دو ہزار بائیس عدم استحکام اور 2023 امیدوں کا سال

جب یہ کالم لکھ رہا ہوں یہ سال کا آخری دن ہے جب آپ پڑھ رہے ہوں گے تو نئے سال کا پہلا دن ہو گا ہم اس امید کے ساتھ نئے سال میں داخل ہو رہے ہیں کہ اللہ کرے یہ نیا سال سب کے لیے خوشیاں لے کر آئے ہماری مشکلات کو آسانیوں میں بدل دے پاکستان پر مایوسی کے گہرے ہوتے بادل چھٹ جائیں ملک سیاسی انتشار ختم ہو جائے ملک میں سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی مسائل بھی حل ہو جائیں ناامیدی امید میں بدل جائے قومی یکجہتی کو فروغ ملے ملک میں امن ہو یہ ہماری دعا اور خواہش ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ 2022 میں ہم نے جو کانٹے بوئے ہیں وہ چننے تو پڑیں گے گزرا ہوا سال ہمیں بہت سارے دکھ دے گیا ہے 2022 کے آغاز سے ہی ہمارے حالات خراب ہونا شروع ہو گئے تھے سیاسی عدم استحکام کی دھونی میں سے سے دھواں نکلنا شروع ہو گیا تھا مارچ میں سب کچھ کھل کر سامنے آگیا سینٹ کے الیکشن میں اپ سیٹ نے عمران خان کی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی قومی اسمبلی میں عمران خان کے امیدوار حفیظ شیخ اکثریتی ووٹ رکھنے والی حکومتی امیدوار ہونے کے باوجود اقلیتی ووٹ رکھنے والی اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی سے شکست کھا گئے تھے جس پر عمران خان کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا پڑا تھا ہھر جب 2022 کے شروع میں بکھری ہوئی پی ڈی ایم اکھٹی ہونا شروع ہوئی اور عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تو سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں لیکن اس وقت تک بھی یہی سمجھا جا رہا تھا کہ عمران خان کو دھچکا دیا جا رہا ہے اس کی حکومت کو کچھ نہیں ہو گا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے حکومتی اراکین اسمبلی ٹوٹنا شروع ہو گئے اتحادی ساتھ چھوڑ گئے 2022 اس حوالے سے بڑا ہنگامہ خیز سال رہا کہ سارا سال سیاسی جدوجہد جاری رہی کبھی پی ڈی ایم سڑکوں پر اور کبھی تحریک انصاف سڑکوں پر رہی خصوصی طور پر پنجاب اور مرکز تبدیلیوں کی زد میں رہا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی میاں شہباز شریف کی وزیر اعظم بننے کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی پنجاب میں حمزہ شہباز بھی وزیر اعلی بنے لیکن چوہدری پرویز الہی نے انھیں چلتا کیا گزرا سال تبدیلیوں کا سال تھا عمران خان کی جگہ شہباز شریف نے لے لی اسد قیصر کی جگہ راجہ پرویز اشرف نے لے لی عثمان بزدار کی جگہ پہلے حمزہ شہباز اور پھر پرویز الہی آگئے سب سے بڑی تبدیلی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی مدت ملازمت توسیع والی پوری کرکے ریٹائرڈ ہوئے ان کی جگہ سید عاصم منیر نئے آرمی چیف بن گئے البتہ ان تبدیلیوں کے موسم خزاں میں چیرمین سینٹ صادق سنجرانی کا اقتدار محفوظ رہا کمال فنکاری سے وہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی پارٹی کے ووٹوں سے چیرمین سینٹ بنے لیکن بعد ازاں پیپلزپارٹی اور ساری اپوزیشن کے زور لگانے کے باوجود ان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب نہ ہو سکی اور وہ اقلیتی ووٹوں کے باوجود جادو کی چھڑی سے چیرمین سینٹ برقرار رہے اب جب سب الٹ پلٹ ہو چکا 2022 میں انھیں گرم ہوا نے چھوا تک نہیں اب وہ پی ڈی ایم کے چیرمین سینٹ ہیں 2022 میں سب سے زیادہ زیر بحث رہنے والی شخصیت عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ تھے عمران خان اقتدار سے علیحدہ ہونے کے باوجود شہرت کی بلندیوں پر براجمان ہیں سال کے آخر میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا لیکن اس کے باوجود وہ محفوظ رہے حکومت عمران خان کو گرفتار کرنے اور نااہل کروانے کے خواہش دل میں لیے 2023 میں داخل ہو رہی ہے خواہش ابھی بھی یہی ہے کہ کسی طرح عمران کو نااہل یا گرفتار کیا جائے عمران خان جلد الیکشن کروانے کی خواہش لیے 2023 میں داخل ہو رہے ہیں 2023 انتخابات کا سال ہے دیکھنا یہ ہے کہ انتخابات وقت مقررہ پر ہوتے ہیں یا وقت سے پہلے ہو جاتے ہیں حکومت کی خواہش ہے کہ انتخابات وقت مقررہ پر بھی نہ ہوں انھیں مزید وقت مل جائے یا نگران حکومت یا کوئی اور سٹ اپ لمبے عرصے کے لیے آجائے تاکہ عمران خان کا سحر کم ہو سکے ملک کمزور ترین معاشی حالات کے ساتھ 2023 میں داخل ہو رہا ہے سر پر ڈیفالٹ کا خطرہ منڈلا رہا ہے عوام شدید ترین مہنگائی کے ساتھ نئے سال کا استقبال کر رہے ہیں اللہ کرے نئے سال میں کوئی بہتری کی گنجائش پیدا ہو جائے ملک میں استحکام آئے اور معاشی سرگرمیاں شروع ہوں