاضوں کی تکمیل نہ کر سکنے کے باعث ذلیل اور برباد ہوئیں۔ خالقِ کائنات ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی توفیق دے۔

٭٭٭