جمہوری استحکام کے لیے آرمی چیف کی تعیناتی

کئی دنوں سے اس پر غور کر رہا ہوں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان جہاں سیلاب کی تباہ کاریاں رکنے کا نام نہیں لے رہیں ڈیڑھ ماہ سے پاکستان ڈوبا ہوا ہے پاکستان کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک چار کروڑ لوگ سیلاب سے متاثر ہیں نت نئے بحران سر اٹھا رہے ہیں متاثرین کی بحالی کا معاملہ ہے وبائی امراض سر اٹھا رہے ہیں پاکستان کو غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بے روزگاری میں اضافہ کی وجہ سے افراتفری میں اضافہ ہو سکتا ہے پاکستان کے دشمن ملک میں امن و امان کا مسئلہ کھڑا کر سکتے ہیں لیکن ہمارے حکمت کاروں کو یہ معاملات معمولی لگتے ہیں لیکن ہمیں سب سے بڑا مسئلہ آرمی چیف کی تعیناتی کا معلوم ہوتا ہے ہمارے سیاسی افق پر سب سے زیادہ زیر بحث ایشو نومبر میں ہونے والی تعیناتی ہے یہ بھی پتہ نہیں کہ موجودہ آرمی چیف کو ایکسٹنشن دی جاتی ہے یا کوئی نیا آرمی چیف تعینات ہو گا اس کا فیصلہ کس نے کرنا ہے اور کس خوش نصیب کو یہ سعادت نصیب ہوتی ہے کہ وہ اس معاملہ کی سمری پر دستخط کرے ملک بھر کی جمہوری سیاسی جماعتیں نومبر میں ہونے والی تعیناتی پر نظریں جمائی بیٹھی ہیں گویا مستقبل کی سیاست نے نومبر کی تعیناتی سے جنم لینا ہے سیاسی چالیں محض اس لیے چلی جا رہی ہیں کہ ہر سیاسی جماعت یہ تعیناتی اپنے ہاتھوں سے کرنے کا شرف حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ اس مبارک کام کی انجام دہی سے آئیندہ سیٹ اپ کے لیے فیوض وبرکات حاصل کر سکے جس ملک کی ساری سیاست کا مرکز ومحور ایک تعیناتی سے جڑا ہوا ہو اس ملک کی جمہوریت کے روشن مستقبل کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں ہر سیاسی جماعت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ میں پیا کے زیادہ قریب ہوں اور آپس میں سوتنوں کی طرح لڑ رہی ہیں میاں شہباز شریف چاہتے ہیں آرمی چیف ان کی مرضی کا ہو آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن کی خواہش ہے کہ ان کی مرضی چلے عمران خان چاہتے ہیں بے شک اگلے الیکشن تک موجودہ آرمی چیف کو برقرار رکھا جائے لیکن اگلے آرمی چیف کا فیصلہ وہ خود کریں بنیادی طور پر یہ منافقوں کا معاشرہ بے جہاں حقیقتوں سے نظریں چرا کر خیالی پلاو پکانا قومی مشغلہ ہے ہم لوگوں کو چنے بو کر چاول کی فصل کاٹنے کے خواب دکھا رہے ہوتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جسے ہم جمہوری نظام کہہ کر جمہور پر کاٹھی ڈالتے ہیں وہ نام نہاد جمہوری نظام اس ملک میں مکمل طور پر فلاپ ہو چکا ہے پون صدی سے ہم اسی سے بہتری کی توقع لگائے بیٹھے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نظام ہمارے گلے کا پھندا بنتا جا رہا ہے دنیا میں مختلف نظام کامیابی سے چل رہے ہیں کہیں بادشاہتیں بڑی کامیابی کے ساتھ ڈلیور کر رہی ہیں کہیں صدارتی نظام کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہا ہے اور کہیں جمہوری سسٹم مختلف رنگوں میں اپنی بہاریں دکھا رہا ہے لیکن پاکستان میں موجودہ جمہوری نظام ہمارے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا اس میں جمہور لاتعلق ہو کر رہ گئے ہیں تو بہتری اسی میں ہے کہ اگر ہمیں یہ راس نہیں آ رہا تو ہم اس کو تبدیل کر کے دیکھ لیں لیکن ہم اسی بانجھ قسم کے نظام سے توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ اللہ کو منظور ہوا تو اسی میں سے بچہ پیدا ہو گا حقیقت یہ ہے کہ ہم چہرے بدلنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کر رہے بلکہ ہرآنے والا دن ہمارے لیے مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے میرے خیال میں تو الیکشن کی بجائے ریفرنڈم ہونا چاہیے جس میں بنیادی چیزوں پر عوام کی رائے حاصل کر کے ملک کو ان اصولوں کے مطابق چلایا جائے جس میں ترمیم کا اختیار بھی کسی کے پاس نہ ہو اب موجودہ پارلیمانی نظام پر وقت ضائع کرنے کی بجائے ہمیں متناسب نمائندگی یا صدارتی نظام کی طرف جانا چاہیے بہر حال یہ ابھی اکیڈمک بحث ہے ابھی ہم موجودہ صورتحال پر بات کر لیتے ہیں کہا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقات ہو چکی اور حالات بدل رہے ہیں یہ ملاقات کوئی پندرہ دن پہلے کی ہے جو بہت بڑا بریک تھرو ہے تحریک انصاف عوام میں پاپولر ہونے کے باوجود طاقتور حلقوں میں اپنی جگہ نہیں بنا پا رہی تھی اب کہا جا رہا ہے کہ کافی حد تک برف پگل چکی ہے لیکن ابھی تک کوئی بات واضح نہیں کہ مستقبل کا سیٹ اپ کیا بن رہا ہے اس سیٹ اپ بارے فیصلہ نومبر کی تقرری کے بعد ہو گا لیکن تحریک انصاف جس کے راستے بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی تھی اس میں کئی لوگوں کی خواہشوں اور کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔

عمران خان کے خلاف نااہلی یا گرفتاری کا کام سست پڑ چکا ہے بظاہر سیلاب کو وجہ بنا کر ضمنی الیکشن ملتوی کیے گئے ہیں لیکن اس کے محرکات کچھ اور ہیں وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کے 9حلقوں میں الیکشن کروا کر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی وہ الٹ پڑ گئی ہے اور اب شاید ضمنی انتخابات کی نوبت نہ آئے کیونکہ ان انتخابات کے بعد حکومت کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا اور عمران خان زیادہ نشستوں پر جیت کر حلف نہیں اٹھاتا تو کیا پوزیشن ہو گی اگر دوبارہ الیکشن میں جاتے ہیں تو کیا ہو گا عمران کی چال نے ضمنی الیکشن بے معنی کر دیے ہیں جنرل الیکشن کے قریب ضمنی الیکشنوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی دوسری جانب عمران خان نے آرمی چیف کی تعیناتی بارے خوبصورت سٹروک کھیل کر سب کو مشکل میں پھنسا دیا ہے اور حکومت کی ساری حکمت عملی پر پانی پھیر دیا ہے اب نئے سرے سے معاملات جوڑے جا رہے ہیں پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کا ن لیگ کا مطالبہ زیر بحث ضرور آیا تھا لیکن وہ ٹھس ہو چکا اب شاید میاں نواز شریف کی وطن واپسی بھی ممکن نہ رہے شہباز شریف کو بہت سارے ملبے کے ساتھ خود ہی لڑائی لڑنی پڑے معاملات تیزی کے ساتھ نئے انتخابات کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن اب اس سال انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہا اگر آج بھی معاملات طے پا جائیں تو پھر بھی نگران حکومت کو الیکشن کروانے کے لیے تین ماہ درکار ہوں گے لہذا یہ الیکشن جنوری فروری سے پہلے ممکن ہی نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ مارچ اپریل سے پہلے الیکشن نہیں ہوں گے لیکن بات پھر وہی ہے تمام تر فیصلے ایک بڑے فیصلہ کے بعد ہی ہوں گے دیکھیں اور انتظار کریں ابھی تو سیاسی جماعتوں میں حب الوطنی کے اعلی معیار پر فائز ہونے کی جنگ جاری ہے جس سیاسی جماعت کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ yes ہو جاتی ہے وہ حب الوطنی کے اعلی معیار کو چھو جاتی ہے ویسے یہ حب الوطنی مختلف سیاسی جماعتوں میں ٹریول کرتی رہتی ہے البتہ پہلے پہل اس کی رفتار بہت سست تھی ایک جماعت سے دوسری جماعت میں منتقل ہونے کے لیے دہائیوں کا سفر طے کرنا پڑتا تھا اب رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ سالوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بات مہینوں پر آگئی ہے اور فیصلہ کن مہینے بھی قریب آ گئے ہیں البتہ وفاق اور پنجاب حکومت کتنے دن برقرار رکھنی ہے اس کا فیصلہ چوہدریوں کے ہاتھ میں ہے جس دن چوہدری شجاعت حسین نے اپنے دوبندے وفاقی حکومت سے نکال لیے اس دن میاں شہباز شریف کی حکومت کا دھڑن تختہ یو جائے گا اور جس دن چاہیں گے پنجاب میں چوہدری پرویز الہی اپنی حکومت خود ہی توڑ دیں گے اس لیے زیادہ جمع تفریق کی ضرورت نہیں جس دن فیصلہ ہو گیا کہ اب الیکشن میں جانا ہے اس کے ایک ہفتے میں سارا کچھ لپیٹ لیا جائے گا جمہوری سیاسی استحکام کی کنجی اہم طاقتور پوسٹ پر تعینات ہونے والی شخصیت کے ہاتھ میں ہے۔