اپنے حصے کا درخت لگائیں

برطانیہ کے شہر کوونٹری میں نومبر 1972 میں ایک سیاسی جماعت کا قیام عمل میں آیا جس کا نام پیپلز پارٹی تھا۔ 1975 میں اس کا نام تبدیل کر کے ایکولوجی پارٹی رکھ دیا گیااور پھر 1985 میں اسے گرین پارٹی کا نام دیا گیا۔ 1989 میں یورپین پارلیمنٹ کے انتخابات میں گرین پارٹی کو 23 لاکھ ووٹ ملے یعنی ملک بھر کے 15 فیصد ووٹرز نے گرین پارٹی کی حمایت کی۔ اگرچہ اس وقت برطانوی پارلیمنٹ میں گرین پارٹی کا صرف ایک منتخب رکن ہے اور ہاؤس آف لارڈز میں اس کے اراکین کی تعداد صرف دوہے لیکن انگلینڈ اور ویلز کی مقامی کونسلز میں گرین پارٹی کے منتخب کونسلرز کی تعداد 745 ہے اور لندن اسمبلی میں بھی اس پارٹی کے 3 منتخب ارکان موجود ہیں۔ پورے یونائٹیڈ کنگڈم میں گرین پارٹی کے اراکین کی تعداد تقریباً55 ہزار ہے جو اس پارٹی کو سالانہ 40پاؤنڈ چندہ دیتے ہیں۔ بائیں بازو کے نظریات رکھنے اور ماحولیات کے لئے کام کرنے والے لوگوں کی اکثریت گرین پارٹی کی رکن یا ووٹر ہے۔ گرین پارٹی کی ترجیحات میں ملک کو سرسبز بنانا اور معاشرے کے ہر فرد کے لئے ترقی اور انصاف کے یکساں ماحول کو فروغ دیا ہے۔ برطانیہ میں سول لبرٹیز، اینمل رائٹس اور ڈرگ پالیسی ریفارم کے لئے بھی گرین پارٹی سرگرم عمل ہے۔ برطانوی سکولوں میں بچوں کو ابتدا سے ہی ماحولیاتی آلودگی کے بارے آگاہی اور معلومات فراہم کی جاتی ہیں اس لئے یہاں کا ہر با شعور فرد ماحولیاتی آلودگی کے پھیلاؤ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ یو کے میں اگر کسی رہائشی منصوبے، ہوائی اڈے کے رن وے میں توسیع یا کسی موٹر وے کی تعمیر کے لئے درختوں کو کاٹنے کی ضرورت پیش آئے تو گرین پارٹی کے اراکین اور ماحولیات کی بہتر ی کے لئے کام کرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد مل کر ایسے منصوبوں کو روکنے کے لئے احتجاج کرتی ہے اور بہت سے لوگ اونچے درختوں پر چڑھ جاتے ہیں تاکہ انہیں کاٹا نہ جا سکے۔ پورے یونائٹیڈ کنگڈم میں تقریباً 39 ملین گاڑیاں سڑکوں پر رواں دواں رہتی ہیں لیکن شاید ہی کوئی کار، وین، بس، کوچ یا ٹرک ایسا ہو گا جو دھواں چھوڑتا دکھائی دے اور ویسے بھی برطانیہ میں 2030 سے پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت اور مینوفیکچرنگ پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ یعنی صرف بجلی سے چلنے والی گاڑیاں ہی سڑکوں پر دکھائی دیں گی جن کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں واضح طور پر کمی آئے گا۔

اس دنیا کی آبادی میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ا س ضمن میں پوری کوشش کر رہے ہیں کہ آبادی میں اضافے کے تناسب کو کنٹرول میں رکھا جائے، زیر زمین پانی کو آلودہ ہونے سے بچانے کے لئے جدید سیوریج سسٹم بنایا جائے، دریاؤں، نہروں اور سمندروں کے پانی کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لئے موثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔ میدانی اور پہاڑی مقامات کے علاوہ رہائشی علاقوں میں سڑکوں کے کنارے زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں، آبادی کے درمیان بڑے بڑے سبزہ زار اور پارک بنائے جائیں تاکہ ہر علاقے کے مکینوں کو تازہ ہوا اور آکسیجن میسر آ سکے۔ برطانیہ سمیت ترقی یافتہ ملکوں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہاں کی حکومتیں دور اندیشی سے کام لیتی ہیں اور آنے والے خطرات کو پہلے سے بھانپ کر ان سے بچنے کے لئے منصوبہ بندی کرنا شروع کر دیتی ہیں اور پورے معاشرے کو ان کے اثرات سے بچانے کے لئے انہیں اپنی ترجیحات کا حصہ بناتی ہیں۔ کسی بھی اچھے کام کی ترغیب کے لئے آگاہی ضروری ہے اور علم یا تعلیم کے بغیر آگاہی ممکن نہیں۔ مغربی معاشرے اس لئے ترقی یافتہ اور خوشحال ہیں کہ وہاں تعلیم یا خواندگی کا تناسب 100 فیصد ہے اور پرائمری سکول کی تعلیم کے ساتھ تربیت بھی مشروط ہے۔ برطانیہ کے پرائمری سکولوں کی تعلیم و تربیت بچوں کی کردار سازی اور خود اعتمادی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ پرائمری سے سیکنڈری سکول تک پہنچنے والے بچے ان تمام عوامل سے آگاہی حاصل کر چکے ہوتے ہیں جو انہیں معاشرے کا ایک کارآمد اور ذمہ دارفرد بنانے کے لئے ناگزیر ہوتے ہیں۔ لندن سمیت پورے برطانیہ میں بہت زیادہ بارش برستی ہے جس کا بنیادی سبب اس ملک میں درختوں کی بہتات ہے۔ پورے یونائٹیڈ کنگڈم میں 3 بلین سے زیادہ تناور درخت اُگے ہوئے ہیں جن میں سے لاکھوں درخت کئی سو سال قدیم ہیں۔ جڑی بوٹیاں اور پھول دار پودے ان کے علاوہ ہیں۔ برطانیہ کی آبادی پونے سات کروڑ کے قریب ہے جس کا مطلب ہے کہ یہاں ہر ایک مکین کے حصے میں 45درخت آتے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یو کے میں موسم اور فضا کیوں خوشگوار رہتی ہے۔ برطانیہ ایک ایسا جزیرہ ہے جہاں آج بھی انسانوں سے زیادہ درختوں کی بہتات ہے۔ خوبصورت اور گیت گانے والے پرندوں کی کثرت ہے۔ تیسری دنیا کے جن ممالک کی آبادی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے ان میں پاکستان بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی شامل ہے۔ وطن عزیز میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانوں کی تعداد اور ماحولیاتی آلودگی میں تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے۔ درخت اور جنگلات کم ہو رہے ہیں، باغات ختم کر کے رہائشی سکیمیں بنائی جا رہی ہیں ہمارے ارباب اختیار کی بد انتظامی اور کرپشن نے نظام قدرت کو بھی معاف نہیں کیا۔ شکاری مزاج قوم نے خوبصورت اور نایاب جانوروں اور پرندوں کی نسلیں معدوم کر دی ہیں۔ کوئی اپنے بچوں اور نئی نسل کو یہ بات بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ درخت، پرندے، جانور، حشرات الارض اور آبی حیات بھی ہماری اس کائنات کا حصہ ہیں ان کی بقا سے ہماری اپنی بقا وابستہ ہے۔ بقول مشتاق احمد یوسفی ہم مسلمان تو اُن جانوروں (اور پرندوں) سے بھی محبت نہیں کرتے جنہیں ذبح کر کے نہ کھا سکیں۔


کئی برس پہلے مجھے آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک سیمنار میں شرکت کا موقع ملا جس میں پرنس چارلس (اس وقت وہ ولی عہد تھے) نے اسلام اور انوائرمنٹ کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ اپنے لیکچر میں انہوں نے قرآن پاک اور تعلیمات نبوی کے حوالے دے کر بتایا کہ اسلام میں درخت کاٹنے کی ممانعت ہے اور ماحولیاتی آلودگی کے سدباب کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے دانشور یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ غیر مسلموں نے اسلامی تعلیمات کے سنہری اصول اپنا کر ترقی کی ہے ایسا ہی ہے تو ہم مسلمانوں کو ان سنہری اصولوں کی پیروری سے کون روکتا ہے؟ ویسے تو ہم حب الوطنی کے دعوے کرتے اور قوم پرستی کا دم بھرنے میں پیش پیش رہتے ہیں لیکن ملک میں تیزی سے پھیلتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کو روکنے میں ہمارا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر 14 اگست کے دن ہر پاکستانی قومی پرچم لہرانے اور سڑکوں پر ہلہ گلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے حصے کا ایک پودا بھی لگا دے اور اگلے یوم آزادی تک اس کی حفاظت کرے اور لگائے جانے والے پودے کو حب الوطنی کے تقاضے کی علامت سمجھے تو چند ہی برسوں میں پاکستان کے اندر سبز انقلاب آ سکتا ہے اور ماحولیاتی آلودگی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ معلوم نہیں کیوں ہم بڑے بڑے اور معرکۃ الآرا کام کر کے انقلاب لانے کے خبط میں مبتلا ہو کر ان چھوٹے چھوٹے کاموں کو کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں جن کے لئے بہت زیادہ اخراجات اور محنت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہم محکمہ جنگلات کی شجرکاری مہم اور کسی سیاسی جماعت سے ہی کیوں توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمارے حصے کے درخت لگائیں۔ ہم اپنی زندگی میں کم از کم ایک پودا لگا کر تناور درخت بننے تک اس کی حفاظت کر سکتے ہیں جو ہمارے بعد بھی لوگوں کو آکسیجن اور سایہ فراہم کرنے کے علاوہ پرندوں کا مسکن بنا رہے گا۔ اگر آپ محب وطن ہیں تو اپنی زندگی میں اپنے نام کا ایک پودا ضرور لگائیں یہ درخت بن کر ہمارے ملک میں ماحولیات کی بہتری کا ضامن ثابت ہو گا۔ اندھیرے سے نجات صرف اسی صورت میں ممکن ہوتی ہے جب ہر فرد اپنے حصے کا چراغ جلاتا ہے۔ گذشتہ یوم آزادی پر میں نے پاکستان کے ایک سابق وفاقی وزیر کو یہ تجویز دی کہ وہ 14 اگست سے پہلے یہ مہم چلائیں کہ ہر پاکستانی اپنے اور اپنے گھر والوں کے نام پر آزادی کے دن ایک پودا ضرور لگائے اور پھر اس کی دیکھ بھال اور حفاظت بھی کرے۔ میری یہ تجویز سن کر موصوف کہنے لگے کہ درخت اگانا تو بعد کی بات ہے اگر ہمارے لوگ صرف پہلے سے لگے ہوئے تناوردرختوں کو ہی کاٹنا بند کر دیں تو یہ بھی بڑی تبدیلی ہو گی پھر وہ افسردہ ہو کر کہنے لگے کہ جس معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے سے بھی گریز نہ کریں وہاں درختوں کو کٹنے سے کون بچا سکتا ہے۔ جس ملک میں لوگ ایک دوسرے کی جان لینے کے درپے ہوں وہاں خوبصورت جانوروں اور پرندوں کو شکار ہونے سے کون بچا سکتا ہے۔


اللہ رب العزت نے اپنی پوری کائنات اور خاص طور پر ہماری زمین کو خوبصورت قدرتی نظاروں اور طرح طرح کی مخلوقات سے مزین کیا ہے اگر ہم اپنی زمین اور اپنی دھرتی کے حسن میں اضافہ یا اس کی حفاظت نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کے حسن اور خوبصورتی کو بگاڑنے سے ضرور باز رہیں۔ خالق کائنات صرف انہی لوگوں کو اپنی نعمتوں سے نوازنے کا سلسلہ جاری رکھتا ہے جو اس کی عطا کردہ نعمتوں کا صرف شکر ہی ادا نہیں کرتے بلکہ ان کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ اہل مغرب کو قدرت نے جو پہاڑ، سمندر، میدان، جنگل، دریا، آبشاریں، جھیلیں، وادیاں، صحرا، جنگلی حیات اور موسم عطا کئے ہیں انہوں نے نہ صرف ان نعمتوں کا تحفظ کیا ہے بلکہ ان سب چیزوں کے حسن میں مزید اضافے کے لئے بھی وہ کوئی نہ کوئی تدبیر کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان ہو یا برطانیہ یا پھر دنیا کا کوئی اور خطہ قدرت نے اپنے وسائل کی تقسیم میں کہیں کوئی بخیلی یا نا انصافی نہیں کی۔
٭٭٭