198

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ

برطانوی دارالحکومت لندن کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس شہر میں گزشتہ نصف صدی کے دوران اردو کے نامور اہل قلم مقیم رہے یا پھر ادبی تقریبات میں شرکت کے لیے آتے جاتے رہے۔لندن میں آج بھی بہت سے اوورسیز پاکستانی ایسے ہیں جنہیں فیض احمد فیض اور احمد فراز سے لے کر گوپی چند نارنگ اور علی سردار جعفری کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔میں جن صاحب کا ذکر کرنے لگا ہوں ان کے اردو کے درجنوں نامور شاعروں اور ادیبوں سے ذاتی مراسم رہے۔ گزشتہ دنوں میری ان سے ایک ملاقات ہوئی تو وہ دنیا بھر میں ہونے والی اردو کانفرنسز، جشن اور لٹریری فیسٹیولز کا ذکر لے بیٹھے۔ اس نوعیت کی تقریبات میں میری عدم دلچسپی پر وہ کچھ خائف ہو گئے۔ مجھ سے پوچھنے لگے کہ ”اردو کے نام پر ایسے فیسٹیولز سے اردو زبان و ادب کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟“ میں نے کہا کہ ”شاعروں اور ادیبوں کی پذیرائی اور اردو کے نام پر پوری دنیا سے لوگوں کا ایک جگہ اکٹھے ہونا ایک خوشگوار اور خوش آئند بات ہے“۔ کہنے لگے کہ ”پاکستان میں کیا یہ گنے چنے ادیب اور شاعر ہی باقی رہ گئے ہیں جنہیں ہر سال ان ادبی کانفرنسز اور فیسٹیولز میں مدعو کر کے ان کی پذیرائی کی جاتی ہے“۔ میں نے کہا کہ ”چند معتبر اور سینئر اہل قلم کے علاوہ درجنوں نئے ادیبوں اور شاعروں کو بھی ان تقریبات میں بلایا جاتا ہے جبکہ بہت سے لکھنے والے ان ادبی میلوں میں شرکت کو اپنے لیے شایان شان نہیں سمجھتے اس لیے شریک ہونے سے گریز کرتے ہیں اور ویسے بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں اردو کے لاکھوں شاعر اور ادیب موجود ہیں، ہر ایک کو ان عالمی اردو کانفرنسز میں مدعو کرنا ممکن نہیں اور پھر منتظمین کی اپنی ذاتی پسند اور ناپسند بھی ہوتی ہے جو اہل قلم ان انٹرنیشنل لٹریری فیسٹیولز میں نہیں بلائے جاتے انہیں خفا ہونے کی بجائے مزید اچھا ادب تخلیق کرتے رہنا چاہیے۔

اردو کے نام پر ہونے والے کسی جشن یا مشاعرے میں شرکت سے کسی لکھنے والے کے تاج میں سرخاب کے پر کا اضافہ نہیں ہو سکتا“۔ میری بات سن کر وہ بد مزہ ہو گئے اور چڑ کر کہنے لگے کہ ”حکومتی اور سرکاری اخراجات سے ہونے والی اردو کانفرنسز میں جینیوین رائٹرز کو نہ بلانا ایک طرح سے ان کی حق تلفی ہے۔ کیا آپ میری اس بات سے متفق نہیں ہیں؟“ میں نے کہا کہ ”میرے متفق ہونے یا نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے، ہر لکھنے والا خود کو جینیوین رائٹر ہی سمجھتا ہے لیکن جو واقعی حقیقی ادیب یا شاعر ہوتے ہیں وہ ادبی کانفرنسز اور فیسٹیولز کے دعوت ناموں سے بے نیاز ہوتے ہیں، فیض احمد فیض، احمد فراز، ساقی فاروقی، پروین شاکر، مختار مسعود یا عبداللہ حسین نے کبھی اردو کے انٹرنیشنل فیسٹیولز میں شرکت کو اہمیت نہیں دی۔ انہوں نے تو اپنی تمام تر توجہ تخلیقی کام پر مرکوز رکھی۔بڑا ادیب یا شاعر کسی قسم کے اعزازات یا عالمی کانفرنسوں میں شرکت کا محتاج نہیں ہوتا۔جن ادیبوں کے نزدیک ان چیزوں کی وقعت زیادہ ہوتی ہے وہ دکھاوے اور شہرت کے شوقین ہوتے ہیں اور اپنی اہمیت جتانے کے چکر میں رہتے ہیں“۔ میرے جواب سے مطمئن نہ ہو کر انہوں نے بات کا رخ بدلا اور استفسار کرنے لگے کہ”جو نام نہاد شاعر اور ادیب برطانیہ اور یورپ سے اپنے خرچ پر پاکستان جا کر وہاں ہونے والی انٹرنیشنل اردو کانفرنسوں میں اوورسیز رائٹرز کی نمائندگی کرتے ہیں کیا آپ انہیں واقعی اردو کے مہاجر اہل قلم کا نمائندہ سمجھتے ہیں؟“ میں نے جواب دیا کہ”رضا علی عابدی، باصر کاظمی،نجمہ عثمان،یشب تمنا اور دیگر کئی لکھنے والے ان کانفرنسوں میں بیرونی دنیا کی نمائندگی کر چکے ہیں اور یہ سب معتبر اور جانے پہچانے اہل قلم ہیں۔ ایسے ادیبوں اور شاعروں کو اگر انٹرنیشنل لٹریری فیسٹیولز میں نہ بھی مدعو کیا جائے تو ان کی اہمیت کم نہیں ہوتی“۔میرے اس جواب سے موصوف کی تسلی نہ ہوئی اور انہوں نے پاکستان میں بسنے والے ان اہل قلم کے نام گنوانا شروع کر دیے جنہیں وطن عزیز کے مختلف شہروں میں ہونے والے ادبی میلوں میں مدعو نہیں کیا جاتا یا پھر اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بہرحال کسی بھی تقریب میں مہمانوں کا انتخاب میزبان یا منتظمین کی صوابدید اور پسند یا ناپسند پر ہوتا ہے۔

برطانیہ اور خاص طور پر لندن میں بھی ہر سال درجنوں مشاعرے، ادبی محفلیں اور تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور گزشتہ اکتوبر میں برطانوی دارالحکومت میں جشن ریختہ کی بھی طرح ڈال دی گئی۔ پورے یونائیٹڈ کنگڈم بشمول لندن، مانچسٹر،برمنگھم،گلاسگو،ایڈنبرا اور بریڈ فورڈ میں جہاں کہیں بھی ادبی اجتماعات یا مشاعروں کا اہتمام ہوتا ہے وہاں منتظمین اپنے پسندیدہ یا نامور لوگوں کا ہی انتخاب کرتے ہیں۔ ویسے بھی مہمانوں کا انتخاب میزبان کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔برطانیہ اور پاکستان میں شاعروں اور ادیبوں کی پذیرائی کے سلسلے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو دو طرفہ تعلقات پر یقین رکھتا ہے۔ یعنی وہ پاکستان سے آنے والے صرف ایسے اہل قلم کی برطانیہ میں آؤ بھگت کرتا ہے جو وطن عزیز میں ان کے اعزاز میں تقریبات کا اہتمام کر سکتے ہوں۔ ان کی کتابوں کی اشاعت اور پھر ان کی رونمائی کا انتظام کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔جو تنظیمیں یا ان کے منتظمین پاکستان سے لندن اور دیگر شہروں میں پڑاؤ ڈالنے والے ادیبوں اور شاعروں کے اعزاز میں تقریبات منعقد کرتے ہیں میں ان کے حوصلے اور ہمت کی داد دیتا ہوں کہ وہ کس طرح اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کر اردو زبان و ادب کے فروغ کی جستجو کرتے ہیں۔ پاکستان سے آنے والے اہل قلم کی اکثریت بہت مشکل مہمان ثابت ہوتی ہے اور دیار غیر میں ایسے مہمانوں کے قیام وطعام،آمد و رفت اور ان کی فرمائشوں کو پورا کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اب تو پاکستان کے کچھ ایسے استاد ”شاعروں اور پبلشرز کے لیے بھی لندن اور دیگر شہروں کی راہ ہموار ہو گئی ہے جنہوں نے کئی متشاعروں اور متشاعرات کے سر پر نہ صرف اپنا دست شفقت رکھ دیا ہے“ بلکہ ان کے شعری مجموعوں کی فوری اشاعت کا بندوبست کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سوشل میڈیا پر تیز رفتار تشہیر اور پوری دنیا تک رسائی کی وجہ سے اردو کے بہت سے اہل قلم اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ان کی تصاویر اور تحریریں لاکھوں لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔ ان کی پوسٹس کو چند دنوں میں سینکڑوں لوگوں کی لائیکس مل رہی ہیں، اس لیے اب ان کا شمار مقبول رائٹرز میں ہو گیا ہے۔یہ ایک مغالطہ ہے، سوشل میڈیا پر لوگوں کی اکثریت کسی بھی تحریر کو مکمل پڑھے بغیر لائیک یا کمنٹ کر دیتی ہے۔ مقبول تحریریں یا شاعری وہ ہوتی ہے جو پڑھنے والے کے حافظے میں رہ جائے اور جس کا حوالہ ایک سنجیدہ قاری ضرورت پڑنے پر دے سکے۔ اردو کا جو شاعر اور ادیب سوشل میڈیا پر اپنے فالوورز کو اپنا سو فیصد سنجیدہ قاری یا مداح سمجھے مجھے ایسے اہل قلم سے ہمدردی ہے۔ اردو کا جتنا بھی مقبول اور عظیم ادب تخلیق ہوا ہے وہ سوشل میڈیا کے متعارف ہونے سے پہلے کا ہے۔زندہ رہنے والا سدا بہار ادب جدید ٹیکنالوجی کا مرہون منت نہیں ہوتا بلکہ جدید ٹیکنالوجی زندہ ادب کی متلاشی ہوتی ہے۔ کیا ایسے لکھنے والا اور ان کی تحریریں زندہ رہیں گی جن کے سوشل میڈیا پر ہزاروں بلکہ لاکھوں فالوورز ہیں یا فیض، فراز، مشتاق احمد یوسفی اور مختار مسعود کی تحریریں آنے والے زمانوں میں بھی زندہ اور مقبول رہیں گی۔

؎ اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ

جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

محشر بدایونی

٭٭٭