248

پنجاب کی بیوروکریسی اور بادشاہ کے چھتر

کسی ملک کا بادشاہ بہت ظالم تھا وہ اپنی عوام پر ظلم کرنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے اپنے وزیر سے کہا کہ کافی عرصہ گزر گیا ہے اس نے ظلم کی انتہا کی ہوئی ہے لیکن عوام احتجاج کرنے اسکے پاس نہیں آتی، کوئی ایسا طریقہ بتاؤ کہ عوام چیخ کر احتجاج کرنا شروع کردے، وزیر نے سوچ بچار کے بعد مشورہ دیا کہ عوام شہر میں دریا کے ایک طرف رہتی ہے جبکہ پل کے دوسری طرف روزانہ کام کرنے جاتی ہے اگر ہم پل پر سے گزرنے والے ہر شخص کو دو دو جوتے مارنا شروع کردیں تو لوگ یقیناً احتجاج کریں گے۔ بادشاہ نے فوراً یہ قانون نافذ کردیا، جب کچھ عرصے تک کوئی احتجاج نہ ہوا تو جوتوں کی تعداد دو کی بجائے چار کردی گئی لیکن احتجاج پھر بھی نہ ہوا۔ آخرکار بادشاہ تنگ آ کر ایک صبح خود پل پر پہنچ گیا اور عوام سے پوچھا کہ انہیں کوئی شکایت تو نہیں ہے۔ عوام نے عرض کی کہ جناب بادشاہ سلامت اگر جوتے مارنے والے بندوں کی تعداد میں اضافہ کردیں تو بہت مہربانی ہوگی کیونکہ ہم روزانہ اپنے کام سے لیٹ ہوجاتے ہیں۔

یہ واقعہ سچ ہے یا نہیں یہ علیحدہ بات ہے لیکن ہماری اصلی زندگی اس واقعے سے ہر دور میں متاثر ضرور نظر آتی رہی ہے۔ افسوسناک خبر سننے میں آرہی ہے کہ پنجاب کی تمام بیوروکریسی کو ایک ادارے کا حوالدار کنٹرول کررہا ہے، آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ بڑے بڑے افسران ڈی پی اوز، ڈی سی، کمشنر وغیرہ کو فون کرکے فوجی افسران کا حکم پہنچانے والا شخص ایک حوالدار ہے، اس سے بڑی شرمندگی کی بات یہ ہے کہ وہ حوالدار خود کو جرنیل سمجھتا ہے اور بیوروکریسی کو حکم دینے سے پہلے موٹی موٹی گالیاں بھی نکالتا ہے۔ تین چار دن پہلے پنجاب کے کچھ بیوروکریٹس کو اس بات کی خبر ملی کہ فون کے دوسری طرف بیٹھا شخص حوالدار ہے جو انہیں حکم سنانے کیساتھ گندی گالیاں نکالتا ہے تو انہوں نے شدید احتجاج کیا۔ تمام بیوروکریٹ اس بات پر متفق تھے کہ انہیں احکامات کم از کم کوئی کرنل سطح کا آدمی سنائے حوالدار سے حکم سننا انکی توہین ہے۔ یعنی پنجاب کی وہ متکبر بیوروکریسی جو خود کو عظیم اور عام آدی کو اچھوت سمجھتی ہے اسے فحش اور برہنہ گالیوں پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ اعتراض گالیاں سنانے والے کے عہدے پر ہے۔