پنجاب کی نگرانی

نگران حکومتوں کا ڈول کچھ عرصہ سے ڈالا گیا ہے مقصد اس کا یہ تھا کہ الیکشن میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک جیسا ماحول میسر آئے نگران حکومتوں کا کسی سیاسی جماعت کی طرف جھکاو نہ ہو وہ صیح معنوں میں غیر جانبدار ہوں اور صاف شفاف غیر جانبدار الیکشن کو یقینی بنائیں تاکہ انتخابات کی شفافیت پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے نگرانوں کو سب کے لیے قابل قبول بنانے کے لیے نگرانوں کے چناو کا بھی طریقہ کار وضع کیا گیا جس میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی باہمی رضا مندی سے ہی نگران حکومتوں کا قیام عمل میں لایا جانا ضروری قرار دیا گیا لیکن چونکہ ہماری نیتیں اکثر خراب رہتی ہیں اس لیے ہم نے نگرانوں کو بھی متنازعہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی دراصل ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم انسان نہیں ہم پر انسانوں کے قوانین اور اخلاقیات لاگو نہیں ہوتیں ہم کسی اور سلوک کے مستحق ہیں جو ہمارے ساتھ روا نہیں رکھا جا رہا لہذا ہمیں بدہضمی ہو رہی ہے ہم اپنی من مانیوں کے 20 سال گزار چکے ہیں کہیں ہمیں اپھارا نہ ہو جائے اس لیے وقفہ بہت ضروری ہے تاکہ پچھلا کھایا ہوا ہضم کر لیں لیکن اس بار لگتا ہے کہ یہ نظام اسی طرح چلانا پڑے گا بات نگرانوں کی ہو رہی تھی کسی اور طرف نکل گئی پہلے حکومت ہی اپنی سربراہی میں الیکشن کرواتی تھی اور انتخابات پر اثر انداز ہونے کا الزام ایک فطری عمل ہوتا تھا لیکن نگرانوں کی کارکردگی بھی کوئی تسلی بخش نہیں رہی کہتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی صیح الیکشن ہوئے تھے جس کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہو گیا تھا اس کے بعد ہم نے صاف شفاف غیرجانبدار الیکشن کروانے کا کبھی رسک نہیں لیا انتہائی بدقسمتی ہے کہ انتخابات سے قبل ہی پری پول رگنگ کا ایسا ماحول بنایا جاتا ہے کہ لوگوں کو باآسانی سمجھ آجاتی ہے کہ چاہنے والے کیا چاہتے ہیں اور پھر وہی کچھ ہوتا ہے جو چاہنے والے چاہتے ہیں لیکن نہ جانے کیوں ماحول بدلا بدلا سا لگ رہا ہے اس بار کام الٹ پڑ رہا ہے لوگ روائیتی ہتھکنڈوں سے نفرت کر رہے ہیں اور باقاعدہ اس کا اظہار بھی کر رہے ہیں خدشہ اس بات کا ہے کہ کہیں کام خراب نہ ہو جائے کیونکہ محاذ آرائی اور تنازعات اس حد تک شدت اختیار کر چکے ہیں کہ اب برداشت کا مادہ ناپید لگ رہا ہے اگر الیکشن کو قابل قبول بنانا مقصود ہے اور الیکشن کے نتائج کو تسلیم کروا کر مضبوط مستحکم حکومت کے قیام کو یقینی بنانا ہے جو پاکستان کو مسائل سے نکالنے کی اہلیت بھی رکھتی ہو جسے عوام کا بھر پور اعتماد بھی حاصل ہو تو پھر ہمیں اپنے عمل سے ظاہر کرنا ہو گا کہ انتظامیہ اور چاہنے والے مکمل طور پر غیر جانبدار ہیں اور وہ اس بات کو بھی یقینی بنوائیں کہ کسی کو بھی من مرضی نہ کرنے دی جائے خیبر پختون خواہ میں نگران وزیر اعلی کی باہمی رضامندی سے نامزدگی سےخوشی ہوئی کہ سیاستدانوں میں بھی باہمی رضا مندی سے فیصلہ کرنے کا بھی ظرف ہے اعظم خان کا نام اپوزیشن کی طرف سے آیا تھا لیکن حکومت نے بھی بخوشی تسلیم کر لیا تھا اب وہاں نگران کابینہ بھی اتفاق رائے سے لائی جا رہی ہے لیکن پنجاب میں روز اول سے جان بوجھ کر معاملات کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی کیا پنجاب کے 12 کروڑ عوام میں سے کوئی ایک ایسی غیرجانبدار شخصیت نہیں تھی جس پر اتفاق ہو سکتا لیکن یہاں یہ تاثر دینا مقصود تھا کہ ہماری مانی جاتی ہے اور ہم جو چاہیں گے وہ ہو گا اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب کے نگران وزیر اعلی محسن رضا نقوی کسی سیاسی جماعت کا کبھی بھی باقاعدہ طور پر حصہ نہیں رہے لیکن ان کے بارے میں عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ وہ آصف علی زرداری کے قریبی دوست ہیں اور ان کی مرضی ومنشا کے مطابق نگران وزیر اعلی بنائے گئے ہیں ان کی مسلم لیگ ن کے ساتھ بھی ہم آہنگی ہے وہ چوہدری صاحبان کے بھی قریبی عزیز ہیں لیکن وہ نہ تو چوہدری صاحبان کو قابل قبول ہیں اور نہ تحریک انصاف کو اب ان کے نگران وزیر اعلی بننے پر تحریک انصاف عدالت میں بھی جا رہی ہے اور احتجاج بھی کر رہی ہے الیکشن کمیشن نے اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کرکے انھیں وزیر اعلی بنا دیا ہے اب تو ان کی زیر نگرانی ہی الیکشن یوں گے لیکن یہ الیکشن اپنے انعقاد سے قبل ہی متنازعہ یوتے جا رہے ہیں ابھی اطلاعات یہ بھی آ رہی ہیں کہ تحریک انصاف کے سکرو ٹائٹ کرنے کے لیے پنجاب میں اہم انتظامی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں پنجاب کی اپنی نفسیات ہے یہاں دیکھا جاتا ہے تھانیندار کس کے ساتھ ہے کون پکڑوانے اور چھڑوانے کی طاقت رکھتا ہے تحریک انصاف صرف اسی وجہ سے شور مچا رہی ہے کہ کہیں یہ تاثر غالب نہ آجائے اور ان کی الیکشن مہم کو متاثر نہ کرے اس لیے وہ نگران وزیر اعلی پر سوال اٹھا رہے ہیں پہلی دفعہ نگرانوں کا معاملہ عدالت میں گیا ہے ابھی اس حوالے سے بھی دیکھنا ہو گا کہ عدالت سے کیا فیصلہ آتا ہے نگران وزیر اعلی بننے کے بعد محسن رضا نقوی پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے انھوں نے اپنے عمل سے ثابت کرنا ہے کہ وہ غیرجانبدار ہیں اگر انھوں نے کسی کی جانبداری کی کوشش کی تو نہ صرف ان کی شخصیت مزید متنازعہ ہو جائے گی بلکہ الیکشن بھی مشکوک ہو جائیں گے