باجوہ سب سے بڑا سیاستدان نکلا

جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب جس دن سے رخصت ہوئے اس روز سے انفارمیشن کا ایک طوفان امڈ آیا ہے بلکہ ان کی رخصت کا یقین ہونے کے ساتھ ہی گولہ باری شروع ہو گئی تھی لیکن ان کے جانے کے بعد تو ہر کوئی ایسی ایسی باتیں کر رہا ہے ایسے لگتا ہے جیسے جنرل باجوہ کے ہاتھ میں کوئی جادو کی چھڑی تھی وہ جس طرف گھوماتے تھے سب تہہ تیغ ہو جاتے تھے سیاستدان تو ایسے کھلونے معلوم ہوتے ہیں وہ جس کو چابی دیتے تھے وہ پرفارم کرنا شروع کر دیتا تھا یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں جنرل باجوہ نے جس سیاستدان کو جیسے چاہا استعمال کیا استعمال ہونے والے سیاستدان اب اپنی اپنی بولیاں بول رہے ہیں جنرل قمر جاوید باجوہ کو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سنیر جرنیلوں کو نظرانداز کر کے آرمی چیف بنایا تھا خیال ان کا تھا کہ اب سب خیر ہے وہ جنرل راحیل شریف سے کافی خفا تھے اس لیے انھوں نے جنرل راحیل شریف کو مدت ملازمت میں توسیع نہ دی سنا ہے کہ وہ خود بھی توسیع نہیں لینا چاہتے تھے ورنہ وہ توسیع کے لیے حالات پیدا کر سکتے تھے میاں نواز شریف نے اپنی خواہش کے مطابق جنرل باجوہ کو آرمی چیف بنایا لیکن ان ہی کے دور میں میاں صاحب نہ صرف اقتدار سے باہر ہوئے بلکہ انھیں جیل بھی جانا پڑا پھر ہم نے دیکھا کہ میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی نے جو ڈونگرے جنرل باجوہ پر برسائے وہ تاریخ کا حصہ ہیں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پوری مہم چلائی گئی جنرل باجوہ کی ہی مہربانی سے میاں نواز شریف جیل سے علاج کی غرض سے بیرون ملک گئے بقول مخالف سیاستدانوں کے عمران خان کو اقتدار کی راہ دکھانے والے بھی باجوہ صاحب ہیں اور اقتدار سے رخصت کرنے میں بھی باجوہ صاحب کا ہاتھ ہے کہا جاتا ہے کہ عمران خان کی حکومت بنوانے کے لیے بااثر امیدواروں کو تحریک انصاف کی راہ دکھانے میں پراسرار فون کالوں کا بڑا عمل دخل تھا پھر حکومت سازی میں نمبرز پورے کرنے کے لیے اتحادیوں کو جوڑنے میں بھی ٹیلیفون کالوں کا جادو چلا صادق سنجرانی کو اقلیت میں ہونے کے باوجود چیرمین سینٹ بنوانا جادو گری کا شاہکار تھا قومی اسمبلی میں واضح حکومتی اکثریت کے باوجود سینٹ کے انتخاب میں حکومتی امیدوار کی ہار اور یوسف رضا گیلانی کی جیت عمران خان کو واضح اشارہ تھا کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے عمران خان کو جھٹکا دے کر اعتماد کا ووٹ دلوانا بھی حکمت تھی۔

علیم خان کو وزیر اعلی نہ بنا کر عمران خان نے اپنے لیے گہرے گھڑے کھود لیے تھے پی ڈی ایم ٹوٹنے کے باوجود جوڑ کر عدم اعتماد لانا بھی فن سیاست کا اعلی نمونہ تھا حکومت کے ساتھ جینے مرنے کے عہدوپیماں کرنے والے اتحادیوں کا حکومت سے علیحدہ ہونا اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف عدم اعتماد کو کامیاب بنانا پاکستان کی سیاسی تاریخ کی شاہکار چال تھی اب راز کھل رہے ہیں کہ مونس الہی کو باجوہ صاحب نے کہا تھا کہ عمران خان کے ساتھ چلے جاو کوئی چوہدری شجاعت حسین سے بھی پوچھ لے کہ کہیں انھیں باجوہ صاحب نے تو نہیں کہا تھا کہ شہباز شریف کی حکومت نہیں بن رہی دو ووٹ درکار ہیں آپ سالک اور چیمہ کو کہیں پی ڈی ایم کے ساتھ چلے جائیں چوہدری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ باجوہ صاحب نے راستہ دکھایا اب عمران خان صاحب کہہ رہے ہیں کہ جنرل باجوہ کو توسیع دینا ان کی غلطی تھی وہ صیح اندازہ نہیں لگا سکے باجوہ صاحب نے انھیں دھوکہ دیا ہے سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر سارے انڈے ایک ٹوکری میں رکھنا مقصود نہیں تھا تو حمزہ شہباز کی پنجاب میں کیوں حکومت بننے دی گئی اور پھر ان کی حکومت ختم کر کے پرویز الہی کی حکومت کیوں بنوائی گئی جنرل باجوہ کے مشوروں کے جو باجے بج رہے ہیں اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ وہ سب کے پیر بھائی تھے لیکن خود بہت بڑے پیر سیاست نکلے بوٹا تو کہتا ہے کہ مجھے تو باجوہ کے تعریفی بیانات کے پیچھے کسی کمپنی کی مشھوری لگتی ہے اگر سارا کچھ کہیں اور سے ہی ہونا تھا تو ہمارے سیاستدان کیا بیچ رہے تھے کیا ہمارے سیاستدان روٹی کو چوچی بولتے ہیں جو جس طرف ہانکتا ہے یہ اسی طرف بھاگے چلے جاتے ہیں کیا ان کے پاس اپنی کوئی سوچ نہیں اگر ان کی بات مان لی جائے کہ ان کو کام کرنے کے لیے فری ہینڈ نہیں دیا گیا یہ اتنے بے بس اور مجبور ہیں تو پھر انھیں سیاست نہیں کوئی اور کام کر لینا چاہیے اگر باجوہ صاحب کی خواہش تھی کہ علیم خان وزیر اعلی پنجاب بنیں تو وہ اپنی خواہش تو پوری نہ کر سکے لیکن دوسروں کی خواہشات پوری کرنے کے لیے ان کی مدد ضرور کرتے رہے وہ اتنے طاقتور تھے کہ رجیم چینج کروا دی لیکن اپنی مدت ملازمت میں مزید توسیع نہ لے سکے باجوہ صاحب تو اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی وضاحت تک نہیں کر سکتے دراصل ہمارے تمام سیاستدانوں نے اسٹیبلشمنٹ کو ایک ہوا بنا رکھا ہے وہ ہر برائی ان کے کھاتے میں ڈال کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی یہ تاثر دے کر کہ ہمارے ان سے تعلقات ہیں، ہمارا عوامی دباو ہے، ہم زیادہ فرمانبردار ہیں، ہم وقت کی ضرورت ہیں آخر کب تک ہم ڈھکوسلوں پر سیاست کرتے رہیں گے سیاستدانوں کی ناکامی کی وجہ مداخلت نہیں ڈیلورنس کا نہ ہونا ہے ہمارے سارے سیاستدان نہ منشور پر بات کرتے ہیں نہ عوام کی خدمت کی سیاست کرتے ہیں صرف ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست کرتے ہیں سب کی سیاسی روزی الزام تراشی پر چلتی ہے خدارا اب ملک وقوم کے مسائل کو سمجھ کر ان کے حل کی طرف آئیں